پریانتھا کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کون ہیں؟

وزیر اعظم عمران خان نے پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے سیالکوٹ میں مبینہ توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جائے گا۔

ایک ٹویٹ میں اتوار کو وزیر اعظم عمران خان نے ملک عدنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی جرات اور بہادری پر ان کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا: ’میں قوم کی طرف سے ملک عدنان کی اخلاقی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سیالکوٹ میں پریانتھا دیاوادانہ کو مشتعل ہجوم سے پناہ دینے اور بچانے کی بھرپور کوشش کی۔‘

سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں مینیجر کے عہدے پر فائز پریانتھا کمارا کو گذشتہ جمعے کو ایک مشتعل ہجوم نے مبینہ توہین مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنا کر نذر آتش کر دیا تھا۔ 

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں مشتعل افراد کو  پریانتھا کو تشدد کا نشانہ بناتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کہ ویڈیوز میں کسی شخص کو پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کون ہیں؟

سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کا کہنا ہے کہ ’میں نے پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی پوری کوشش کی لیکن ہجوم کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا۔‘

اہانت مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوشش میں ملک عدنان نے اپنی جان بھی خطرے میں ڈال دی۔

اس پہلو کو جب میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا گیا اور ان کی کوششوں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو انہیں کافی پذیرائی ملی اور وزیر اعظم پاکستان نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

ملک عدنان کے مطابق وہ خوش ہیں کہ ان کی کوشش ملکی تشخص میں بہتری کا سبب بن رہی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ اگوکی محمد ارمغان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک عدنان سیالکوٹ کے نواحی گاؤں اولکھ جٹاں کی رہائشی ملک برادری سےتعلق رکھتے ہیں۔ وہ اسی فیکٹری میں ڈپٹی مینیجر ہیں جس میں سی لنکن شہری پریانتھا مینیجر تھے۔‘

ایس ایچ او کے مطابق ’جمعے کو پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ میرے ساتھ کافی دیر تک رہے اور تفصیل بتاتے رہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ وہ مقتول کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور اپنی جان بھی خطرے میں ڈال دی بدقسمتی سے وہ کامیاب نہیں ہوئے۔‘

محمد ارمغان کے مطابق ملک عدنان دس سال سے اسی فیکٹری میں کام کر رہے ہیں۔ وہ کافی سلجھے ہوئے اور شریف انسان ہیں۔ ان کا رویہ کافی ہمدردانہ ہے وہ اس کیس میں مستند گواہ کے طور پر بھی شامل ہیں۔

پولیس ایس ایچ او کے بقول کہ ’ملک عدنان نے واقعہ کے وقت بھاگنے کی بجائے اپنے مینیجر کی جان انسانی ہمدردی کے تحت بچائی ہے اور پولیس سے بھی بھر پور تعاون کر رہے ہیں تاہم ان کی حفاظت کو پولیس یقینی بنا رہی ہے۔‘

ملک عدنان نے اتوار کی شام میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کا شکریہ اداکرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے واقعہ سے اس پہلو کو اجاگر کر کے ملک کا مثبت تاثر پیش کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ’اس واقعہ کے وقت فیکٹری کے دوسرے گیٹ سے لوگ داخل ہوئے جن میں دوسری فیکٹری کے ملازم بھی تھے اور گاؤں کے لوگ بھی شامل تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’بڑی تعداد میں مشتعل لوگوں نے جب پریانتھا پر حملہ کیا تو میں نے آگے بڑھ کر انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور بہت حد تک روکنے کی جدوجہد کرتا رہا لیکن لوگ بات سننے کو یا تشدد بند کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں تشدد میں شامل کافی لوگوں کو پہچانتا ہوں اور پولیس کو اس معاملے میں تفصیل فراہم کر رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیکٹری محافظ فیکٹری تنصیبات بچا رہے تھے۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ دوسری جانب ہجوم نے فیکٹری مینیجر پر تشدد کیا اور باہر لے گئے ہیں۔‘

ملک عدنان کے مطابق ’ایک اور شخص بھی تھا جو میرے ساتھ مل کر مشتعل افراد سے ہاتھ باندھ کر تشدد سے باز رہنے کی اپیل کرتا رہا۔‘

ان کے بقول ’پریانتھا کو اردو لکھنی یا پڑھنی نہیں آتی تھی ان پر کلمہ کی بے حرمتی کا الزم لگایا جا رہا ہے۔‘

ملک عدنان نے کہا کہ جب وہ مینیجر کو بچانے کی کوشش کررہے تھے انہیں بھی ہجوم سے ردعمل کا خطرہ تھا۔ ’لیکن ملک کے لیے جان بھی قربان ہے۔ اسی جذبہ سے کوشش جاری رکھی۔‘

بچانے کی کوشش سے پزیرائی ملی

ایس ایچ او محمد ارمغان کا کہنا ہے کہ ملک عدنان کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہے لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی پرتشدد ہجوم کو روکنے کی کوشش انہیں ہیرو بنا دے گی۔ ورنہ وہ ان کے ساتھ سیلفیاں ضرور بناتے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے پر تشدد واقعات میں لوگ کم ہی کسی کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ بے ہنگم اور جذبات سے بھرے لوگ کسی پر بھی حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ مگر ملک عدنان نے جس طرح جان خطرے میں ڈالی اس پر حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی ہوئی کہ لوگ انسانی ہمدردی کے تحت دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر بھی ملک عدنان کو خوب پذیرائی مل رہی ہے جس میں انہیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک غیر ملکی کو اپنے ملک میں تشدد سے بچانے کی کوشش کر کے عالمی سطح پر مثبت پیغام دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے علاوہ پنجاب حکومت نے بھی سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی جدوجہد کرنے والے ساتھی مینیجر ملک عدنان کو انسانی حقوق کا ایوارڈ دینےکا اعلان کیا ہے۔

پنجاب کے صوبائی وزیرانسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک عدنان کو 10 دسمبرکو انسانی حقوق کےعالمی دن پر ایوارڈ دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان