بپن راوت چھ سال پہلے ہیلی کاپٹر حادثے میں کیسے زندہ بچے تھے؟

بدھ کو بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت اور 13 دیگر افراد کے ساتھ گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

بدھ آٹھ دسمبر کو ہیلی کاپٹر کے حادثے میں اپنی اہلیہ اور 11 دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہونے والے بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت چھ سال قبل اسی طرح کے ہیلی کاپٹر حادثے میں بال بال بچ گئے تھے۔

بھارتی اخبار ٹربیون انڈیا کے مطابق یہ فروری سال 2015 کا واقعہ ہے جب جنرل راوت لیفٹیننٹ جنرل تھے اور تھرڈ کور کی سربراہی کر رہے تھے۔ جس کا صدر دفتر دیما پور، ریاست ناگالینڈ میں تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت جس ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے وہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس چیتا ہیلی کاپٹر کا پائلٹ اپنا کنٹرول کھو چکا تھا۔ جس کے بعد یہ ہیلی کاپٹر 20 میٹر کی اونچائی سے ایک اینٹ کی طرح زمین پر آ گرا تھا۔

 اس حادثے میں جنرل راوت کو معمولی چوٹیں آئیں تھیں۔ ٹربیون انڈیا کے مطابق سال 1950 کی دہائی کا چیتا ہیلی کاپٹر فرانسیسی ساختہ ہے۔

اخبار کے مطابق ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر جو بدھ کو چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) بپن راوت اور 13 دیگر افراد کے ساتھ گر کر تباہ ہوا تھا۔ یہ ایک جدید عسکری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہے جو سال 2012 سے بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے بیڑے میں شامل کیا گیا۔

جدید ترین نائٹ ویژن ڈیوائسز کے ساتھ اس ہیلی کاپٹر میں موسمی ریڈار بھی موجود ہے۔

اس میں نیا پی کے وی-ایٹ  خودکار پائلٹ سسٹم اور کے این ای آئی ایٹ ایویونکس سوئٹ (مواصلات، نیوی گیشن، ڈسپلے اور ایک سے زیادہ سسٹمز کا انتظام) بھی ہے۔ یہ اڑان بھرتے وقت زیادہ سے زیادہ 13 ہزار کلوگرام کا وزن اٹھا سکتا ہے جب کہ اس پر زیادہ سے زیادہ چار ہزار کلوگرام پے لوڈ وزن لے جایا جا سکتا ہے۔

بھارت نے سال 2008 میں اپنے ریلیف مشن کے لیے روس کے ساتھ 80 ایم آئی 17وی فائیو ہیلی کاپٹرز کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

بعد میں معاہدے میں توسیع کر کے ہیلی کاپٹروں کی تعداد151 کر دی گئی تھی۔ ان ہیلی کاپٹروں کا پہلا بیڑہ ستمبر 2011 میں بھارت پہنچا تھا۔

فروری 2012 میں بھارتی ایئرفورس(آئی اے ایف) نے روس سے باضابطہ طور پر ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر حاصل کیے تھے تاکہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے جس میں فوجیوں اور کارگو کو اونچائی والے علاقوں تک لے جانا بھی شامل ہے۔

اس ہیلی کاپٹر میں ہیٹ سیکرمیزائلوں کے خلاف خودکار دفاعی نظام بھی نصب ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روسی دفاعی کمپنی روسوبورون ایکسپورٹ کا کہنا ہے کہ ایم آئی17وی فائیو فوجی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر افراد کو منتقل کرنے، کارگو اور کارگو کے آلات، ٹیکٹیکل حملے کرنے والی فورسز کو اتارنے، زمینی اہداف کو نشانہ بنانے اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر زیادہ سے زیادہ 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔

ہیلی کاپٹر میں جدید انجن لگائے گئے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹروں کی ایم آئی سیریز کا تکنیکی طور پر جدید ترین ہیلی کاپٹر ہے۔

بھارتی ویب سائٹ دی ہندو کے مطابق ’ننجپن ستھی رام کے رہائشیوں کو اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا ہے وہ حقیقت ہے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق بھارتی فضائیہ کا یہ ہیلی کاپٹر گرنے اور آگ کی لپیٹ میں آنے سے پہلے ایک درخت سے ٹکرایا تھا۔

پی کرشنا سامی نامی مقامی شہری کا کہنا تھا کہ ’میں گھر میں تھا جب میں نے ہیلی کاپٹر گرنے کی بلند آواز سنی۔ میں بھاگ کر باہر گیا اور دیکھا ہیلی کاپٹر درخت سے ٹکرا کر تباہ ہونے سے پہلے وادی سے سیدھا اوپر کو اٹھ رہا تھا جس کے بعد یہ درخت سے ٹکرایا اور گر گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے آگ لگے ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا جو مدد کے لیے چیخ رہے تھے۔ چونکہ آگ بہت زیادہ تھی تو ہم ہیلی کاپٹر کے ملبے کے قریب نہیں جا سکتے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد پی چندر کمار کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ انہوں نے ابتدائی طور پر سوچا تھا کہ ایل پی جی سلنڈر پھٹ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ویلنگٹن میں ڈیفنس سروسز سٹاف کالج جانے والے ہیلی کاپٹر عام طور پر بستی کے اوپر سے اڑتے ہیں تاہم جب حادثہ پیش آیا تو یہ علاقہ بادلوں سے گھرا ہوا تھا۔

ایک اور رہائشی کے مطابق ’ہیلی کاپٹر قریب ہی واقع ایک گھر یا بستی میں گرنے سے بچ گیا۔ اگر یہ ہمارے گھروں سے ٹکرا جاتا تو ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا