ایرانی ایٹمی پلانٹ سے 20 کلومیٹر دور دھماکہ: ’میزائل سسٹم ٹیسٹ‘

ایرانی فوج کے ترجمان جنرل امیر ترخانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ ’تشویش کی کوئی وجہ نہیں۔ ایک گھنٹہ پہلے، دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ کیا گیا تھا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کس قدر تیاری کی حالت میں ہے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

2005، نطنز کے ایٹمی پلانٹ میں ایرانی ہیلی کاپٹر لینڈ کرتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ہفتے کے روز ایران کے نطنز جوہری پلانٹ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر زوردار دھماکا سنائی دیا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ایرانی خبررساں ایجنسی ارنا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک فضائی دفاعی تجربہ تھا اور دھماکے کی آواز ایرانی شہر بدرود میں سنی گئی جو نطنز ایٹمی پلانٹ سے 12 میل دور ہے۔

یہ واقعہ اس دن پیش آیا جب عالمی طاقتوں سے ایران کے جوہری مذاکرات بظاہر دوبارہ ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق ’بدرود کے رہائشیوں نے شور سنا اور ایک روشنی دیکھی جس سے لگتا تھا کہ شہر کے آسمانوں میں کوئی چیز ابھی اڑائی گئی ہے۔‘

ایرانی فوج کے ترجمان جنرل امیر ترخانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ ’تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایک گھنٹہ پہلے، دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ کیا گیا تھا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کس قدر تیاری کی حالت میں ہے، عوام کے لیے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

ایران کے نطنز پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی  تقریباً مکمل طور پر زیر زمین ہے، جو کنکریٹ سے مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہے۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے معاہدے کے تحت، ایران نے پلانٹ میں افزودہ یورینیم کی مقدار اور اس کی افزودگی کی حد محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

دوسری جانب امریکہ نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی مذاکرات کو ’سست رفتاری سے چلنے‘ کی اجازت نہیں دے گا جب کہ ساتھ ساتھ ایران کی جوہری سرگرمیاں بھی تیز ہو رہی ہوں۔

یہ انتباہ اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جب امریکی حکومت نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ایران سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے آسٹریا کے دارالحکومت سے واپسی کے بعد بات کرتے ہوئے کہا ’ایران نے 2015 کے معاہدے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم ایسی صورت حال کو قبول نہیں کر سکتے جس میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرے اور اپنی جوہری سفارت کاری کو سست کر دے،‘

جوہری مذاکرات کا ساتواں دور ویانا میں پانچ دن جاری رہنے کے بعد جمعے کو ختم ہوا، وفود اپنے قومی دارالحکومتوں کو واپس لوٹ گئے اور توقع ہے کہ وہ اگلے ہفتے آسٹریا دوبارہ جائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی محکمہ خارجہ اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے حالیہ بات چیت میں ان تمام سمجھوتوں کو نہ صرف ترک کیا بلکہ رواں ہفتے امریکہ-ایران بالواسطہ مذاکرات کے دوران ’مزید اقدامات‘ کا مطالبہ کیا۔‘

’پانچ مہینوں سے زیادہ عرصے میں اس طرح کی پہلی بات چیت کے دوران ایرانی موقف نے نہ صرف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں بلکہ چین اور روس کو بھی مایوس کیا جو تاریخی طور پر ایران کے زیادہ ہمدرد ہیں۔‘ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز بتایا۔

مذکورہ اہلکار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ اب بھی اس معاہدے کو بحال کرنا چاہتا ہے جس کے تحت ایران نے اقتصادی پابندیوں سے نجات کے بدلے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنا تھا لیکن وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔‘

ویانا میں جمعے کو یورپی حکام نے بھی ایران کی سخت گیر حکومت کے مطالبات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

تازہ ترین مذاکرات ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی طرف سے بھیجے گئے مندوبین کے ساتھ کیے گئے۔ رئیسی جون میں منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت نے اپریل اور جون کے درمیان چھ دوروں کے بعد نئے مذاکرات کی تیاری کے لیے نومنتخب حکومت کے عذر سے مزید وقت کا تقاضا کیا تھا۔

سینئر امریکی اہلکار کے مطابق ’ایران نے مذاکرات کے لیے مانگے گئے اس وقت کو اپنا جوہری پروگرام تیز کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بات چیت کے لیے دروازہ کھلا چھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے مذکورہ اہلکار نے روئٹرز سے گفتگو کے دوران ایران کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ’ یہ وجہ ہے جس کے باعث برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والے اصل معاہدے کی طرف ایران واپس نہیں آ رہا۔‘

تاہم ایران نے تمام تر ذمہ داری امریکہ پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور امریکی پابندیاں ایران پر دوبارہ لگائی تھیں جن کے باعث ایران نے 2019 میں جوہری پابندیوں کی خلاف ورزی دوبارہ شروع کر دی تھی۔

2015  کے معاہدے میں ایران کی یورینیم افزودگی سے متعلق سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور اس چیز کا خیال رکھا گیا تھا کہ اگر ایران چاہے تو بھی جوہری ہتھیاروں کو افزودہ کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہو۔

ایران کا جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتے ہوئے سرکاری بیان یہی رہا ہے کہ وہ صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا