خان حکومت کا انجام!

کیا آج عوام کا کوئی ایک ایسا حقیقی قائد موجود ہے جو ان کی پریشانیوں اور تکالیف کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مسیحائی کر سکے۔ فی الحال تو عمران خان مخالف سیاسی صفوں میں اس کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔

صدر پاکستان ایوب خان  دسمبر 1965 میں نیویارک میں اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے بعد خوشگوار موڈ میں۔ ان کی حکومت کے آخری دو تین سالوں میں رفتہ رفتہ جب اشیائے صرف مہنگی ہونا شروع ہوئیں تو جنرل ایوب کے خلاف عوامی غیض و غضب بھی اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گیا (اے ایف پی)

اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان سابق فیلڈ مارشل صدر جنرل ایوب خان سے بےحد متاثر نظر آنے لگے۔ کوئی موقع ایسا نہیں جاتا تھا کہ وزیراعظم جنرل ایوب کے دس سالہ دور کی مثال نہ دیتے ہوں اور اس دور کی ترقی اور خوشحالی کا ذکر نہ کرتے ہوں۔

لازمی گمان تو پھر یہی رکھنا چاہیے کہ خان صاحب نے جنرل ایوب کے دورِ حکومت کا بغور تاریخی مطالعہ بھی کر رکھا ہو گا اور یقیناً یہ بھی جانتے ہوں گے کہ جنرل ایوب کی حکومت اپنے انجام کو کیسے پہنچی۔

جنرل ایوب نے ایک طویل عرصہ مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کی۔ ان کے دور میں اول اول تو عوامی فلاح کے کچھ اچھےکام بھی ہوئے لیکن طویل داستان کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو آخرِ کار دو چیزیں جنرل ایوب کے عشرۂ ترقی کے عبرت ناک زوال کا باعث بن گئیں؛ آٹا اور چینی۔

جنرل ایوب کی حکومت کے شروع کے سات آٹھ سال میں تو اشیائے ضرورت کی قیمتیں سستی اور عوام کی پہنچ کے اندر رہیں لیکن آخری دو تین سالوں میں رفتہ رفتہ جب اشیائے صرف مہنگی ہونا شروع ہوئیں تو جنرل ایوب کے خلاف عوامی غیض و غضب بھی اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گیا۔ اس زمانے میں جب آٹا اٹھارہ روپے فی من سے بڑھ کر بیس روپے ہو گیا تو لوگوں میں بےچینی کی لہر وقت کے مقبول عوامی شاعر حبیب جالب نے بھی محسوس کی اور ان کی مشہور نظم تخلیق ہوئی:

بیس روپے من آٹا

اس پر بھی ہے سناٹا

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

صدر ایوب زندہ باد

مشاعروں، عوامی بیٹھکوں اور جلسوں میں حبیب جالب جب یہ نظم پڑھتے تو عوام جوشیلے ہو کر جنرل ایوب کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دیتے۔ پہلے آٹا مہنگا ہونا شروع ہوا، رفتہ رفتہ دیگر کھانے پینے کی اشیا مثلاً دالیں، چاول، گھی اور میدہ بھی مہنگا اور عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگا۔

لیکن آخری کیل تو تب ٹھونکی گئی جب جنرل ایوب کی حکومت میں چینی بھی چار آنے مہنگی ہو گئی۔ پھر تو گویا عوام کے صبر کا پیمانہ بالکل ہی لبریز ہو گیا۔ پورے ملک میں جنرل ایوب کے خلاف ’چینی چور‘ کے نعرے لگنا شروع ہو گئے۔

یہ غالباً پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی حکمران کے خلاف ’چینی چور‘ کے عوامی نعرے لگنے کا آغاز ہوا۔ ملک بھر میں جنرل ایوب کے خلاف ایک فضا پیدا ہو گئی جس میں جلتی پر تیل کا کام ذوالفقار بھٹو کی سیاسی تحریک نے ادا کیا۔

پورے پاکستان میں جنرل ایوب کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے مقبول ہونے لگے۔ ان جلسوں میں مہنگائی، حکومتی نااہلی، ناکام خارجہ پالیسی، بھارت کے خلاف جنگ اور معاہدوں میں جنرل ایوب کی حکومت کی ناکامیابی اور قومی مفادات کے مخالف اقدامات کو اجاگر کیا جانے لگا۔

صرف یہ ہی نہیں، ایوب مخالف جماعتوں نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قدر اور بیرونی قرضے حاصل کرنے کے معاملے کو بھی اپنی تحریک کے لیے بطور ایندھن استعمال کیا۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی جوشیلی حکومت مخالف تحریک، دوسری جانب سی او پی (کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز) کے تحت جماعتوں کے بھی حکومت مخالف جلسے۔

اسی طرح نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میں بننے والی ڈی اے سی (ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی)، مولانا مودودی کی تقاریر، شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں مشرقی پاکستان میں حکومت مخالف تحریک، احتجاج میں طلبہ کا شامل ہونا اور ایک طالب علم کی ان مظاہروں میں ہلاکت، ان تمام عناصر نے مل کر ایسی مضبوط اور جاندار فضا قائم کر دی کہ ایک طرف مہنگائی اور دوسری جانب مخالف اور کامیاب سیاسی تحریک کے سامنے جنرل ایوب حکومت کے پہلے سے لرزتے پاؤں اکھڑ گئے  اور آخرِکار اس کا نتیجہ جنرل ایوب کے استعفے پر نکلا۔

کچھ مؤرخین کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے بھی جنرل ایوب کےخلاف شروع ہونے والی اس تحریک کے حمایتی اور سپورٹر تھے۔

کیا وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا انجام بھی جنرل ایوب خان جیسا ہی ہو گا؟ دیکھا جائے تو حالات و واقعات میں بظاہر حیران کن مماثلت ملتی ہے۔ وہی آٹا، چینی، دال، چاول سمیت اشیائے ضرورت کا بحران اور مہنگائی، وہی معاشی حالات کا دگرگوں ہونا، روپے کی گرتی اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر، قرضہ جات کا انبار، قومی مفادات کے منافی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے الزامات، وہی اندرونِ خانہ حکومتی محلّاتی سازشیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے گویا انسان جس سے متاثر ہو اسی کا پرتو بن گیا ہو۔ لیکن بات یہیں تک رکھنے سے یہ محض تصویر کا ایک ہی رخ رہ جائے گا۔ تصویر کا دوسرا رخ جنرل ایوب کے خلاف فعال، متحرک، عوامی اپوزیشن تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا آج کی اپوزیشن میں ایسا دَم خَم ہے کہ وہ کسی جمہوری احتجاج کا آغاز کر سکے اور اسے ایک کامیاب تحریک میں ڈھال سکے۔ کیا آج عوام کا کوئی ایک ایسا حقیقی قائد موجود ہے جو ان کی پریشانیوں اور تکالیف کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مسیحائی کر سکے۔ فی الحال تو عمران خان مخالف سیاسی صفوں میں اس کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔

اپوزیشن تو گذشتہ تین سال میں ایسی بانجھ ہوئی ہے کہ دور دور تک کوئی امید نظر نہیں آتی اور یہی خان حکومت کی تاحال بقا کی بہت بڑی وجہ بھی ہے۔ جس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ حکومت مستقل عوام پر مہنگائی اور بیڈ گورننس کے پہاڑ توڑے چلی جا رہی ہے اس کے عقب میں یہی اعتماد کارفرما ہے کہ حکومت کی پوچھ گچھ کرنے والا اور احتساب رکھنے والا کوئی ایک عنصر بھی اپنا کام انجام نہیں دے رہا۔ حزب اختلاف نے تو گویا فرینڈلی میچ کھیلتے ہوئے حکومت کو فری ہینڈ دے رکھا ہے اور احتجاج کو محض ٹوئٹر تک بطور فیشن ہی اپنا رکھا ہے۔

لیکن عوام کے صبر کا پیمانہ بظاہر اب لبریز ہو چکا ہے۔ ملک میں بےچینی اور انتشار کی فضا مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔ غریب کی غربت اب اس کے بچوں کا شکار کرنے پر اتر آئی ہے اور وہ وقت اب دور نہیں جب احتساب کے لیے عوام کا ہاتھ ہو اور ایوانِ اقتدار میں پلتی ہوئی موٹی موٹی گردنیں ان کا نشانہ ہوں۔

جس دن عوامی طاقت کے اس سیلِ بلاخیز نے اعلی ایوانوں کا رخ کر لیا تب ہی اصل احتساب ہو گا۔ وہی یومِ حساب ہو گا اور وہ دن اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے اب زیادہ دور نہیں۔

وزیراعظم عمران خان، صدر ایوب خان کی حکومت کے انجام کو ضرور یاد رکھیں۔


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی آرا اور تجزیے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ