پیٹرول بم، پاکستان بمقابلہ ترقی یافتہ ممالک

اگر آپ پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کر رہے ہیں تو ان ممالک کی آمدن کا موازنہ بھی پاکستان کے ساتھ کریں۔

اگست میں اسلام آباد میں ایک پیٹرول پمپ پر بیٹھا ملازم۔   پیٹرول کی قیمت نے 146روپے  فی لیٹر کا ہدف عبور کر کے نیا ریکارڈ بنا دیا ہے (اے ایف پی)

وزیراعظم صاحب نے تین نومبر کو جس ریلیف پیکج کا اعلان کیا اس کا درست مطلب پانچ نومبر کو رات 1 بج کر 30منٹ پر اس وقت سمجھ آیا جب پیٹرول کی قیمت میں تقریباً آٹھ روپے اضافہ کیا گیا۔

عمومی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15 دنوں کے بعد تبدیل کی جاتی ہیں لیکن اس مرتبہ 30 دنوں کے بعد قیمتیں بڑھائی گئیں۔ اعلان کرنے کے لیے آدھی رات کا وقت کیوں چنا گیا اس بارے میں حکومت خاموش ہے۔ لیکن 31 اکتوبر کو جب میڈیا پر خبر چلی کہ وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی اوگرا کی سمری مسترد کر دی ہے تو عوام نے تھوڑا سکھ کا سانس لیا کیونکہ تمام ماہر معیشیت اور حکومتی حلقے بھی یہ بتا رہے تھے کہ یکم نومبر سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔

وزیراعظم کا اوگرا سمری مسترد کرنا  میری سمجھ سے بالاتر تھا لیکن یہ حیرانی اور خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکی اور بالآخر پانچ نومبر کو بلی تھیلے سے باہر آہی گئی۔ پیٹرول کی قیمت نے 146روپے کا  ہدف عبور کر کے نیا ریکارڈ بنایا۔ اس مرتبہ حکومت نے قیمتیں بڑھانے سے پہلے عوام کی ذہن سازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے شاید وزیراعظم صاحب نے خود تقریر کر کے عوام کو یہ خبر دینا مناسب سمجھا۔ حکومت کے اکثر فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی غلط ثابت ہوتا دکھائی دیا۔ تنقید کے جو نشتر مشیر خزانہ پر چلائے جانے تھے وزیراعظم صاحب نے ان کا رخ اپنی جانب کر لیا۔ لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ 

وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ میڈیا تصویر کا صرف ایک رخ پیش کررہا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ عوام کو تصویر کے دونوں رخ دکھائے۔ پیٹرول مہنگا ہونا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ امریکہ، کینیڈا اور انگلینڈ میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئیے وزیراعظم صاحب کی خواہش کے مطابق تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانیہ میں تیل کی قیمت اور کم سے کم آمدن کے بارے معلومات لینے کے لیے برطانیہ میں مقیم کاروباری شخصیت ذوہیب شاہنواز سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً ایک پاؤنڈ 40 سینٹ ہے اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کی کم سے کم آمدن تقریباً 80 پاؤنڈ ہے، جس میں تقریباً 53 لیٹر پیٹرول خریدا جا سکتا ہے۔ 

 کینیڈا میں مقیم پاکستانی نژاد طارق ایوب صدیقی نے بتایا کہ کینیڈا میں اوسطاً ایک لیٹر پیٹرول تقریباً ڈیڑھ ڈالر کا ملتا ہے اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کی کم سے کم آمدن تقریباً سو ڈالر ہے۔ جس میں تقریباً 66 لیٹر پیٹرول مل جاتا ہے، جو کہ 15 دنوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔ صرف ایک دن کی کمائی سے پورے مہینے کا بجلی کا بل ادا ہو جاتا ہے۔ تقریباً 10 دن کی کمائی پورے مہینے کے اخراجات کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بقیہ 20 دن جو کمائیں وہ بچت ہوتی ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ 

امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد انوار الحق نے بتایا کہ امریکہ میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً تین ڈالر ہے اور آٹھ گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً 112 ڈالر ہے، جس میں تقریباً 37 لیٹر پیٹرول مل جاتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ ان تینوں ممالک کے اعدادوشمار اپنے سامنے رکھیں اور ان کا موازنہ پاکستان کے ساتھ کریں تو اصل صورت حال واضح ہو سکے گی۔ پاکستان میں آٹھ گھنٹے کام کرنے کی کم از کم اجرت 800 روپے ہے جس میں صرف ساڑھے پانچ لیٹر پیٹرول ملتا ہے۔

وزیراعظم صاحب  اگر آپ پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کر رہے ہیں تو ان ممالک کی آمدن کا موازنہ بھی پاکستان کے ساتھ کریں۔ اگر ان ممالک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے تو آمدن بھی بڑھی ہے۔ آپ میڈیا کو قصوروا ٹھہرانے کی بجائے پاکستان کے باسیوں کی آمدن بڑھانے پر توجہ دیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ اگر آمدن بھی بڑھ جائے تو عوام کی مشکلات میں اضافہ نہیں ہوتا۔ وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ آپ عوام کو آدھا سچ بتانے کی بجائے پورا سچ بتائیں۔ تاکہ عوام کو آپ کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو مزید قرض لینا پڑے گا۔ اگر اس بیان کو حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو حالات مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

پانچ نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے اضافہ کیا گیا۔ جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 85 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ کا اضافہ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 15اکتوبر کو جو  تقریباً 10روپے اضافہ کیا گیا تھا اس میں سے پانچ روپے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے بڑھائے گئے تھے۔

شوکت ترین صاحب امریکہ جانے سے پہلے ٹیکس میں اضافہ کر کے گئے تھے تا کہ آئی ایم ایف کو خوش کیا جا سکے لیکن ابھی تک اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔ عوامی سطح پر عمومی طور پر یہ رائے قائم ہورہی ہے کہ ممکنہ طور پر پانچ نومبر کو کیا گیا اضافہ بھی بے سود ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں وزیراعظم صاحب کو دلیرانہ فیصلے لینے چاہییں اور ٹیکس، لیوی بڑھا کر پیٹرول کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسے واپس لینا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئی ایم ایف بھی مطمئن نہ ہو او ر عوام بھی راضی نہ ہوں۔ شاعر  نے کیا خوب کہا ہے کہ 

نہ خد ا ہی ملا اور نہ وصال صنم 
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت