باجوڑ کے قاری الیاس کون تھے، کس نے قتل کیا اور کیوں؟

جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے قاری الیاس کے رشتہ داروں کے مطابق ان پر پہلے بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔

پولیس کے مطابق قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور کارروائیاں جاری ہیں (تصویر: لعل کریم)

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں 22 نومبر کو قاری الیاس نامی ایک شخص کو نامعلوم افراد نے سر پر دو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد خواتین سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لیے دس دن کی مہلت کی یقین دہانی پر بعد میں دھرنا ختم کر دیا گیا۔

مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل دے کر ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ قاتلوں کا سراغ لگانے کے فرائض سوات کے ایس پی انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ذمہ ہے جو دس دن کے اندر کسی نتیجے پر پہنچ کر رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کریں گے۔

دوسری جانب، گذشتہ شام ’خراسان میڈیا‘ کے نام سے عربی میں سوشل میڈیا پر ایک بیان سامنے آیا جس میں لکھا گیا تھا کہ قاری الیاس کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

قتل کی وجہ کیا ہے؟

قاری الیاس کے قتل کی وجوہات کے بارے میں متضاد باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ 

داعش نے اپنے بیان میں قاری الیاس کے قتل کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کے لیے کام کرتے تھے اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ 

تاہم جب اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے قاری الیاس کے دوستوں اور رشتہ داروں سے معلومات کیں تو ان میں سے بعض نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’قاری الیاس کے بڑے بھائی قاری سلطان محمد کو بھی چند سال قبل گھر کے پاس داعش کے خلاف فتوے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ چونکہ الیاس ان کے جانشین تھے لہٰذا خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید انہیں داعش نے اسی وجہ سے قتل کیا ہے۔‘

قاری الیاس کے چچا زاد بھائی لعل کریم ننگیال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کچھ عرصہ قبل الیاس پر ایک بارودی سرنگ سے حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ ’اس حملے میں ملوث شخص باجوڑ کے ڈبر گاؤں کا تھا جن کو گاؤں والوں نے خود گرفتار کیا تھا اور ملزم کا تعلق داعش کے ساتھ بتایا جا رہا تھا۔ بعدازاں اس شخص کو حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جن کی بعد میں موت واقع ہو گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لعل کریم نے بتایا کہ ’آئی ای ڈی حملے میں داعش سے تعلق رکھنے والے شخص کی موجودگی کی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ بھی انہوں نے کیا ہو گا۔ باقی الیاس کے والد یا دیگر رشتہ داروں کو داعش یا پولیس نے کوئی ایسی اطلاع تاحال نہیں دی ہے۔‘

لعل کریم کے مطابق ان کے علم میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ الیاس یا ان کے بڑے بھائی سلطان محمد نے کبھی داعش کے خلاف فتویٰ دیا ہو، ’ہاں البتہ قاری الیاس کا جمعیت علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک سے تعلق کی وجہ سے انہیں خطرہ لاحق تھا اور داعش نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ دیوبندی علما کو قتل کرنا جائز ہے۔ داعش نے کئی علما کو اسی وجہ سے نقصان پہنچایا ہے۔‘

انسدادِ دہشت گردی کے ادارے سی ٹی ڈی سوات کے ایک اہلکار، جنہوں نے اپنا نام صرف خان بتایا، نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ تفتیش شروع ہے اور اس وقت کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔

انہوں نے بتایا، ’قاری الیاس پر ہونے والے پچھلے آئی ای ڈی حملے میں ملوث شخص کا تعلق داعش سے تھا، یہی وجہ ہے کہ یہ کیس ایس پی سی ٹی ڈی سوات کے پاس آیا تھا۔ 22 نومبر کے واقعے کو بھی دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا ہے تاہم فی الحال مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا ہے۔‘

قاری الیاس کون تھے؟

قاری الیاس باجوڑ کے بدان کوٹ نامی گاؤں کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والدین حیات ہیں اور وہ چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی سلطان محمد کو چند سال قبل نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا۔

الیاس کے والد کھیتی باڑی کرتے تھے جب کہ وہ خود مقامی مسجد میں خطیب تھے جہاں وہ درس وتدریس کا کام کرتے تھے اور ان کو اس کی تنخواہ ملتی تھی۔

قاری الیاس جمعیت علمائے اسلام ف کے مقامی رہنما تھے اور انہیں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے سیاسی جماعت کی جانب سے بدان ماموند کے جنرل کونسلر کا ٹکٹ بھی ملا تھا۔

وفات کے روز ان کا باجوڑ کے شہر خار میں واقع گورنمنٹ سکول میں ایم اے اسلامیات کا آخری پرچہ تھا جہاں سے واپسی کے بعد انہیں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

ان کے چچازاد بھائی لعل کریم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے والد نے بیٹے کے قتل کا ذمہ دار باجوڑ کی انتظامیہ کو اس لیے ٹھہرایا کہ انہیں دھمکیاں ملتی تھیں اور خود ضلعی پولیس افسر نے بھی انہیں اطلاع دی تھی کہ ان کو خطرہ ہے، لیکن ان کے بیٹے کو پھر بھی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

’والد الیاس نے ڈی سی اور دیگر افسران کو متعدد بار درخواست کی تھی کہ انہیں کلاشنکوف کا لائسنس دیا جائے، لیکن انہیں نہیں دیا گیا، حالانکہ باجوڑ میں اثر رسوخ رکھنے والے کئی لوگوں کو لائسنس ملا ہوا ہے۔‘

کریم نے بتایا کہ قاری الیاس اپنے ساتھ اسلحہ لے کر گھومتے تھے اور گھر پر پچھلے دو سال سے پہرہ لگائے رکھا۔

بدان کوٹ میں بتایا جاتا ہے کہ مذہبی بنیاد پر اختلافات پائے جاتے تھے۔ ’الیاس اور ان کے اہل خانہ کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ یہ تنظیم کی بنیاد پر بننے والی دشمنی تھی۔ اسی لیے الیاس کے تنظیم نے انہیں سمجھایا بجھایا کہ یہ معاملہ تنظیم کے حوالے کیا جائے لیکن وہ خود ذاتی طور پر بھائی کے قتل کے بعد ان مقدمات میں پیش پیش رہے۔‘

کیا داعش باجوڑ میں موجود ہے؟

حکومت پاکستان ماضی میں داعش اور دیگر عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کر چکی ہیں۔ قاری الیاس کے قتل میں داعش کے ملوث ہونے کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا صارفین حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی داعش کے ارکان باجوڑ میں بھی موجود ہیں۔

اس حوالے سے پاک افغان امور کے ماہر شاہد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ داعش کی پاکستان میں موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ ان کی موجودگی کو چیلنج سمجھا جائے۔

’خود افغانستان میں ان کی تعداد تقریباً 15 ہزار سے زیادہ نہیں ہو گی۔ پاکستان میں وہ صرف ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔‘

شاہد خان نے باجوڑ یا پاکستان کے دیگر حصوں میں داعش کی موجودگی کا سبب بتاتے ہوئے کہا، ’یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے تحریک طالبان پاکستان میں تھے تو ٹی ٹی پی کے کئی پیروکاروں نے ان سے متاثر ہو کر داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔‘

تجزیہ کار شاہد نے بتایا کہ اگرچہ داعش کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں نے جن میں باجوڑ کے مولوی اسمٰعیل اور ان کے پیروکار بھی شامل تھے، دوبارہ ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کر لی، لیکن کئی لوگ اب بھی داعش میں باقی رہ گئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان