علامہ اقبال کی تصویر کیوں لگائی؟ بنارس ہندو یونیورسٹی میں تنازع

بنارس کی یونیورسٹی نے اقبال کے یومِ پیدائش کے موقعے پر پوسٹر پر علامہ اقبال کی تصویر چھاپی تو اس پر سخت گیر طلبہ تنظیموں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

شعبۂ اردو نے پوسٹر پر اقبال کی تصویر پر معافی مانگ کر کہا کہ یہ ’نادانستہ غلطی‘ تھی (وکی میڈیا کامنز)

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی (سابق نام بنارس) میں واقع بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو ایک پوسٹر پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی تصویر استعمال کرنے پر معافی مانگنی پڑی ہے۔

دراصل بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر (یعنی نو نومبر کو) منائے جانے والے ’یوم اردو‘ کے موقعے پر ایک روزہ ویبی نار (آن لائن تقریب) منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شعبہ اردو نے جب اس مجوزہ ویبی نار کا پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور دیگر ہم خیال طلبہ تنظیموں نے اس پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ شعبہ اردو نے پوسٹر پر بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی پنڈت مدن موہن مالویہ کی بجائے ’مصورِ پاکستان‘ علامہ اقبال کی تصویر استعمال کی ہے جو انہیں قطعی برداشت نہیں ہے۔

سخت گیر ہندو طلبہ تنظیموں کے سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد شعبہ اردو نے جہاں معافی مانگ کر پوسٹر پر علامہ اقبال کی جگہ پنڈت مدن موہن مالویہ کی تصویر استعمال کی، وہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔

شعبہ اردو نے پوسٹر پر علامہ اقبال کی تصویر استعمال کرنے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نادانستہ غلطی تھی۔

ہندو یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے نظرثانی شدہ یعنی مدن موہن مالویہ کی تصویر والے پوسٹر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا گیا: ’فیلکٹی آف آرٹس کا شعبہ اردو پوسٹر میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ایک ویبی نار کا اہتمام کر رہا ہے۔

’اس سے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پوسٹر میں نادانستہ غلطی کی موجودگی پر ہم معذرت خواہ ہیں۔‘

ذرائع نے بتایا کہ منگل کو ویبی نار بعنوان ’اردو بحیثیت مادری زبان: مسائل اور امکانات‘ کے بعد سخت گیر ہندو طلبہ تنظیموں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے عہدیداروں کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں علامہ اقبال کی تصویر استعمال کرنے والے اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

میمورنڈم میں سخت کارروائی نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں ایک پاکستانی رہنما (علامہ اقبال) کو ’گلوریفائی‘ کرنا افسوس ناک امر ہے۔

ہندو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پبلک ریلیشنز آفیسر چندر شیکھر گواری کے مطابق طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’شعبہ اردو کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ویبینار کے ای پوسٹر، جو تنازعے کا سبب بنا ہے، کے متعلق حقائق کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر کے ایم پانڈے اس کمیٹی کی سرپرستی کے فرائض انجام دیں گے۔‘

’میں نے معذرت کا اظہار کیا‘

بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کر دی ہے۔

’ایک استاد کا بنیادی کام پڑھانا ہے۔ سیاست سے ہمارا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں یوم اردو پر ایک ویبی نار کا اہتمام کرنا تھا، سو ہم نے کیا۔ چوں کہ آن لائن تھا تو کوئی بھیڑ بھی جمع نہیں تھی۔

’تنازعے پر میرا فی الحال بات کرنا مناسب نہیں ہے کیوں کہ یونیورسٹی نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے مجھ سے رپورٹ مانگی جو میں نے پیش کی ہے۔‘

قبل ازیں پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ جوں ہی مجھے ’بعض لوگوں‘ کی طرف سے اعتراض کرنے کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے اسی وقت معذرت کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ پوسٹر سے علامہ اقبال کی تصویر کو ہٹا کر پنڈت مدن موہن مالویہ جی کی تصویر لگا دی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس پوسٹر کو کسی طالب علم نے فیس بک پر شیئر کیا تھا، میں نے اس کو پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تاہم یہ میری ذمہ داری ہے خواہ اس کو طالب علم نے ہی شیئر کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ تقسیم ملک کے بعد علامہ اقبال نے پاکستان ہجرت کی تھی تاہم میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اقبال کی رحلت تقسیم ملک سے سات برس قبل سنہ 1938 میں ہی واقع ہوئی تھی۔ ہم اقبال کو ایک شاعر اور مصنف کی حیثیت سے پڑھا رہے ہیں جنہوں نے ترانہ ہندی ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ لکھا۔ ان کی تعلیمات کو یونیورسٹیوں میں ہندی زبان میں بھی پڑھایا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’کوئی ولیم شیکسپیئر کو پڑھنے سے برطانوی نہیں ہو جاتا ہے، اقبال نے بھگوان رام کو امام ہند قرار دیا تھا۔‘

شعبہ اردو کے سربراہ نے کہا ہے کہ منگل کو منعقدہ اس ویبی نار میں بھارت بھر سے سکالروں اور طلبہ نے شرکت کی ہے۔

’اس کا مقصد اردو سیکھنے اور اردو تعلیم کے متعلق بیداری کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ہر تقریب مالویہ جی کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہی شروع ہو جاتی ہے ہم نے ان کی ہمیشہ عزت کی ہے۔‘

’مذہبی ایجنڈا تھوپنے کی کوشش‘

سخت گیر ہندو طلبہ تنظیم سے وابستہ پتن جلی پانڈے نے منگل کو ہندو یونیورسٹی کی انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایسے پروگراموں کی آڑ میں کچھ طاقتیں اپنا مذہبی ایجنڈا تھوپنے کی کوشش کرتی ہیں۔

’اس پروگرام کو خفیہ طور پر منعقد کیا جا رہا تھا۔ اس کی جانکاری یونیورسٹی کو نہیں دی گئی تھی۔ ہمیں ڈین صاحب نے بھی بتایا کہ انہیں اس کی جانکاری نہیں تھی۔‘

گنجیش گوتم نامی ایک طالب نے دعویٰ کیا کہ ہندو یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مدن موہن مالویہ کی تصویر کسی پوسٹر سے غائب پائی گئی ہے۔

’اس پروگرام کے پوسٹر میں سب سے قابل اعتراض بات یہ تھی کہ اس سے یونیورسٹی کے بانی پنڈت مالویہ جی کی تصویر غائب تھی۔ ان لوگوں نے اس کو غلطی کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد ان کی دوسری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس پوسٹر میں پاکستان کے معمار محمد اقبال کی تصویر کو جگہ دی تھی۔

’جن لوگوں کو اس پروگرام میں بلایا گیا تھا انہوں نے قابل اعتراض باتیں کی ہیں۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پروگرام کے منتظمین کے خلاف سخت کارروائی کریں یا پھر ہمارے احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔‘

بی جے پی رہنما منیش شکلا نے بھارتی ٹی وی چینل ’زی اترپردیش‘ کو بتایا کہ پوسٹر پر علامہ اقبال کی تصویر کا ہونا ایک افسوسناک بات ہے۔

’کچھ طلبہ تنظیموں نے اس پر اعتراض جتایا ہے۔ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ہندو یونیورسٹی کے اندر تعلیم کی بات ہو اور مدن موہن مالویہ جی کی تصویر نہ ہو تو یہ ایک مسئلہ ہے۔ کن حالات میں اور کس نیت سے ایسا ہوا ہے اس کی جانچ ہو گی۔‘

’کوئی غلط بات نہیں تھی‘

اردو کے مصنف اور سابق استاد یعقوب یاور نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ہونے والے ’یوم اردو پروگرام‘ کے پوسٹر پر علامہ اقبال کی تصویر کو  لے کر جس طرح کا اعتراض کیا گیا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔

’بھارت اور ساری دنیا میں اقبال کی تاریخ پیدائش نو نومبر یوم اردو کے طور پر منائی جاتی ہے۔ ایسے میں یوم اردو کے پروگرام میں اقبال کی تصویر دینا کوئی غلط بات نہیں تھی۔

’دعوت نامے میں بائیں جانب یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والا بنارس ہندو یونیورسٹی کا لوگو موجود تھا اور دعوت نامہ اپنے آپ میں مکمل تھا۔ رہی یہ بات کہ اس میں مالویہ جی کی تصویر ہونی چاہیے تھی تو ان کی تصویر دینے میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ البتہ ایسا کرنا لازمی ہے، یہ میرے علم میں نہیں ہے۔

’اس سلسلے میں جہاں تک مجھے علم ہے، یونیورسٹی کی ایسی کوئی پالیسی نہیں رہی ہے۔ مختلف شعبوں میں متعدد ایسے پروگرام ہوئے ہیں، جن میں مالویہ جی کی تصویر نہیں تھی۔ لیکن ان پروگراموں پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔‘

یعقوب یاور نے اپنی دوسری فیس بک پوسٹ کے ساتھ بنارس ہندو یونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ پروگراموں کے پوسٹر بھی شیئر کیے جن میں مدن موہن مالویہ کی تصویر نہیں تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا