کامیاب جوان پروگرام: ’انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے ہے‘

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کامیاب جوان پروگرام کے سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان چھ دسمبر کو کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو کا افتتاح کریں گے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا فواد چوہدری، فہمیدہ مرزا اور عثمان ڈار نے نیوز کانفرنس کی جس میں کامیاب جوان پروگرام کے حوالے سے تفصیل بتائی گئی(تصویر: وزارت اطلاعات )

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کا کامیاب جوان پروگرام انتہا پسندی جیسی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا فواد چوہدری، فہمیدہ مرزا اور عثمان ڈار نے نیوز کانفرنس کی جس میں کامیاب جوان پروگرام کے حوالے سے تفصیل بتائی گئی۔ فواد چوہدری نے سیالکوٹ واقعہ کے پس منظر میں کہا کہ انتہاپسندی جیسی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لا اینڈ آرڈر پر قابو ہوگا تو سیاست ہو سکے گی۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں معیشت اورسیاست ہی نیچے کی طرف نہیں آئی بلکہ کھیلوں میں بھی تنزلی کا رجحان دیکھا گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان بھرمیں نوجوانوں کوسہولیات اورتوانائی موثراندازمیں بروئے کار لانے کا موقع دیں گے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان چھ دسمبر کوسپورٹس کمپلیکس میں مشعل جلا کر کھیلوں کے مقابلوں کا افتتاح کریں گے۔ تقریبا پانچ ہزار بچے اور بچیاں ان کھیلوں کے مقابلے کاحصہ بنیں گے۔‘

کامیاب جوان پروگرام کیا ہے؟

معاون خصوصی عثمان ڈار نے میڈیا کو بتایا کہ ’کامیاب جوان پروگرام کے تحت گلی محلے میں کھیلنے والوں کے لیے کھیلوں کے میدان پھر سے آباد ہو جائیں گے۔‘

اُن سے جب سوال کیا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام آخرہے کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام ایک وسیع پروگرام ہے جس میں مختلف سکیمیں شامل ہیں۔

ان کے مطابق ان میں سے ایک ایسی سکیم ’کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو‘ چھ دسمبر کو شروع ہو رہی ہے جس میں ملک کے جوانوں میں کھیلوں کی قابلیت جانچی جائے گی۔ 

عثمان ڈار کے مطابق اس ڈرائیو کا افتتاح جناح سٹیڈیم اسلام آباد سپورٹس کملیکس میں کیا جائے گا جس کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ کھیلوں کے شعبے میں پاکستان کا معیار عالمی سطح پر لانے کے لیے سابق مشہور برطانوی فٹ بالر مائیکل اوون بھی کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو کا حصہ بن گئے ہیں۔ 

ان کے بقول پاکستان میں ’ساکر سٹی‘ قائم کرکے زبردست ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے جلد نیشنل ٹرائلز شروع کیے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عثمان ڈار نے بتایا کہ پاکستانی کے مقامی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر کامیاب بنانے کے لیے منصوبے کے پہلے فیز میں 12 کھیل بشمول ہاکی، کرکٹ، فٹ بال، ہینڈ بال، ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، سکواش، والی بال، سکیئنگ، جوڈو، باکسنگ اور ایتھلیٹکس شامل ہیں۔

مہم میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں 10 مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں۔

عثمان ڈار نے مزید بتایا کہ ملک کے تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 25 علاقہ جات میں کھیلوں کے مقابلے کرائے جائیں گے اور ایک کروڑ نوجوانوں کو سیلکشن کے عمل سے گزارا جائے گا۔

ان کے بقول کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو کے تحت بائیو مکینک لیب اور 12 یونیورسٹیوں میں عالمی میعار کی سپورٹس اکیڈمیاں اور ہائی پرفارمنس سنٹرز قائم کیے جارہے ہیں جہاں کامیاب کھلاڑیوں کو ٹریننگ فراہم کی جائےگی۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 93 فیصد آبادی تو کھیلوں کی سہولیات سے ہی محروم ہے اور حکومت کروڑوں نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔ 

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی ربطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اس موقع پر کہا: ’ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو کھیلوں کے میدان میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سال کھیلوں کے سال کے طور پر لے کر چلنے کا پلان بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق انٹر بورڈ، شہروں اور صوبوں کے درمیان بھی کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ’کوچنگ اور ٹیکنالوجی فراہم کررہے ہیں، اس سے نوجوانوں کی صلاحتیں بہترہوں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان