شی بائیڈن ملاقات: ’مقابلے میں تنازعے سے دور رہنا ہوگا‘

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنا ’پرانا دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں حریفوں کو مزید قریب ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں سپرپاورز کے درمیان بہتر روابط پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کو کھلے تنازعے سے دور رہنے کے لیے طریقہ کار کو اپنانا چاہیے۔

دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے صدور کی پیر (15 نومبر) کو ورچوئل ملاقات ہوئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹی وی سکرین پر چینی صدر سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ دونوں کو ایسے طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے جن سے ’یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مقابلے بازی میں کھلے تنازعے کی جانب نہ بڑھ جائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما اس اجلاس میں ’کھل کر‘ بات کریں گے۔

بیجنگ سے صدر شی نے صدر بائیڈن کو اپنا ’پرانا دوست‘ قرار دیا اور کہا کہ دونوں حریفوں کو مزید قریب ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’چین اور امریکہ کو روابط اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘

جنوری میں بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں رہنما فون پر دو بار بات کر چکے ہیں، تاہم کرونا وبا کے باعث صدر شی بیرون ملک سفر سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے آن لائن اجلاس ہی منعقد ہوا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں خراب ہوئے، جنہوں نے چین کے ساتھ نہ صرف تجارتی جنگ شروع کی بلکہ کرونا وبا کا ذمہ دار بھی اسے ٹھہرایا۔

صدر بائیڈن کے دور میں دنوں کے درمیان لفظی جنگ پہلے جیسی نہیں رہی ہے مگر صدر بائیڈن اویغور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی، ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن اور تائیوان کے معاملے پر بیجنگ پر تنقید کر چکے ہیں جبکہ صدر شی کے نائب عہدیدار صدر بائیڈن پر چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم تائیوان کے معاملے پر صورت حال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان خود کو چین کا حصہ نہیں مانتا۔ امریکہ نے گذشہ ماہ تائیوان کی حمایت میں کافی بیان دیے ہیں، جس پر چین بھی ناخوش ہے۔   

چین نے حالیہ سالوں میں تائیوان کے قریب فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے اور چین کے جنگی طیارے اکثر تائیوان کی فضائی دفاعی حدود کے قریب پرواز کرتے ہیں، جن کی سب سے زیادہ تعداد اکتوبر میں بھیجی گئی۔ دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان کی جانب سے اپنی خودمختاری کے دفاع کی حمایت کرتا ہے مگر کوئی واضح بیان نہیں دیا کہ آیا اس کی مدد کے لیے براہ راست مداخلت کرے گا یا نہیں۔

اس اجلاس سے قبل چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن کو تائیوان میں ’آزادی کی خواہاں فورسز‘ کی حمایت کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے تعلقات بہتر بنانے کی ذمہ داری بائیڈن پر ڈالتے ہوئے صحافیوں سے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ ایک دوسرے سے اچھے روابط قائم رکھنے کے لیے امریکہ اسی سمت میں چلے گا جس میں بیجنگ۔‘  

امریکہ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ بائیڈن ’تائیوان کے حوالے سے چین کے اشتعال انگیز رویے پر واضح طور پر بات کریں گے۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بائیڈن نے اجلاس کے آغاز میں کہا: ’چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے طور پر ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہمارے ممالک کے درمیان مقابلہ بازی ارادی یا غیر ارادی طور پر تنازع کی طرف نہ بڑھ جائے، بلکہ صرف مقابلہ بازی رہے۔‘

صدر شی نے کہا: ’میں اتفاق رائے پیدا کرنے، فعال اقدامات کرنے اور چین-امریکہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہوں۔‘

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس ورچوئل اجلاس سے زیادہ امیدیں ظاہر نہیں کیں۔ عہدیداروں کے مطابق کوئی اہم اعلان یا مشترکہ بیان متوقع نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا