ترکی، لیبیا کو دوسرا شام بنانا چاہتا ہے؟

’اعلان قاہرہ‘لیبیا کو خطرناک تباہی سے بچانے کا آخری موقع ہے، امید ہے کہ انقرہ کی سیاسی قیادت اسے اپنی ہٹ دھرمی سے ضائع نہیں کرے گی۔

خلیفہ حفتر کی حامی خاتون ترکی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی)

لیبیا میں پانچ برس سے دو فریقوں کے درمیان جاری لڑائی اقتدار کے حصول اور قدرتی وسائل پر کنڑول کی روایتی کہانی سے کچھ بڑھ کر ہے۔

تمام علاقائی جنگوں کی طرح حالیہ لیبین بحران کا نقطہ آغاز بھی ایک داخلی تنازع تھا جو بڑھتے بڑھتے اب علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈوں کی تکمیل کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

لیبیا میں جاری جنگ اب شام کی سی صورت حال اختیار کر چکی ہے۔ وہی عالمی طاقتیں اس ریاست کا مستقبل بھی طے کر رہی ہیں۔ لیبیا میں پراکسی جنگ کئی پہلوؤں سے شام میں پراکسی جنگ کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ دونوں طرف شامی جنگجو اپنی صلاحیت استعمال کر رہے ہیں جو انہوں نے اپنے ملک میں تقریباً دہائی تک چلنے والی جنگ میں سیکھی۔

منصور جعفر کا یہ کالم آپ ان کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 

ترکی، قطر اور اٹلی اس جنگ میں فائز سراج کی عالمی حمایت یافتہ لیبین حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس حکومت کا پایہ تخت طرابلس ہے۔ فائز سراج کی حکومت، فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی سربراہی میں ’لیبین نیشنل آرمی‘ کا مقابلہ کر رہی ہے، جس کا گڑھ مشرقی لیبیا کا شہر بن غازی ہے۔ حفتر کو روس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے علاوہ فرانس، جرمنی اور شمالی بحراوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے بعض دوسرے رکن ملک لیبیا میں روس کی حمایت کر رہے ہیں۔ جنرل حفتر کے ساتھ لڑنے والے والے روسی فوجیوں کا تعلق ولادی میر پوتن کے ایک قریبی ساتھی کے گروہ Wagner گروپ سے ہے، جو شام میں بھی ’داد شجاعت‘ دے چکا ہے۔

شمالی افریقہ کے جنگ زدہ ملک لیبیا میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کئی لحاظ سے اہم ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد چشم فلک نے یہ منظر پہلی بار دیکھا کہ طرابلس میں قائم قومی حکومت کے پرچم تھامے ترک فوج نے بحیرہ روم عبور کر کے لیبیا میں لشکر کشی کی۔

لیبیا میں بننے والی قومی حکومت دراصل خطے میں اخوان المسلمون کی ایک ’پراکسی‘ ہے۔ اس نے پے در پے ناکامیوں کے بعد ان دنوں فوجی فتوحات کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ فائر سراج کی قومی حکومت، فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی زیر کمان باغی فوج کی صفوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔

’لیبین نیشنل آرمی‘ طرابلس میں ایک سال تک قومی حکومت کے جنگجوؤں کے محاصرے میں رہی، جس کے بعد جی این اے نے خلیفہ حفتر کی فوج کو ترھونہ شہر میں شکست سے دوچار کیا اور پھر مشرق میں سرت شہر کی سمت پیش قدمی شروع کی۔

پیش قدمی کے نتیجے میں قومی حکومت کا زیر نگین علاقہ دو گنا ہو گیا، تاہم اس کے باوجود وہ لیبیا کے 20 فیصد حصے سے زیادہ پر قدم نہیں جما سکے۔ آج بھی تیل کے ذخائر سمیت لیبیا کا 60 فیصد علاقہ ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے کنڑول میں ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ کیا ترک بری فوج اور فضائیہ شام سے لائے گئے کرائے کے گوریلاؤں کی مدد سے لیبیا کے مشرقی اور دوسرے شہروں پر اپنا کنڑول جما سکے گی؟

ترکوں کا لیبین شہر سرت اور بن غازی پر کنڑول نہ صرف وہاں جاری جنگ کا پانسا پلٹ سکتا ہے بلکہ سارا علاقہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ وقتی طور پر قومی حکومت کے حامیوں نے طرابلس، ترھونہ اور بنی ولید جیسے شہروں کے نواحی علاقوں کا کنڑول حاصل کر لیا ہے، تاہم جنگ ابھی جاری ہے۔

صورت حال پر نظر رکھنے والے سیاسی پنڈت سوال کرتے ہیں کہ کیا لیبیا پر حملے میں انقرہ کو مغربی دنیا کی حمایت حاصل ہے؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یورپی یا بالخصوص امریکی جنگی بحری جہازوں کی جانب سے روکے جانے کا ایک فیصد بھی شائبہ ہوتا تو ترکی اپنی فوج اور سامان حرب دن دیہاڑے کبھی لیبیا منتقل کرنے کی جرات نہ کرتا۔

کیا مغربی دنیا کی بے گانگی کہ وجہ یہ ہے کہ وہ لیبیا کو روسی فوج کا ہراول دستہ سمجھتے ہیں؟ ماسکو نے بھی پہلی مرتبہ خطے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کے لیے تیل اور جنوبی یورپ کی سکیورٹی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے!

توسیع پسندانہ ترک عزائم

کئی مہینوں کی ٹال مٹول اور انکار کے بعد بالاخر ترکی نے شمالی افریقہ میں اپنی فوجی مداخلت تسلیم کر لی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے بقول ’لیبین بھائیوں کے ساتھ مل کر ترک فوج طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمارے فوجیوں نے لیبیا میں طرابلس سے ترھونہ تک اردگرد کے تمام ہوائی اڈوں کا کنڑول سنبھال لیا ہے۔ ان علاقوں کو خلیفہ حفتر کے فوجیوں سے پاک کرا لیا گیا ہے اور اب وہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

وہ ’مطلوبہ مقاصد‘ کون سے ہیں۔ یہ الفاظ اس توسیع پسندانہ منصوبے کی چغلی کھا رہے ہیں، جو ترکی کے پیش نظر ہے۔ لیبیا میں جاری جنگ اب صرف لیبین عوام تک محدود نہیں رہی۔

ترکی سے پہلے ایران ایسے ہی توسیع پسند عزائم کو بڑھاوا دینے کی حماقت کر چکا ہے۔ تہران کی راہ پر چلتے ہوئے ترکی نے شمالی عراق سمیت خطے کے دوسرے ملکوں میں اپنی فوج تعنیات کر رکھی ہے۔ قطر، شام، صومالیہ اور لیبیا میں فوجی اڈے قائم کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پس منظر میں ترک صدر لیبیا میں اپنی فتوحات کی خبریں سنا کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے ترک عوام کو بہلا رہے ہیں۔ لیبیا کے ساتھ تیل معاہدوں کے مژدے سنا کر سنہرے مستقبل کے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔

یہ تمام خوش خبریاں گرتے ہوئے عوامی مورال کو سہارا دینے کی ناکام کوشش ہیں۔ ترک فوج کی مہم جوئی سے انقرہ کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو قطر جیسا ایک چھوٹا ملک پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے، جو خود ایک عرصے سے علاقائی لیڈر بننے کے خواب دیکھتا چلا آ رہا ہے۔

لیبین بحران حل کی سیاسی کوشش

لیبیا کے ایوان نمائندگان کے سپیکر عقيلة صالح اور خلیفہ حفتر نے مصر کے دارالحکومت میں گذشتہ مہینے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی جس کے اختتام پر’اعلان قاہرہ‘ کی منظوری دی گئی۔ کانفرنس کا مقصد لیبیا میں جاری تنازع کے خاتمے اور جنگ بندی کی راہیں تلاش کرنا تھا۔

بعض مبصرین نے اسے شکست خوردہ عناصر کا اقدام قرار دے کر مسترد کیا، لیکن درحقیقت یہ تمام فریقوں کو ملا کر لیبیا میں امن قائم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اس اقدام کے ذریعے لیبیا میں ایک ایسی حکومت بنانا مقصود تھا جو ایک صدر اور دو نائب صدور پر مشتمل ہو۔

مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کی عبوری مدت کا تعین اور پھر انتخابات کا ڈول ڈالا جانا تھا۔ شومئی قسمت، ترکی اور ان کے اتحادیوں نے اس منصوبے کو مسترد کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ’اعلان قاہرہ‘ حالیہ فوجی اقدامات کی روشنی میں سامنے لائی جانے والی کوئی جنگی چال تھی؟ سچی بات یہ ہے کہ ’اعلان قاہرہ‘ لیبیا کے بحران کو اگلے خطرناک مرحلے میں داخل ہونے سے روکنے کی ایک ناگزیر سفارتی کوشش تھی۔ یہ اعلامیہ مستقبل میں لیبین بحران کے حل کی بنیاد بھی بن سکتا تھا۔

لیبیا میں ترک مداخلت سے وزیر اعظم فائز سراج کی قومی حکومت کو مکمل اختیار تو ملنے سے رہا، تاہم اس سے عرب بہاریہ کے بعد سے جنگ کی آگ میں جلنے والے ملک کے اندر تنازعات میں مزید اضافہ ضرور ہو سکتا ہے۔

’اعلان قاہرہ‘ لیبیا کو خطرناک تباہی سے بچانے کا آخری موقع ہے، امید ہے کہ انقرہ کی سیاسی قیادت اسے اپنی ہٹ دھرمی سے ضائع نہیں کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ