جنگی کاروبار کے میدان

اب دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاح بھی اپنے معنی کھو چکی بس راج کرتا ہے ’باہو بلی‘ یعنی مضبوط بازو والا ۔۔ اب جنگ یہ ہے کہ مضبوط بازو کس کا ہے؟

جرمنی کے جنوبی شہر میونخ میں جرمن ریڈ کراس آرکائیو میں لاپتہ سابق جرمن فوجیوں کی تصاویر ایک میز پر پڑی ہیں۔ 1914 سے لے کر 1945 کے دوران دو عبرت ناک جنگیں لڑنے کے بعد یورپی قومیں آپس کے اختلافات بھلا چکی ہیں۔ لیکن باقی دنیا مسئلے میں پھنسی ہوئی ہے (اے ایف پی)

دوسری عالمی جنگ کے دوران 1945 میں جرمنی کی شکست کے بعد دنیا کے تین بڑے ملکوں کے سربراہان برلن کی سرحد پہ واقع تاریخی شہر پوٹسڈم میں اکٹھے ہوئے۔ مقبوضہ جرمنی میں 17 جولائی سے دو اگست تک منعقد ہونے والے اس سترہ روزہ اجتماع  کو ’پوٹسڈم کانفرنس‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پچھلی صدی کی اس کانفرنس کا آج کی دنیا کے مسائل سے کیا تعلق ہے؟ تو جناب بہت گہرا اور خوفناک تعلق ہے۔

اس کانفرنس میں امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین، روس کے صدر جوزف سٹالن اور انگلستان کے وزیراعظم ونسٹن چرچل شریک تھے۔ اسی دوران جولائی میں ہی برطانیہ میں انتخابات ہوئے جن میں چرچل کی کنزروٹیو پارٹی ہار گئی اور لیبر پارٹی کے سربراہ کلیمنٹ ایٹلی نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ اس کانفرنس کی باقی کارروائی میں چرچل کی جگہ ایٹلی نے برطانیہ کی نمائندگی کی۔

کانفرنس کے ایجنڈے پر بظاہر تین نکات اہم تھے۔ پہلا یہ کہ یورپ خاص طور پہ جرمنی کی شکست  کے بعد مفتوحہ علاقوں کے انتظامی امور سنبھالنا، دوسرا یہ کہ جنگ سے متاثرہ دیگر علاقوں کا جائزہ اور تیسرا نکتہ تھا جنگ کے بعد کی صورت حال سے نمٹنا۔

اس وقت تک یورپ اتحادی فوجیوں کے ہاتھوں فتح ہو چکا تھا لیکن جاپان نے ہار نہیں مانی تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ دو اگست کو کانفرنس کے خاتمے کے فوراً بعد چھ اور نو اگست کو بالترتیب ہیروشیما اور ناگاساکی پر حقوق انسانی کی چیمپین ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے ایٹم بم برسائے گئے۔ ان حملوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد شہری جل کر بھسم ہو گئے۔ اس وحشت ناک درندگی کے بعد جاپانی فوج نے بھی شکست تسلیم کر لی اور فتح کی سرپٹ بھاگتی شاندار بگھی کی باگ اتحادیوں کے ہاتھ آ گئی۔

اب دنیا کو سدھارنے اور عالمی نظام کو اپنے تابع کرنے کا پورا منصوبہ ان اتحادی فاتح اقوام کے ہاتھ آ گیا۔ دنیا کے نقشے کو ازسر نو ترتیب دینا، مالیاتی نظام کو اپنے شکنجے میں کسنے کے لیے معاشی اشاریوں کا گورکھ دھندا بننا اور امن قائم کرنے اور رکھنے کے لیےبین الاقوامی ادارے تشکیل دینا جیسے کارنامے اسی وقت کی پیداوار ہیں۔

اس وقت تک انگلینڈ، فرانس اور پرتگال جیسے ممالک کی معیشتیں جنگ کے ہاتھوں کمزور ہو چکی تھیں لہذا نو آبادیاتی نظام کو ختم کر کے مفتوحہ علاقوں میں آزادی کے نام پر اپنی مرضی کی تقسیم اور اپنے ممکنہ فائدے کے حساب سے سرحدوں کی لکیریں کھینچنا ایجنڈے کا حصہ بنا۔ اس سے بظاہر نئے ممالک وجود میں آئے لیکن اصل میں ہر اس طاقت کو تقسیم کیا گیا جہاں سے مزاحمت کی گئی تھی یا پھر ان کے سر اٹھانے کا ممکنہ ڈر تھا۔

عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کا قیام، جنہوں نے مالی امداد کے نام پر تیسری دنیا کو اپنے آگے جکھنے پر مجبور کیا، اقوام متحدہ، جس نے اپنے فرائض کے برعکس دنیا میں کہیں بھی جاری کشمکش میں مصالحت کا کردار ادا نہیں کیا۔ درحقیقت اقوام متحدہ کا ادارہ خود تو متحد ہے لیکن آپس میں اختلاف رکھنے والی قوموں کو ایک نہیں ہونے دیتا ۔ متنازع فیصلوں میں طاقتور کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے اور کمزور کی فریاد پہ کان بھی نہیں دھرتا۔ مشترکہ مفادات والے ممالک کے بلاک بنانا اور بوقت ضرورت استعمال کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔

(رہی سہی کسر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار نے پوری کر دی ہے لیکن ان کا کردار ایک الگ موضوع ہے، پھر کبھی سہی۔)

اگر اتحادی ممالک کے گٹھ جوڑ کے ظاہری نکات سے آگے چلیں اور دیکھیں کہ ایجنڈے پر اور کیا رکھا گیا تھا جسے بعد میں آنے والے وقت نے ثابت کیا۔ تو پہلی بات یہ تھی کہ یورپ دو عالمی جنگیں لڑ چکا اور اَدھ موا ہو کر مزید لڑائی کے قابل نہیں رہ گیا لہٰذا جرمنی کو سبق سکھانے کے بعد یورپ بھر میں امن اور ترقی کا دور شروع کیا جائے۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ جنگی کاروبار کیسے چلے گا جو دنیا کا سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ہے؟ آسان جواب یہ تھا کہ جنگی چپقلش کے بپھرے ہوئے سانڈوں کو دنیا کے مختلف علاقوں میں سجی ہوئی شیشے کی دکانوں میں چھوڑ دیا جائے۔ کہیں مذہبی اختلافات، کہیں معاشی بالادستی تو کہیں ناکارہ زمین کے ٹکڑوں کے لیے کھینچا تانی کے نام پہ لگے رہو منا بھائی۔ بھلے وہ بےکار علاقے منفی درجہ حرارت رکھتے ہوں یا دلدل کے پاتال۔

ہاں یہ ضرور ہوا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اپنی اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا امریکہ اور روس میں ’سرد جنگ‘ کا آغاز ہو گیا جس کا خمیازہ بھی زیادہ تر ایشیائی قوموں نے بھگتا۔ مغربی اور مشرقی یورپ کی تقسیم بھی انہی دو طاقتوں کے زیر اثر ہوئی جس میں کیپیٹل ازم اور کمیونزم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

اب یہاں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ میں تعمیرنو اور ترقی کا دور دورہ ہوا، دھیرے دھیرے یورپ متحد ہو کر ایک ہونا بھی شروع ہو گیا پھر انسانی المیوں کی دردناک داستان سناتی ہوئی دیوار برلن بھی توڑ دی گئی اور آج ان کی کرنسی بھی ایک ہے، معاشی تعاون کی راہیں بھی ہموار ہیں اور سرحدی راستوں پر غیرضروری پابندیاں بھی نہیں۔ یعنی 1914 سے لے کر 1945 کے دوران اس ہیبت ناک للکار پر دو عبرت ناک جنگیں لڑنے کہ ۔۔ ہم میں سپئریر کون ہے ۔۔ والی  یورپی قومیں اپنے اپنے اختلافات بھلا چکی ہیں۔ (نہیں بھول پا رہے تو وہ ایشیائی ممالک جن کو ان جنگوں میں بغیر وجہ کے جھونکا گیا تھا اور جو ناحق اس کا ایندھن بنے تھے)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاح بھی اپنے معنی کھو چکی بس راج کرتا ہے ’باہو بلی‘ یعنی مضبوط بازو والا ۔۔ اب جنگ یہ ہے کہ مضبوط بازو کس کا ہے؟

اس دوران جنگ ہوتی ہے تو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں؛ لوگ مرتے ہیں تو، شام، لبنان، عراق، لیبیا اور یمن میں، خانہ جنگی ہوتی ہے تو کانگو، روانڈا، نائجیریا اور سوڈان میں، اقتصادی پابندیاں لگتی ہیں تو ایران اور شمالی کوریا پر۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں قیمتی خون بہتا ہے تو پاکستانیوں کا، اسلحہ بکتا ہے تو پاکستان اور  بھارت میں جہاں کشمیر کا خودساختہ تنازع ہر دن خون کی قربانی مانگتا رہتا ہے۔ بمباری ہوتی ہے تو افغانستان میں جہاں کبھی روس کی گرم پانیوں تک رسائی کے ممکنہ خوف سے مجاہدین کو لیس کیا جاتا تھا تو اب چین کی برق رفتار ترقی کے ڈر سے سارا ملک جدید ترین اسلحہ سمیت طالبان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اب اس کے اثرات جانے کہاں تک جائیں گے۔

آج عقل کی آنکھیں کھول کر دیکھیں اور جذبات کے ہاتھ باندھ کے سوچیں تو روس نے کچھ زیادہ نہیں کھویا وہ اپنے گھر کافی آرام سے ہے۔ جاپان ترقی کے سفر پہ بہت آگے نکل چکا، اتنا آگے کہ ایٹمی طاقتوں کا خوف بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ (پھر اب سب کو سمجھ بھی آچکی ہے کہ ایٹمی جنگ ہوئی تو یہ سیارہ ہی نہیں بچے گا) چین کی معیشت بلامقابلہ جھنڈے گاڑے جا رہی ہے۔ وہ عرب ممالک جو امریکن بلاک میں شامل ہیں، غربت سے ناآشنا ہیں۔

ایک سفر یاد آ گیا۔ کچھ سال پہلے سکینڈینیویا کے خوبصورت ملک فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں جانے کا اتفاق ہوا، مقامی میزبان نے گائیڈ کے فرائض انجام دیتے ہوئے شہر کی سیر کروائی اور اپنے علاقے کے امن و سکون کی تعریف کی۔ اپنےشہریوں کی ایک دوسرے سے محبت کا ذکر کیا۔ ہم سب مہمان بہت متاثر ہوئے۔ پھر اچانک ایک جگہ دور سے ایک فیکٹری نما عمارت نظر آئی۔ میرے پوچھنے پر میزبان نے بتایا کہ یہ اسلحہ فیکٹری ہے۔ میری حیرتوں نے بے ساختہ اس سوال کا روپ دھار کے پوچھا کہ امن کی بستی میں یہ اسلحہ کس لیے؟؟؟

بس اب آپ بھی بیٹھ کر سوچیں کہ امن چاہنے والی ہماری اکلوتی دنیا میں کھربوں ڈالر کا جنگی کاروبار اتنا کامیاب کیوں ہے؟

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ