امریکہ کا پاکستان کے نامزد سفیر مسعود خان کی تعیناتی پر اتفاق

مسعود خان تجربہ کار سفارت کار ہیں اور انہوں نے اپنے کیرئیر کا زیادہ تر حصہ چین، امریکہ، اور اقوام متحدہ میں سفارت کاری میں گزارا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سرد مہری کی گہرائیوں سے نکالنا ان کا امتحان ہو گا۔

مسعود خان نے اپنے کرئیر کا زیادہ تر حصہ چین، امریکہ اور سوئزلینڈ میں گزارا۔ چین میں ان کی خدمات کے پیش نظر گذشتہ سال چینی صدر نے انہیں اعلیٰ ترین چینی ایوارڈ سے نوازا(اے ایف پی)

پاکستانی وزارت خارجہ نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے واشنگٹن ڈی سی کے لیے نامزد پاکستانی سفیر مسعود خان کی تعیناتی پر اتفاق کر لیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مونا خان سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مسعود خان کی امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعیناتی پر اتفاق ظاہر کر دیا ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفیراسد مجید خان کی تین سالہ مدت جنوری 2022 میں مکمل ہو گئی ہے جس کے بعد مسعود خان اس ذمہ داری کو سنبھالیں گے۔

 مسعود خان سفارت کاری اور ثالثی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل وہ چین میں پاکستانی سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کی نمائندگی کی اور جنوری 2013 میں وہ سلامتی کونسل کے صدر بھی رہے۔

مسعود خان نے اپنے کیرئیر کا زیادہ تر حصہ چین، امریکہ اور سوئزلینڈ میں گزارا ہے۔ چین میں ان کی خدمات کے پیش نظر گذشتہ سال چینی صدر نے انہیں اعلیٰ ترین چینی ایوارڈ سے نوازا تھا۔

مسعود خان میڈیا مینجمنٹ کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ یہ صلاحیت انہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے طور پر حاصل کی تھی۔ میڈیا کی جانب سے کسی بھی کال پر وہ پہلے ریڈیو کے صحافی سے پوچھ لیا کرتے تھے کہ آپ کو ایک، دو یا کتنے منٹ کی گفتگو چاہیے تاکہ وہ اتنی ہی بات کریں۔ اپنی نپی تلی گفتگو کی وجہ سے ان سے منسلک کوئی تنازع یا متنازعہ بیان کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر کے طور پر بھی انہوں نے قومی اور عالمی ذرائع ابلاغ سے پیشہ ورانہ تعلقات بنائے رکھے، خاص طور پر پانچ اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد مسعود خان نے پاکستان کے اس حوالے سے موقف کو ذرائع ابلاغ تک پہنچایا تھا۔

مسعود خان انگریزی اور اردو کے ساتھ ساتھ چینی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں اور اپنی ابلاغی صلاحیتوں کی وجہ سے نوجوانوں، صحافیوں، سفارت کاروں کو اپنے گرد جمع رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اپنے عرصہ صدارت کے دوران وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرکاری یونیورسٹیوں کے چانسلر رہے اور اس دوران انہوں نے نوجوان طلبہ و طالبات کو تنازع کشمیر کے حوالے سے کافی متحرک رکھا۔

مسعود خان ایک بااعتماد سفارت کار سمجھے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ہمیشہ اہم اور حساس ترین ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ وہ تمام اہم ریاستی اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان امریکہ تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ میں منیر اکرم کی بطور مستقل مندوب تعیناتی اور مسعود خان کی امریکہ میں سفیر کے طور پر نامزدگی ظاہر کرتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان دونوں اہم عہدوں پر ان کی موجودگی سے مطمئن ہے۔

مسعود خان کی امریکہ میں پاکستانی سفیر کے طور پر نامزدگی ایک ایسے مرحلے پر ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سرد مہری کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب رہنے سے قبل مسعود خان 1997 سے 2002 تک واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے مختلف عہدوں پر تعینات رہے۔ امریکہ میں ایک دہائی سے زائد عرصہ قیام کے دوران مسعود خان نے امریکہ میں مقیم با اثر پاکستانی اور کشمیری خاندانوں کے ساتھ ساتھ بعض بھارتی با اثر شخصیات اور خاندانوں سے بھی مراسم پیدا کیے اور ان تعلقات کو پاکستان کے سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسعود خان کے ایک قریبی شخص کا دعویٰ ہے کہ ان شخصیات میں امریکی نائب صدر کاملہ ہیرس اور کشمیری نژاد امریکی وکیل اور جو بائیڈن انتظامیہ کی اہم عہدیدار سمیرا فاضلی بھی شامل ہیں۔ ان کی حالیہ نامزدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

مسعود خان کے کشمیری پس منظر کے سبب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تعیناتی سے تنازع کشمیر کے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے میں امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات سرد مہری کی جس سطح پر جا چکے ہیں، مسعود خان کو کوئی خاطر خواہ کامیابی ملنا فی الحال ممکن نظر نہیں آ رہا۔

مسعود خان نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر راولاکوٹ سے حاصل کی۔ راولپنڈی کے گورڈن کالج سے انگریزی زبان میں ایم اے کیا اور سول سروس کا امتحان پاس کر کے محکمہ خارجہ میں شامل ہوئے جہاں ان کی پہلی تقرری ہی بیجنگ میں پاکستان سفارت خانے میں ہوئی۔

مسعود خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر سردار ابراہیم خان کے بھتیجے ہیں۔ ان کے والد پاکستانی فوج میں صوبیدار جبکہ دادا اپنے علاقے کی معروف مذہبی و سماجی شخصیت اور آبائی گاؤں کوٹ متے خان کے پیش امام تھے۔

مسعود خان اوائل عمری میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے اور اس دوران وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن پر انگریزی زبان کے نیوز کاسٹر اور میزبان کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

محکمہ خارجہ میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوتے ہی انہیں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کا سربراہ  بنا دیا گیا اور 2016 میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا صدر نامزد کیا۔ یہ نامزدگی کافی تنازعات کا شکار رہی کیونکہ مسعود خان کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی حلقے میں ووٹ درج تھا اور نہ ان کے پاس کشمیر کا مستقل باشندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ۔ تاہم آئینی تقاضے پورا کرنے کے لیے عدالت نے ان کا ووٹ خصوصی طور پر درج کرنے کا حکم دیا۔

اس نامزدگی پر سب سے زیادہ اعتراض مسعود خان کے بھتیجے اور مرحوم سیاسی رہنما سردار خالد ابراہیم کو رہا کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے سردار خالد ابراہیم کو صدر بنانے کی شرط پر ان کی جماعت سے انتخابی اتحاد کیا تھا۔

مسعود خان اپنے عرصہ صدارت کے دوران بھی بعض تنازعات کا شکار رہے اور برطانیہ میں ناچ گانے کی ایک محفل میں شرکت پر انہیں سخت تنقید کا سامنا رہا۔ ان پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی یونیورسٹیوں میں اپنے عزیز بھرتی کرنے کا بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ان کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی کہ صدارت کے بعد انہیں سفارت کار کا عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ صدر کے عہدے کی بے توقیری جیسا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان