مشرق وسطیٰ میں ’بھرپور فورس‘ بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: امریکہ

امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر سفارت کاری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو ان کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کے استعمال کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنے والے امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں ’بھرپور طاقت‘ بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کو بحرین میں جاری منامہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر سفارت کاری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو ان کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ طاقت کے استعمال سے ہچکچا رہا ہے۔

تقریب میں پینٹاگون کے سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے مغربی اتحاد کے زیر استعمال فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ ڈرون حملے اور گولہ باری کا واشنگٹن نے جواب کیوں نہیں دیا تو انہوں نے کہا: ’امریکہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ اور ہم اپنا اور اپنے مفادات کا دفاع کریں گے اور اس کے لیے ہم اپنے مرضی کے وقت اور جگہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘

آسٹن نے مزید کہا: ’اور کسی بھی ملک یا فرد کو اس بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم اپنے اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور اس میں ہمارے شراکت دار بھی شامل ہیں۔

’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دینے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔‘

ایران اور عالمی طاقتیں اس ماہ کے آخر میں ویانا مذاکرات بحال کرنے کے لیے تیار ہیں جس کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔

تہران نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔

آسٹن نے کہا کہ امریکہ کا اہم مقصد مشرق وسطیٰ میں اپنے ’بے مثال‘ اتحاد کو مضبوط کرنا ہے اور یہ کہ دسیوں ہزار فوجیوں کے ساتھ خطے میں فوجی طاقت واشنگٹن کے لیے ایک آپشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے لیے امریکہ کا عزم مضبوط اور یقینی ہے۔

اگست میں افغانستان میں 20 سالہ جنگ ختم کرنے کے بعد امریکہ اس سال کے آخر تک عراق سے بھی اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے تیار ہے۔

ایران کے خلیجی پڑوسیوں کو تشویش ہے کہ 29 نومبر کو ویانا میں دوبارہ شروع ہونے والے جوہری مذاکرات میں ایران کو رعایت دی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور اسرائیل نے تہران پر الزام لگایا ہے کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خلیج میں امریکی افواج اور اسرائیل کے بحری جہازوں پر حملے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کر رہا ہے۔

حالیہ عراقی انتخابات میں ہارنے والی ایرانی حمایت یافتہ جماعتوں کے حامیوں کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپ کے دو دن بعد ہی عراقی وزیر اعظم ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے۔

ہفتے کو ہی ایران نے کہا کہ خلیج میں ڈیزل سمگل کرنے والی ایک غیر ملکی کشتی کو پکڑ لیا ہے۔

فروری کے بعد سے ایران اور اسرائیل ایک ’شیڈو وار‘ میں مصروف ہیں جس میں خلیج کے پانیوں میں مختلف ممالک کے بحری جہاز حملے کی زد میں آ چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا