’لیرا کی قدر میں کمی سے میری تنخواہ 160 سے 50 ڈالر برابر رہ گئی‘

ترکی کے حمایت یافتہ باغی گروپوں نے گذشتہ سال اپنے زیر انتظام شام کے شمالی علاقوں میں ترک کرنسی کا استعمال شروع کر دیا تھا جس کی قیمت میں 45 فیصد کمی کے بعد شامی سکول ٹیچر محمد الدیبک احتجاجاً ہڑتال پر ہیں۔

شامی شہری  جون 2020 کو شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب کے قصبے سرمدا میں کرنسی ایکسچینج کی دکان سے ترکی لیرا وصول کر رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

شمالی شام میں سکول ٹیچر محمد الدیبک کئی روز سے کام پر نہیں جا رہے، ہمسایہ ملک ترکی میں کرنسی کی قدر کم ہونے کے بعد ان کی تنخواہ ایک تہائی رہ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمدالدیبک کا اپنا قصبہ ’الباب‘ جنگ سے تباہ حال شام کے شمالی حصے میں واقع ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران شام کے اس علاقے میں ترکش لیرا لین دین کی بڑی کرنسی کے طور پر سامنے آیا۔ لیرا کی قیمت میں تیزی سے ہونے والی کمی نے اس علاقے کے لوگوں کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔

33 سالہ محمدالدیبک نے اپنے سکول کی کی زرد رنگ کی دیواروں کے باہر کھڑے ہو کر اے ایف پی کو بتایا ’2017 میں میری تنخواہ 160 امریکی ڈالر کے قریب بنتی تھی جو اب کم ہو کر 50 ڈالر رہ گئی ہے۔ اس سے مکان کا کرایہ بمشکل ادا کیا جا سکتا ہے۔‘

نہ صرف شام کے سرحدی علاقے پر ترک فوج موجود ہے بلکہ یہاں بازاروں میں دستیاب زیادہ تر سامان اور موبائل فون آپریٹرز بھی ترکی کے ہیں۔

ترکی کے حمایت یافتہ باغی گروپوں نے گذشتہ سال اپنے زیر انتظام شام کے شمالی علاقوں میں شامی پاؤنڈ کی جگہ ترک کرنسی کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ صرف اس سال ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت میں 45 فیصد کمی ہوئی ہے اور علاقے کے دوسرے لوگوں کی طرح محمد الدیبک کی قوت خرید بھی کم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لیرا کی قیمت میں کمی کی وجہ سے سکول کے بعد میں دوسری نوکری ڈھونڈنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔‘

محمد الدیبک دوپہر کے بعد نئی نوکری کتابوں کی ایک دکان میں کرتے ہیں جہاں سے انہیں 40 ڈالر ملتے ہیں لیکن اس کے باوجود دو سو ڈالر بھی پورے نہیں ہوتے جو انہیں گزراوقات کے لیے چاہییں۔

معاشی اعتبار سے شام کے اس علاقے کی قسمت ترک کرنسی سے جڑی ہوئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں لیرا کی قیمت میں کمی سے اس علاقے کے مسائل بڑھ گئے ہیں جس کے مکین پہلے ہی جنگ سے خستہ حال ہیں۔

شام میں انسانی صورت حال سے متعلق اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ’97 فیصد آبادی حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو ملازمت کر رہے ہیں، انتہائی غربت میں رہ رہے ہیں۔‘

شام میں افراط زر طرح بڑھ رہا ہے جس طرح ہمسایہ ملک ترکی میں۔ کھانے پینے کی بنیادی اشیا جیسے کہ روٹی، ریکارڈ قیمت میں فروخت ہو رہی ہیں، جب کہ قوت خرید انتہائی نیچے جا چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب چپاتی کے پیکٹ کی قیمت میں اضافہ رک جاتا ہے تو مقامی لوگ کہتے ہیں کہ پیکٹ میں موجود روٹی کی قیمت بھی کم ہو جاتی ہے۔

علاقے ایوان تجارت کے عہدے دار احمدابوعبیدہ جو ترکی سے کھانے پینے کا سامان درآمد کرنے والی کمپنی کے مالک ہیں، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کا استعمال کم ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا: ’بنیادی اشیا کی طلب کم ہوئی ہے اور عام طور پر لوگ روزمرہ کے کھانے پینے کا سامان، ادویات اور ایندھن خریدنے کے قابل نہیں رہے۔‘

36 سالہ خاتون حناالیسبو ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ پانچ سال پہلے فضائی حملے میں بیوہ ہونے کے بعد سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے قائم کیمپ میں مقیم ہیں۔ وہ گندم اور آلو کاشت کر کے عام طور پر دن میں تقریباً 20 لیرا کماتی ہیں۔ بچوں کی خوراک اور انہیں سردی سے بچانے کے لیے یہ رقم کافی تھی۔

اب ان کی یومیہ آمدن صرف ڈیڑھ ڈالر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے انہیں دیہی علاقے سے جلانے کی لکڑی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ الیسبو کے بقول: ’میرا خواب ہے کہ  میرے پاس بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان خریدنے کے لیے روزانہ 50 لیرا ہوں تا کہ وہ بھوکے نہ سوئیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا