سیف الاسلام:’ریفارمر‘ سے ’پرفارمر‘ کا سفر

کرنل قذافی اپنے بیٹے سیف الاسلام کے ساتھ مل کر شہریوں کو گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے، ان کا وہی چہیتا بیٹا آج انہی شہریوں سے ووٹ کی بھیک مانگنے نکلا ہے۔

ایک دہائی تک میڈیا کی چکا چوند سے دامن بچانے والے سیف الاسلام  نے 24 دسمبر کو ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں شرکت کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہیں(کارٹون: انڈپینڈنٹ عربیہ)

لیبیا میں دس سال پہلے بپا ہونے والے ’عرب سپرنگ‘ انقلاب میں اس وقت کے مرد آہن کرنل معمر القذافی کی حکومت کا تختہ الٹا تو بعد میں قدرتی وسائل سے مالا مال شمالی افریقہ کے اس ملک کا مقدر طوائف الملوکی، دہشت گردی اور افراتفری کے سوا کوئی اور شے نہ بن سکی۔

باہم دست وگریبان ملیشیاؤں، روس اور ترکی کی مداخلت سے لیبیا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ طرابلس کی تباہی کا تماشہ دیکھنے والے عالمی ادارے [یو این] کو امید ہو چلی ہے کہ اگلے مہینے ہونے والے صدارتی انتخاب سے لیبیا میں استحکام بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

چند دنوں سے کرنل معمر القذافی کے سب سے لاڈلے بیٹے سیف الاسلام القذافی کا نام ایک مرتبہ پھر میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سیف نے لندن سکول آف اکنامکس اور ویانا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ایک دہائی تک میڈیا کی چکا چوند سے دامن بچانے والے سیف الاسلام  نے 24 دسمبر کو ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں شرکت کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

امسال جولائی میں امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کو دیئے گیے ایک انٹرویو میں 49 سالہ سیف الاسلام نے لیبیا میں امن اور استحکام کی بحالی کا عزم ظاہر کیا تھا۔

حقیقی جمہوریت کے حق میں زبانی جمع خرچ کے باعث مغربی دنیا اور لیبیا میں ایک مخصوص حلقہ سیف الاسلام کو مصلح ’ریفارمر‘ سمجھتا رہا، لیکن 2011 میں ان سے متعلق عوامی رائے اس وقت تبدیل ہوئی جب انہوں نے اپنے والد کے شانہ بشانہ لیبیا کی عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کی نہ صرف حمایت کی، بلکہ کریک ڈاؤن میں عملاً حصہ بھی لیا۔

کریک ڈاؤن کے فوری بعد انہیں القذافی کے اقتدار کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں نے حراست میں لے لیا۔ چھ برس بعد انہیں رہائی ملی۔

تادم تحریر سیف الاسلام انٹرنیشل کریمنل کورٹ کو لیبیا میں 2011 کے انقلاب کے موقع پر انسانیت کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کی پاداش میں مطلوب ہیں۔

صدارتی انتخاب لڑنے والے اہم امیدوار کی سیاسی وسماجی حیثیت سے قطع نظر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی سیف الاسلام کی گرفتاری کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

لیبیا کے شہر سبھا میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت سیف الاسلام نے جنوبی لیبیا کا وہ روایتی لباس پہن رکھا تھا جو 2011 میں ان کے والد نے ’باب العزیزیہ‘ میں کی جانے والی مشہور زمانہ تقریر کے وقت پہن رکھا تھا۔

اس تقریر میں معمر القذافی نے مظاہرین کو ’چوہے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’میں شہری آزادیوں کے دشمن ان عناصر سے لیبیا کو پاک کرا کر دم لوں گا۔‘ انہوں نے عربی میں ’زنکا زنکا ۔۔۔ بیت بیت‘ یعنی دروازے دروازے اور گھر گھر جا کر ان جنگجوؤں کے خاتمے کا اعلان کیا۔

’تلک الایام نداولھا‘ کے مصداق کرنل قذافی کا چہیتا بیٹا ان ہی مبینہ ’چوہوں‘ کے گھروں پر دستک دے کر صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے ووٹ کی خیرات مانگنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

سیف الاسلام انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں مطلوب ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جو لیبیا کے اتحاد نہیں، بلکہ تقسیم کا باعث بنے ہیں۔ وہ نہتے لیبیا کے عوام اور مظاہرین پر ظلم کے پہاڑ توڑتے چلے آئے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد مغربی لیبیا میں جو ردعمل دیکھنے میں آیا وہ انتہائی چشم کشا ہے۔ اس ردعمل کا ماخذ دستوری فریم ورک تیار کرنے کے حامی حلقے تھے۔

ایک معاہدے کے مطابق مجلس قانون ساز کے مختلف الخیال گروپ چاہتے ہیں کہ انتخاب سے پہلے دستوری فریم ورک کو حتمی شکل دی جائے جس میں صدارتی امیدواروں کی اہلیت کا معیار اور منتخب صدر کے اختیارات کا تعین ہو؟

مغربی لیبیا میں قبائلی، فوجی اور سیاسی رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ دستوری فریم ورک کی منظوری تک صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کیا جائے۔

سیف الاسلام پراسراریت کا لبادہ اوڑھے دس برس بعد عوام میں نمودار ہوئے تو ایسے میں لیبیائی عوام اور دنیا کے ذہن میں ان سے متعلق یہی سوال ذہن میں ابھرتا ہے کیا وہ حقیقت میں تبدیل ہو گئے ہیں؟

دو ہفتے قبل سیف الاسلام لیبیا کے شہر سبھا میں مختلف قبائل کے درمیان صلح کرانے میں مصروف تھے۔ سیف الاسلام سے متعلق لیبیا کے عوام کے نقطہ نظر میں بھی کسی حد تک تبدیلی آئی ہے۔ ایک مکتبہ فکر انہیں ’نجات دہندہ‘ سمجھتا ہے۔

لندن سکول آف اکنامکس سے فارغ التحصیل ہونے کے ناطے دنیا سیف الاسلام کو ایک ’ریفارمر‘ کے طور پر جانتی تھی۔ لندن کے دورے پر 2003 میں ان سے سوال کیا گیا کہ ’لیبیا کو اس وقت سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟‘ تو ان کا کہنا تھا کہ ’لیبیا کو اس وقت سب سے زیادہ جمہوریت کی ضرورت ہے۔‘

اس وقت یقیناً لیبیا میں حقیقی جمہوریت کا فقدان تھا لیکن روشن خیال اور جمہوریت نواز سیف الاسلام  نے 2011 میں اپنے والد کے ایما پر لیبیا کے عوام کے قتل عام کی حمایت کی تو آج ان کے ناقدین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سیف الاسلام ’ریفامر نہیں بلکہ پرفارمر‘ ہیں۔

سیف الاسلام اگر روایتی لیبیائی لباس پہن کر صدارتی انتخاب میں شرکت کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرا رہے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ جمہوریت پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل چاہتے ہیں۔ ان کا ماضی اس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ وہ لیبیا میں حقیقی جمہوریت کی کوششوں کو ہمیشہ تاراج کرنے میں مصروف رہے ہیں۔

دنیا کی نظروں میں اگرچہ وہ لاپتہ تھے لیکن 2019 کو جب طرابلس میں خانہ جنگی عروج پر تھی اس وقت بلوم برگ سے وابستہ دو روسیوں نے سیف الاسلام سے ملاقات کی، جنہیں اغوا کے بعد طرابلس میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران انہوں نے اعتراف کیا وہ سیف الاسلام سے رابطے میں تھے اور روسی حکام کے پیامبر کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔

دو ہزار گیارہ کے کریک ڈاؤن سے پہلے سیف الاسلام کے بہت سے قبائل اور اہم حکام سے رابطے تھے اور خود کو جمہوریت کا چیمپئن گردانتے تھے، تاہم ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ’پانچ ملین لیبیائی ہتھیار بند ہیں۔ ہم، مصر، تونس نہیں ہیں۔ ملک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی۔‘ چشم فلک نے دیکھا کہ یہ الفاظ سیف الاسلام کی دھمکی نہیں بلکہ ان کا سوچا سمجھا روڈ میپ تھا۔

سیف الاسلام کو حالیہ صدارتی انتخاب میں روس کی حمایت حاصل ہے۔ ان انتخابات کا مقصد عوام کے جذبات کا تعین نہیں، بلکہ معمر القذافی کی نسل کو مقبول عام بنایا ہے۔

اس مقصد کے لیے لیبیا میں سوشل میڈیا کا استعمال بالکل انہی خطوط پر کیا جا رہا ہے جیسے برطانیہ اور امریکہ کے انتخابات میں فیس بک وغیرہ میں من پسند افراد کے حق میں مقبولیت کے ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے کیا جاتا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدارتی امیدوار سیف الاسلام لیبیا کے مسائل کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد کرتے ہیں۔ ترکی اور متحدہ عرب امارات نے بھی شمالی افریقہ کے اس اہم ملک میں ہونے والی بسیار خرابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

سیف الاسلام کی حکومت کا مرکز لیبیا کا شہر سبھا ہے۔ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کا پایہ تخت مشرقی لیبیا میں بن غازی کا علاقہ راجمان ہے جبکہ حفتر کے مخالف انقلابی کیمپ کا نیوکلیس طرابلس ہے۔ تینوں کیمپ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

انتخاب سے متعلق عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ فری اور فیئر نہیں ہوں گے اور کوئی بھی ان کی اعتباریت پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔

انتخاب میں صرف پانچ ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ تینوں امیدواروں میں کسی نے ابھی اپنا سیاسی پروگرام واضح نہیں کیا۔ سیف الاسلام کی اب تک کی دو تقریروں میں کچھ سمجھنے کے قابل بات نہ تھی۔

عوام کو انتخاب کی اعتباریت پر یقین نہیں اور نہ ہی انہیں ان کے آزادانہ انعقاد کا یقین ہے۔ اگر مضبوط امیدواروں میں کوئی 90 فیصد ووٹ لے کر بھی کامیاب ہوتا ہے تو یقین کیجے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شریک کوئی بھی ایسا صدارتی امیدوار نہیں جس پر لیبیا کے عوام اعتماد کرتے ہوں، جو ملک کو درپیش تقسیم در تقسیم کی پر قابو پا سکے۔

تمام صدارتی امیدوار اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جسمانی بقا کو لاحق خطرات کا علاج صرف مصالحت کے عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ بدقسمتی سے صدر بننے کے آرزو مندوں میں سے کسی میں اس مصالحتی عمل کو کامیاب بنانے کا داعیہ اور صلاحیت نہیں ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا صروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ