جنگیں کیوں لڑی جاتی ہیں!

اس وقت افغانستان کا ہر فرد ریمونٹل بن چکا ہے اور 20 میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بین الاقوامی برادری سے ازالے کی فریاد کر رہا ہے۔

28 اگست کو واشنگٹن میں افغان شہروں کی مدد کے مطالبے میں ایک مظاہرہ (اے ایف پی)

آج سے دو سو سال پہلے کی بات ہے کہ میکسیکو میں ریمونٹل نام کا ایک حلوائی رہتا تھا۔ وہ کچھ عرصہ قبل فرانس سے یہاں کام کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ ایک دن کچھ لوگوں نے اس کی دکان پر حملہ کر کے سامان لوٹ لیا اور چلتے بنے۔

غریب حلوائی نے حکومت کو خط لکھا کہ اس کا نقصان پورا کیا جائے مگر میکسیکو کی حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور اس نے حلوائی کے خط کا جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا۔ کچھ دن سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ کر جب ریمونٹل مایوس ہوگیا تو اس نے فرانسیسی حکومت کو چٹھی بھیجی جس میں درخواست کی کہ اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔ یہ چٹھی چھ سال تک ایک سے دوسری میز پر جاتی رہی لیکن کچھ نہ ہو سکا۔

ایک دن حلوائی کی چٹھی فرانس کے بادشاہ لوئی فلپ تک پہنچ گئی۔ بادشاہ غصے میں آ گیا اور فوراً میکسیکو کی حکومت کو خط لکھا کہ وہ حلوائی کو ہرجانے کے طور پر چھ لاکھ پیسو (اس دور کی کرنسی) ادا کرے۔

جب میکسیکو حکومت نے بادشاہ کی ڈیمانڈ پوری کرنے سے انکار کر دیا تو فلپ نے میکسیکو پر حملے کے لیے اپنی فوجیں روانہ کر دیں۔

فرنچ جنریلوں نے میکسیکو کے ساحلی شہر ویراکروز کا محاصرہ کیا اور حکومت سے حلوائی کا ہرجانہ طلب کیا۔ جب دوسری طرف سے ڈیمانڈ پوری نہ ہوئی تو باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔ کچھ روز میں صورت حال اتنی گمبھیر ہو گئی کہ برطانیہ کو اس میں مداخلت کرنا پڑی۔ نتیجتاً میکسیکو نے فرانس کو چھ لاکھ پیسو ادا کیے اور معمولی سی بات کو لے کر شروع ہونے والی یہ جنگ بالآخر ڈھائی سو جانیں لے کر ختم ہو گئی۔

جنگوں کی بہت سی وجوہات اور مقاصد ہوتے ہیں۔ معلوم تاریخ کی پہلی جنگ تیرہویں صدی قبل مسیح میں فرعون مصر نے ایک ایسے علاقے کے حصول کے لیے لڑی تھی جہاں نہ صرف دریا اور سبزہ تھا بلکہ یہ ایک اہم تجارتی گزرگاہ بھی بن چکا تھا۔ دنیا میں ابتدائی جنگیں اہم علاقوں کے حصول کے لیے لڑی گئیں۔

 

پھر جب بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں تو جنگوں کے مقاصد بھی بدلے۔ اب بادشاہ کی یہ خواہش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ اس کے زیر انتظام آ سکے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا کہ دوسرے علاقوں کا مال و دولت بھی حاصل ہو جاتا اور دنیا پر اس کی طاقت کی دھاک بھی بیٹھ جاتی۔ ہندوستان میں اشوکا، فارس میں سائرس دی گریٹ، مصر میں رامص اور یونان میں سکندر اعظم نے اپنی ریاستوں کو اسی خواہش کے پیش نظر وسعت دی۔

وقت گزرا تو لوگوں کو احساس ہوا کہ بہت بڑی سلطنت کو زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کو مطیع کرنے کی بجائے وہاں حملے کر کے ان کا مال و دولت حاصل کیا جائے اور اپنے لوگوں پر صرف کیا جائے۔ چنانچہ پھر لوٹ مار کی غرض سے حملوں کا آغاز ہوا۔

رومی سلطنت پر سکاٹ لینڈ سے آئے جنگجوؤں نے متعدد بار حملے کیے اور ان کا مال لوٹ کر چلتے بنے۔ دسویں صدی میں محمود غزنوی اور اٹھارویں صدی میں نادر شاہ درانی نے ہندوستان پر حملے تو کیے لیکن سومنات یا دہلی کو اپنی سلطنت کا حصہ نہیں بنایا۔ بس مال و دولت لوٹ کر اپنے علاقوں میں لے گئے۔

اسی طرح برطانیہ نے بھی سترہویں سے بیسویں صدی تک کئی ممالک میں اپنی فوجیں بھیج کر ان کی دولت کو لوٹا۔ اس دوران وقفے وقفے سے تقریباً تمام بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ مثلاً رومن ایمپائر، مغلیہ سلطنت، سلطنت عثمانیہ وغیرہ۔

زمانہ قدیم میں جب مذہب نے معاشرے میں مرکزی حیثیت حاصل کی تو دوسروں کے عقیدوں کے خلاف جنگیں بھی شروع ہو گئیں۔ 38 میں رومیوں اور 40 میں یونانیوں نے یہودیوں کے خلاف فوج استعمال کی۔ اسی طرح چھٹی صدی میں جاپان میں شنتو مت کے پیروکار، بدھ مت کے ماننے والوں کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔

کفار مکہ جب پیغمبر اسلام کو ایذا دینے سے باز نہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے۔

گیارہویں صدی میں شروع ہونے والی صلیبی جنگیں مذہبی مقاصد کے حصول کے لیے لڑی گئیں۔ عراق، شام اور یمن میں اس وقت لڑائی کی نوعیت میں مذہبی رنگ شامل ہے۔

متنازع علاقوں کے بارے فیصلہ کرنے کے لیے بھی لڑائی کی جاتی ہے۔ امریکہ نے میکسیکو کے ساتھ اور انگلینڈ نے ارجنٹائن کے ساتھ ایسے علاقوں کے لیے جنگیں لڑیں۔ پاکستان اور بھارت بھی کشمیر پر چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔

جن ملکوں میں انتقال اقتدار کا واضح طریقہ کار نہیں تھا، وہاں بادشاہ کے مرنے کے بعد سلطنت کی سربراہی کے کئی امیدوار سامنے آتے رہے۔ یہ صورت حال بھی کئی بڑی جنگوں کا باعث بنی جو بعض اوقات خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئیں۔

جولیس سیزر کے قتل اور سکندر اعظم کی موت کے بعد حصول تخت کے لیے کئی لڑائیاں لڑی گئیں۔ یورپ کی سو سالہ جنگ کا ایک محرک فرانسیسی تخت پر برطانوی بادشاہ کی طرف سے ملکیت کا دعویٰ کرنا بھی تھا۔

برصغیر پاک و ہند میں اکثر جنگیں تخت کے حصول کے لیے کی گئیں۔ علاوالدین خلجی نے کرسی کی خاطر اپنے چچا جلال الدین فیروز خلجی کو بڑھاپے میں قتل کروا دیا۔ بادشاہت کے لیے جہانگیر، شاہ جہان اور اورنگزیب نے اپنے سگے بھائیوں پر ظلم ڈھائے اور قریبی رشتہ داروں کو قتل بھی کروایا۔

پھر میدان جنگ میں جو جیت گیا، بادشاہ بن گیا۔ سپین میں 1701 سے 1714 تک تخت کے وارث کا فیصلہ کرنے کے لیے خونریز واقعات ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ لڑائیاں نظریاتی بنیاد پر بھی کی گئیں۔ امریکہ کی سول وار کے اغراض میں غلامی کا خاتمہ سرفہرست تھا۔ اسی طرح انقلاب فرانس میں اپنے ہی لوگ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

کئی جنگیں دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ڈر کر لڑی گئیں۔ اسی طرح ذاتی انتقام لینے کے لیے بھی ماضی میں ہتھیار اٹھائے جاتے رہے۔ رامائن کے مطابق شری رام نے سیتا کو پانے کے لیے راون سے یدھ کیا۔

سپارٹا کی ملکہ ہیلن کو واپس لانے کے لیے اوڈیسیس نے ٹرائے شہر میں ٹروجن وار لڑی۔ اسی طرح چنگیز خان نے خوارزم شاہ پر حملہ کیا تھا کیونکہ کہ شاہ نے خان کے سفیروں کو قتل کر دیا تھا۔

ظالم کے جبر سے نجات کے لیے بھی ہتھیار اٹھائے گئے جو باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔ اسی طرح بغاوتوں کو کچلنے کے لیے بھی لڑائیاں ہوئیں۔ 1857 کی جنگ آزادی دونوں صورتوں کی ایک مثال ہے۔

نپولین اور ہٹلر کی جنگوں کی بنیاد نیشنلزم تھا۔ وہ دور دراز علاقوں تک اپنا اثرورسوخ دیکھنا چاہتے تھے، مگر اس طرح کی خواہشات کے لیے وقت موزوں نہ تھا۔ سو دونوں کا انجام برا ہوا۔

 بیسویں صدی میں دو عالمی جنگیں لڑی گئیں جن کے پیچھے مختلف معاہدوں سے جڑے وعدے، قوم پرستی اور انتقام لینے کی اغراض سمیت بیسیوں وجوہات شامل تھیں۔ ان کے اختتام کے بعد امریکہ اور روس کی سرد جنگ نے 50 سال تک دنیا کو اپنے اثرات کی دھند میں لپیٹے رکھا۔

موجودہ صدی کی پہلی جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ اس کا کیا مقصد تھا، شاید سادہ لوگوں کو کئی دہائیوں تک معلوم نہ ہو سکے۔ البتہ، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

وہاں انفراسٹرکچر تباہ ہے اور بے روزگاری عروج پر۔ بے یقینی کے سائے میں ٹوٹے ہوئے خواب لیے، اس وقت افغانستان کا ہر فرد ریمونٹل بن چکا ہے اور 20 سال میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بین الاقوامی برادری سے ازالے کی فریاد کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ