پاکستان، سعودی عرب کے درمیان تین ارب ڈالر ڈپازٹ کا معاہدہ

اس معاہدے کے تحت سعودی فنڈ پاکستان سٹیٹ بنک کے پاس تین ارب ڈالر رکھوائے گا۔ معاہدے کے تحت ڈپازٹ کی رقم سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ بن جائے گی اور کووڈ 19 کی وبا کے منفی اثرات دور کرنے  میں مددگار ثابت ہوگی۔

رواں سال اکتوبر میں عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران لی جانے والی تصویر(اے ایف پی/ سعودی شاہی محل)

سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور حکومت پاکستان کے درمیان تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

سٹیٹ بنک کراچی میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اس ڈپازٹ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے موقع پر سعودی عرب کی نمائندگی سعودی فنڈ برائے ترقی اور حکومت پاکستان کی نمائندگی سٹیٹ بنک آف پاکستان نے کی۔

معاہدے پر سعودی عرب کی جانب سے سعودی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان بن عبدالرحمان المرشد اور پاکستان کی جانب سے گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر نے دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت سعودی فنڈ پاکستان سٹیٹ بنک کے پاس تین ارب ڈالر رکھوائے گا۔ معاہدے کے تحت ڈپازٹ کی رقم سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ بن جائے گی اور کووڈ 19 کی وبا کے منفی اثرات دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے معاشی پیکج کا اعلان کیا گیا تھا کہ سعودی ترقیاتی فنڈ غیر ملکی کرنسی کے محفوظ اثاثوں میں سپورٹ اور کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کرائے گا۔

اس حوالے سے اکتوبر میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مالی معاونت کرنے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

عمران خان کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’پاکستان کے مرکزی بنک میں تین ارب ڈالر ڈپازٹ کرنے اور پٹرولیم کی مصنوعات کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے ذریعے پاکستان کی مدد کرنے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان