ڈرون حملوں کے ذریعے سیاسی پیغام رسانی

ایران کو عراق کی وہی جمہوریت پسند آتی ہے جس میں تہران نواز سیاسی دھڑے عراقی پارلیمنٹ میں زیادہ سے زیادہ نشتیں حاصل کر سکیں۔

7 نومبر 2021 کو عراقی وزیراعظم کے پریس آفس کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج سے لی گئی اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کے بعد ایک تباہ شدہ گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی الصبح بغداد میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اس ’قاتلانہ حملے‘ میں محفوظ رہے تھے (اے ایف پی/عراقی وزیراعظم دفتر)

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ اسماعیل قآنی نے گذشتہ ہفتے بغداد کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد عراق کا ہنگامی دورہ کیا۔

ایرانی رہنما کے دورے کا مقصد الکاظمی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے سیاسی مضمرات سے آگاہ کرنا تھا۔ عراقی وزیراعظم سے اپنی اعلانیہ اور پس پردہ ملاقاتوں میں قآنی نے یہ کام بحسن وخوبی انجام دیا۔

عالمی سیاست کے ادنیٰ طالب علم کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ویانا میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے پہلے الکاظمی کو قاتلانہ حملے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کو فی الوقت ایسی ہی ’بارگینگ چپ‘ کی ضرورت تھی، جسے امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

الکاظمی کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ عراق میں ہونے والے انتخابی عمل سے بغداد کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے اور  یہ کہ 2003 سے  لے کر آج تک عراق کی حیثیت ایرانی مدار میں چلنے والا سیٹلائٹ سے زیادہ نہیں اور فی الحال بغداد کو تہران کے اثرات سے محفوظ بنانا ممکن الحصول خیال نہیں۔

اسماعیل قآنی تمام متعلقہ عراقی حلقوں کو باور کرانے آئے تھے کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کے عراق میں ہاتھ کتنے لمبے ہیں اور وہ اس نفوذ کو قائم رکھنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل جھونکنے کے لیے تیار ہے، جن کا مقابلہ عراق میں بننے والی کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں۔

مصطفیٰ الکاظمی کو بارود سے لدے ڈرون طیاروں کے حملے میں قتل کرنے کی ناکام کوشش میں ملوث کردار ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ حملہ ان کی رہائش گاہ سے 12 کلومیٹر دور جس جگہ سے کیا گیا، وہ بھی کھلا راز ہے۔

عراقی وزیراعظم کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ وہ خود پر کیے جانے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث عناصر کو جانتے ہیں۔ عراقی فورسز کی بروقت کارروائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مصفطیٰ الکاظمی کا کہنا تھا ’کہ اگر ریاست کے سکیورٹی ادارے بر وقت ایکشن نہ لیتے تو باقی دونوں ڈورنز بھی ان کے گھر پر بم گرانے میں دیر نہ لگاتے۔‘

مصطفیٰ الکاظمی کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کے بعد یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ درحقیقت وہی اس وقت عراق کے ایسے قومی رہنما ہیں کہ جو بغداد کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ متوازن تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اکتوبر کے دوران عراق میں ہونے والے انتخابات الکاظمی کی ان ہی صلاحیتوں کا عکس تھے۔

حالیہ عراقی انتخابات میں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے بلاک میں شامل امیدواروں نے ایران نواز ملیشیاؤں کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔ تہران کو الصدر بلاک اور مصطفیٰ الکاظمی کے درمیان تعلق ایک آنکھ نہیں بھاتا کیونکہ اس سے ایک مرتبہ پھر ان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

عراق میں ایران نواز الحشد الشعبی اور ایسی ہی دوسری ملیشیاؤں کی سرگرمیاں مصطفیٰ الکاظمی پر ناکام قاتلانہ حملے اور ناموافق انتخابی نتائج کے بعد دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ایران کو عراق میں وہی جمہوریت پسند آتی ہے جس کے نتیجے میں تہران نواز سیاسی جماعتیں ہی بغداد کی پارلیمنٹ میں رونق افروز ہوں۔ تاہم اگر کوئی دوسرا بڑا انتخابی بلاک اپنے ایجنڈے کے مطابق ملکی مفادات چلانا چاہے تو اس کوشش کو سکینڈل کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ایران کو اس وقت انتہائی مخدوش اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے لیکن پھر بھی وہ عراق میں رسوخ کی کوششوں سے باز نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، لبنان میں اپنے پروردہ گروپوں کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دینے میں عار محسوس نہیں کرتا۔

تہران کی ان ہی کوششوں سے لبنان اور خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں رخنہ پیدا ہوا۔ بیروت کی کابینہ میں عیسائی وزیر شامل کروا کر ایران ثابت کرنا چاہتا ہے کہ لبنان کی حیثیت اس کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی سے زیادہ نہیں اور وہی دراصل لبنان کی چھوٹی سے لے کر بڑی پالیسی کو کنڑول کرتا ہے۔

یمن میں ایرانی مداخلت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تہران، یمنی شہر مآرب پر اپنا حملہ جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کے ہاتھ میں کھیلنے والے حوثی باغی یمن میں اپنا ایجنڈا بآسانی مکمل کر سکیں۔

انہیں مقاصد کی تکمیل کے لیے ایران نے شام کے اندر اپنی مداخلت مضبوط بنیادوں پر استوار کر رکھی ہے۔ تہران نے خطیر رقم خرچ کر کے شام میں آبادی کا تناسب اپنے حق میں تبدیل کیا ہے۔ اس وقت عراق سے دست کش ہونا ایرانی مفاد میں نہ تھا اسی لیے تہران نے اپنے منصوبے پر عمل جاری رکھا۔

مصطفیٰ الکاظمی کو مکمل طور پر زیر نگین رکھنے کے لیے انہیں صاف اور واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ اگر اب بھی عراق میں خود مختاری کے خمار سے باہر نہ نکلے تو ایک مرتبہ پھر بارودی ڈرونز انہیں ’سلامی‘ دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے!!

آنے والے چند ہفتوں میں عراق کا سیاسی منظر نامہ زیادہ پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔ الکاظمی کی قیادت میں عراقی سیاست دانوں کے پاس ایرانی مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا اور راستہ باقی نہیں بچا۔

ایران سمجھتا ہے کہ یہ وقت عراقی معیشت اور معاشرتی بحران پر قابو پانے کے طریقوں پر غور کرنے کا نہیں بلکہ یہ بات سوچنے کا ہے کہ ایران کے ہاتھ کیسے مضبوط کیے جائیں تاکہ وہ امریکہ کے مقابل کھڑا ہو کر واشنگٹن کو اس بات پر مجبور کر سکے کہ ویانا میں تہران کے مطالبات ماننے کے سوا اس کے پاس اور دوسرا راستہ نہیں۔

یقیناً اس وقت ایران کی تمام خارجہ پالیسیوں کا روئے سخن امریکی انتظامیہ کی جانب ہے جس میں تہران یہ جاننے کا خواہش مند ہے کہ واشنگٹن، ویانا میں تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے وقت کیا ردعمل دکھائے گا؟ کیا امریکہ، ایران پر عائد کڑی پابندیاں ختم کرے دے گا؟ کیونکہ اس وقت خود امریکی انتظامیہ کے اندر تہران کی مخدوش صورت حال سے متعلق چہ مگوئیاں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

امریکہ کیا خود سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کی پوزیشن میں ہے؟ ایرانی حکام اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے 40 ملین شہریوں کو فوری مالی تعاون کی اشد ضرورت ہے جبکہ بعض لوگ پاکستان سے تیل اور گیس کے بدلے ایران کے لیے چاول جیسی بنیادی خوراک فراہمی کے اشارے دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی انتخابی عمل میں شکست کی بازگشت دراصل شعیہ نواز تنظیموں کے ذریعے یمن، لبنان، عراق اور شام میں توسیع پسندانہ عزائم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اس منصوبے کے نمایاں ہوتے ہوئے خدوخال میں تباہی اور کمپرسی کے سوا اور کچھ نہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ حقیقت حال سامنے آنے تک عراق، شام، لبنان اور یمن میں بسیار خرابی سے معاملات ہاتھ سے نکل چکے ہوں گے۔ لبنان میں حزب اللہ کے غلبے اور اقتصادی دیوالیہ پن کی وجہ رونما ہونے والے واقعات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں۔

جلد یا بہ دیر عراق کے سامنے دو ہی راستے بچیں گے۔ ایک راستہ فوج سمیت دوسرے ریاستی اداروں کی بحالی اور تعمیر نو سے ہو کر گذرتا ہے کیونکہ اسی فوج نے گذشتہ تین مہینوں کے دوران لبنان میں ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کے لئے بڑا کام کیا ہے۔ دوسرا راستہ ایران نواز الحشد الشعبی ملیشیاؤں کے سامنے مکمل سرینڈر کا ہے۔

اس وقت خطے میں کامیابی کا دار ومدار عراق میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ایران نے ان ہی انتخابی نتائج کو اپنے ڈورنز حملوں کے ذریعے تاراج کرنے کی کوشش کی کیونکہ ’اسلامی جمہوریہ‘صرف اپنے مفاد کی نگہبانی کرنے والے انتخابات کو ہی عوامی رائے کا اظہار سمجھتا ہے، اس کے سامنے امریکی نگرانی میں عراق کی رائج کی جانے والی مہنگی ترین جمہوریت ٹوپی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں!

ایران، عراق میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو ملکی سطح پر اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کے ذریعے وہ امریکہ کو خود پر عائد پابندیاں اٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے، تاہم واشنگٹن اس ضمن میں اگر قیل وقال سے کام لیتا ہے تو ایسے میں مصطفیٰ الکاظمی پر غیرقانونی ڈرونز حملوں کے ذریعے ایران اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل میں ذرا بھی دیر نہیں لگائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ