حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ختم

سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کے موجودہ مارجن 3.91 روپے فی لیٹر میں 99 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کے موجودہ مارجن 3.30 روپے فی لیٹر میں 83 پیسوں کے اضافے پر اتفاق ہوا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیلر مارجن میں چھ فیصد اضافے کا مطالبہ رکھا تھا (انڈپینڈنٹ اردو)  

پاکستان میں پیٹرول ڈیلرز نے جمعرات کو اپنے منافعے میں اضافے کے لیے کی گئی ہڑتال ختم کر دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے آج رات ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی۔

آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے جمعرات کو ملک بھر میں غیر معینہ مدت تک پیٹرول پمپ احتجاجی طور پر بند کر دیے تھے، جس کے بعد بدھ کی رات کو ہی پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔

حکومت نے اس حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت دیگر کمپنیوں کے پیٹرول پمپ کھلے ہوں گے تو صارفین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔

وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ڈیلرز پیٹرول کی قیمت میں نو روپے کا اضافہ چاہتے ہیں جب کہ چند کمپنیوں کو نوازنے کے لیے نو روپے کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

جمعرات کو جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈیلروں کے جائز مطالبان تسلیم کیے جائیں گے، ناجائز نہیں۔ 

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی اییشن کے چیئرمین سمی خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یٹرولیم ڈیویژن نے ان کے مطالبات منظور کر لیے ہیں لہٰذا پیٹرول پمپس کی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے آج ایک اعلامیے میں بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ متعدد مشاورتی اجلاسوں کے بعد ہڑتال ختم کر دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق پیٹرول کے موجودہ مارجن 3.91 روپے فی لیٹر میں 99 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کے موجودہ مارجن 3.30 روپے فی لیٹر میں 83 پیسوں کے اضافے پر اتفاق ہوا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے ڈیلرز ایسوسی ایشن کو یقین دلایا ہے کہ چھ ماہ بعد اس وقت مہنگائی کو دیکھتے ہوئے مارجن پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر مارجن میں موجودہ اضافے اور چھ مہینے بعد مارجن پر ازسر نو غور سے پیٹرولیم ڈیلرز کے کاروبار کو تحفظ ملے گا

بدھ کو پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نعمان بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ڈیلر مارجن چھ فیصد ہونے تک، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس 25 نومبر صبح چھ سے بند رہیں گے۔

آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

نعمان بٹ نے مزید بتایا، ’پچھلی بار پانچ نومبر کو ہڑتال کی کال کے بعد حکومت نے ہمیں مطالبات پورے ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ابھی تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔‘

اس حوالے سے آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری سمیر نجم الحسن کا کہنا تھا: ’گذشتہ 13 سالوں سے حکومت نے ہمارا پرافٹ مارجن ایک جگہ فکس کیا ہوا ہے۔

’ہم حکومت سے پچھلے پانچ سالوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ پیٹرول پمپس چلانے کی لاگت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے جس میں بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخ بھی شامل ہیں۔

’حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ مہنگائی کے ریٹ کے مطابق ہمارا پرافٹ مارجن ہر دو سال میں بڑھایا جائے گا۔ مگر پچھلے سات سالوں سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 85 پیسے اور ڈیزل میں 65 پیسے کا اضافہ کیا جو ’اس قدر کم ہیں کہ نہ ہی بڑھاتے تو بہتر تھا۔ ہمارا نقصان تو جوں کا توں ہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ریٹیلیرز کے لیے پیٹرول پر پرافٹ مارجن تین روپے 90 پیسے فی لیٹر ہے جس میں سے ٹیکس اور لائسنس فیس نکالنے کے بعد تین روپے 10 پیسے فی لیٹر بچتے ہیں، اور اسی طرح سے ڈیلرز کے پرافٹ مارجن میں بھی ٹیکس اور لائسنس فیس کی کٹوتی کے بعد ان کا منافع بھی تین روپے 10 پیسے سے کم ہوکر دو روپے 75 پیسے رہ جاتا ہے۔

سمیر نجم الحسن کا کہنا تھا کہ : ’حکومت نے ہمارے پرافٹ مارجن کو اس وقت فکس کیا ہوا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود بھی ہمارا پرافٹ مارجن وہی رہتا ہے۔

’ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ہمارے پرافٹ مارجن پانچ سے چھ فیصد کر دے تاکہ پیٹرول کی قیمت کے حساب سے ہمارا پرافٹ مارجن بھی بڑھے اور ہمارا خسارا کم ہو۔

’آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں ویسے ہی اضافہ ہونا ہے، ہمارا مارجن بڑھانے سے پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی بہت اضافہ نہیں ہوگا۔‘

آل پاکستان ریٹیلرز ایسوسی ایشن اور پاکستان چیمبر آف کامرس کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم مصنوعات کے چیئرمین سمیر گلزار کا کہنا تھا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیز کے باعث ہر ماہ پیٹرول پمپس کو ’تین سے چار لاکھ  روپے کا نقصان ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’حکومت کے اپنے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار ڈیویلپمنٹ ایکنامکس (پائیڈ) کی ہی رپورٹ کے مطابق ہماری کاروبار کرنے کی لاگت چار روپے 70 پیسہ فی لیٹر ہے۔

’پائیڈ کی ہی ریسرچ کے مطابق پیٹرول پمپس کو ہر لیٹر پر 62 پیسہ فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ جب حکومت ہی یہ کہہ رہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پیٹرول پمپس خسارے میں چل رہے رہے ہیں۔‘

تاہم پائیڈ کی جس ری سرچ کا حوالہ سمیر گلزار دے رہے تھے وہ 2013 کی ہے۔ البتہ اس ری سرچ کی بنیاد پر پائیڈ کی جانب سے 2020 میں ایک اور ری سرچ پیپر لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ ’شہری علاقوں میں بنے پیٹرول پمپس کی آمدنی اور مجموعی منافع ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کیوں شہروں میں پیٹرول کی خرید زیادہ ہوتی ہے۔ مگر شہری علاقوں میں پیٹرول پمپس کو چلانے کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔‘

تاہم جہاں ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے وہیں پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں اس کے زیر ملکیت اور زیر انتظام پیٹرول پمپس بدستور کھلے رہیں گے اور معمول کے مطابق کام کریں گے۔
 

حکومت کا موقف

وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن بڑھانے کے مطالبے کے معاملے پر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کہہ چکے ہیں کہ حکومت پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ان کے مطابق ’مارجن پر نظر ثانی سے متعلق سمری پہلے ہی ایکنامک کوارڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) میں پیش کرچکے ہیں۔ اس معاملے پر ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں فیصلہ ہوجائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے وزارت توانائی سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان محمد اسماعیل نے کہا کہ وزارت آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کے لیے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے ذریعے 10 روز میں فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

محمد اسماعیل کے بقول: ’کل (جمعرات کو) ملک بھر میں تمام پی ایس او، شیل، ٹوٹل اور دیگر کمپنیوں کے پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ آئل سپلائی کو جاری رکھنے کے لیے ٹینکروں کو روانہ کردیا گیا ہے۔ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘  

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے ترجمان عمران غزنوی کا جمعرات کو کہنا تھا کہ صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کہاں کہاں پیٹرول پمپس بند ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کے عمر فیضان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنی آپریٹڈ پیٹرول پمپس ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ ’کل رات عوام نے بلاوجہ پیٹرول پمپس کا رُخ کر دیا جس سے رش ہوا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پیٹرول کی سپلائی نہ کرنے پر فرنچائزز کو نہیں آئل مارکیٹینگ کمپنیوں کو پہلے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا اور پھر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان