جب دلیپ کمار نے بمل رائے کے مالی خسارے کا حل نکالا

ہدایت کار بمل رائے کی ’پرفیکشن‘ کی عادت نے یہ مشکل کھڑی کردی تھی کہ فلم ’مدھو متی‘ مکمل ہونے کے بعد طے شدہ بجٹ سے اوور بجٹ ہوگئی اور وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ڈسٹری بیوٹرز کو کیسے فلم زیادہ معاوضے پر خریدنے پر مجبور کریں۔

فلم ’مدھو متی‘ میں دلیپ کمار اور  وجنتی مالا نے مرکزی کردار ادا کیا (سکرین گریب)

ہال میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ سٹیج پر موجود دلیپ کمار جواب کے منتظر تھے اور ادھر ڈسٹری بیوٹرز کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔

ہدایت کار بمل رائے کے ماتھے پر شکنیں پڑ رہی تھیں۔ انہیں ایسالگا کہ جو کچھ دلیپ کمار نے کہا تھا، اس کا مثبت نتیجہ نہیں آئے گا۔ رہ رہ کر وہ اس بات پر ملال کر رہے تھے کہ ان کی ’پرفیکشن‘ کی عادت نے انہیں کس قدر مسائل سے دوچار کردیا ہے۔

ہدایت کار بمل رائے کا یہ وتیرہ رہا تھا کہ جب تک ان کے مطلب کا منظر نہیں ملتا، وہ بار بار اداکاروں سے اداکاری کراتے۔ جہاں وہ سمجھتے کہ ان کے ذہن کے گوشے میں بنے ہوئے خاکے کے مطابق انہیں نتائج مل گئے تب جا کر سکون آتا۔ یہ ایک ہدایت کار کی ذہنی تسکین کا انداز تھا، لیکن اب یہی عمل ان کی فلم ’مدھو متی‘کی نمائش کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔

دلیپ کمار، وجنتی مالا اور پران کو لے کر بمل رائے نے 1957کے اختتامی مہینوں میں ’مدھو متی‘ کی عکس بندی کا آغاز کیا تھا۔ دلیپ کمار دو سال پہلے ہی ’دیو داس‘ بنا کر بھارتی فلموں میں اپنا قد اور بلند کر گئے تھے۔ اس سے قبل بمل رائے کی ’پرانیتا‘ اور ’دو بیگھہ زمین‘ نے بھی تہلکہ مچایا تھا، لیکن دلیپ کمار کے ساتھ ’دیوداس‘ بنا کر تو انہیں صحیح معنوں میں لطف آیا، جن کے پیشہ ورانہ رویے اور اخلاقی اقدار سے وہ حد درجہ متاثر ہوئے تھے۔

اسی بنا پر ’مدھومتی‘ بناتے وقت انہوں نے کسی اور کا نہیں اپنے اُس ہیرو کا انتخاب کیا، جنہوں نے ان کے ذہن میں بسنے والے ہر منظر اور ہر مکالمے کو تمام تر فنی جزئیات سے ادا کیا۔ دیکھا جائے تو ’مدھومتی‘ میں انہوں نے وجینتی مالا کو بھی ’دیوداس‘ میں غیرمعمولی اداکاری سے متاثر ہو کرشامل کیا تھا۔

فلم ’مدھومتی‘ کی بیشتر عکس بندی تفریحی مقام نینی تال میں ہوئی۔ پورا فلم یونٹ مہینوں تک اس مقام پر ٹھہرا۔ ہدایت کار بمل رائے کی ’پرفیکشن‘ کی عادت نے یہ مشکل کھڑی کردی تھی کہ یہ تخلیق مکمل ہونے کے بعد طے شدہ بجٹ سے اوور بجٹ ہوگئی۔ جس کا تخمینہ آٹھ سے 10 لاکھ روپے لگایا گیا۔

بمل رائے کے لیے یہ بات باعث فکر تھی، وہ اس لیے بھی کہ یہ فلم ان کی ہوم پروڈکشن جو تھی۔ کوئی اور پروڈیوسر ہوتا تو وہ مزید رقم کا تقاضہ کرسکتے تھے۔ وہ دن رات اس سوچ میں تھے کہ کیسے اپنے ڈسٹری بیوٹرز سے کہیں کہ وہ فلم خریدنے کے لیے دیے گئے معاوضے میں اضافہ کریں کیونکہ اسی طرح وہ اس نقصان کو پورا کرسکتے تھے۔

بمل رائے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ برسوں پرانے اپنے ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے یہ مطالبہ رکھیں لیکن ایسا وہ نہ کرتے تو ’مدھو متی‘ ان کے لیے گھاٹے کا سودا ثابت ہوسکتی تھی۔ درحقیقت بمل رائے ان ہدایت کاروں اور پروڈیوسرز میں سے ایک تھے، جو اصول کے پابند رہے، جو خود نقصان سہہ سکتے تھے لیکن کسی اور کو مشکلات میں نہیں لاسکتے تھے۔

 

ایک دن باتوں ہی باتوں میں انہوں نے اس کا تذکرہ اپنے بے تکلف دوست بننے والے دلیپ کمار کے سامنے بھی کردیا۔ جنہیں اس بات کی حیر ت ہوئی کہ بمل رائے خود نقصان برداشت کرنے پر آمادہ ہیں لیکن ڈسٹری بیوٹرز کو مالی تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ دلیپ کمار اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے اور بمل رائے سے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ آپ خسارے میں رہیں۔ ایسا کریں کہ فلم کا ایک شو صرف ڈسٹری بیوٹرز کے لیے رکھیں۔

بمل رائے نے اب اور زیادہ حیرت سے دلیپ کمار کو دیکھا، کیونکہ یہ وہ دور تھا کہ جب ڈسٹری بیوٹرز کو فلمیں نہیں دکھائی جاتی تھیں۔ عام طور پر فلم کے ہدایت کار، موسیقار اور پھر اداکاروں کا نام ہی دیکھ کر ڈسٹری بیوٹرز انہیں خریدتے اور پھر مختلف شہروں میں لگا کر منافع حاصل کرتے۔ اب یہ ان کی قسمت ہوتی کہ فلم اگر ہِٹ ہوجائے تو ان کے وارے نیارے اور فلاپ ہونے کی صورت میں اصل رقم نکالنا بھی مشکل ہوجاتی۔

دلیپ کمار کی بات سن کر بمل رائے خاصے مضطرب ہوگئے۔ ایک ذہن کہہ رہا تھا کہ کچھ بھی ہو اب نقصان خود ہی سہنا پڑے گا لیکن دوسری جانب یہ خیال بھی آرہا تھا کہ اگر دلیپ کمار جو کہہ رہے ہیں تو ان کے ذہن میں کچھ نہ کچھ تو خیالی پلاؤ پک رہا ہوگا۔ دل و دماغ میں جنگ چھڑی ہوئی تھی لیکن پھر دلیپ کمار کی بات رکھنے کے لیے ’ہاں‘ کر ہی دی۔

اب بمبئی کے ایک سینیما ہال کو مخصوص کیا گیا، جہاں فلم ’مدھو متی‘ کا ٹرائل رکھا گیا۔ فلم دیکھنے کے لیے بھارت بھر سے آئے ڈسٹری بیوٹرز موجود تھے۔ فلم کا آغاز اور پھر اختتام ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ایسے میں سٹیج پر نمودار ہوئے دلیپ کمار اور پھر انتہائی ملائم اور مٹھاس بھرے لہجے میں گویا ہوئے کہ ’جو فلم یونٹ نے محنت کی، اس کا ثمرآپ کی تالیوں سے ہمیں پتہ لگ گیا، جس کے سبھی ممنون ہیں۔‘

دلیپ کمار تھوڑے توقف کے بعد پھر بولے: ’دراصل فلم اپنے طے شدہ بجٹ سے تھوڑی بڑھ گئی ہے اور میری کوئی کوشش نہیں کہ اس کا خسارہ بمل رائے بھریں۔ یہی سوچ کر میں یہاں اعلان کرتا ہوں کہ اپنے معاوضے میں سے 70ہزار روپے کم وصول کروں گا۔ اب میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ آپ میں سے کون کون اس مشکل گھڑی میں بمل رائے کی مدد کرنے کو تیار ہیں؟‘

یہی وہ لمحات تھے، جب ہال میں صرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ دلیپ کمار ہی نہیں بمل رائے بھی یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ کون اس مرحلے پر ہاتھ بڑھا کر ان سے تعاو ن کرنے کے لیے صدا لگاتا ہے۔

ادھر کچھ نئے ڈسٹری بیوٹرز سرجھکائے بیٹھے تھے جبکہ برسوں سے بمل رائے کے ساتھ رہنے والے کرسی کی پشت پر ٹیک لگا کر کچھ فیصلے کرنے کی ہمت کرچکے تھے اور انہی میں سے ایک ڈسٹری بیوٹر اٹھا اور اس نے اعلان کیا کہ کیا ہوا فلم ’اوور بجٹ‘ ہوگئی، وہ اس امتحان کی گھڑی میں بمل رائے کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ان کی مدد کی جائے اور طے شدہ معاوضہ سے زیادہ رقم دے کر ہی یہ فلم خریدیں گے۔

اب دھیرے دھیرے ایک ایک کرکے سبھی نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی، ہامی بھرنا شروع کردی اور وعدے کے مطابق معاوضہ بڑھاکر ہی فلم حاصل کی۔

ادھر دلیپ کمار پرسکون انداز میں بمل رائے کو دیکھ رہے تھے، جن کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا۔ اب ڈسٹری بیوٹرز نے پرخلوص ہو کر اپنے نقصان کی پرواہ کیے بغیر بمل رائے کی مدد کرنے کی ٹھانی تھی تو ان کی اسی مثبت سوچ کا ہی یہ اثر تھا کہ فلم ’مدھو متی‘ 12ستمبر 1958کو نمائش پذیر ہوئی تو اس نے ہر شہر میں کمائی کے کئی نئے ریکارڈز قائم کیے۔

اپنی انہونی کہانی، موسیقار سلیل چوہدری کی دھنوں پر بنے ’سہانا سفر یہ موسم حسین’، ’آجا رے پردیسی‘، ’ٹوٹے ہوئے خوابوں نے‘ اور ’ظلمی سنگ آنکھ لڑی نے‘ جیسے ہر گانے کو زبان زد عام کردیا اور پھر سب سے بڑھ کر دلیپ کمار اور وجینتی مالا کی اداکاری کے سحر سے کوئی باہر ہی نہ نکل سکا۔ جبھی ’مدھو متی‘ نے ہر ڈسٹری بیوٹر کو وہ مالی فائدہ دیا، جو ان کی نیک نیتی کا ثمر ہی کہا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تخلیق کی اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہوگی کہ اسے بہترین فیچر فلم، بہترین فلم اور بمل رائے کو بہترین ہدایت کار کا بھارت کا قومی ایوارڈ بھی ملا جبکہ اگلے سال ہونے والے فلم فیئر ایوارڈز میں ’مدھو متی‘ کی 13 نامزدگیاں ہوئیں جبکہ یہ نو ایوارڈز جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

ان میں بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ جونی واکر، بہترین موسیقار کا ایوارڈ سلیل چوہدری، بہترین پس پردہ گلوکارہ کا ایوارڈ لتا منگیشکر کو ملا جبکہ بہترین ڈائیلاگز، بہترین آرٹ ڈائریکشن، بہترین سنیماٹوگرافر اور بہترین ایڈیٹنگ کا ایوارڈ بھی ’مدھومتی‘ کے حصے میں ہی آیا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ بہترین ایڈیٹنگ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے رشی کیش مکرجی بعد میں بہترین ہدایت کار بھی بنے۔ نو ایوارڈز حاصل کرنے کا یہ ریکارڈ لگ بھگ 37 برس بعد ایک اور خان یعنی شاہ رخ خان کی فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے توڑا۔

بمل رائے تو جیسے دلیپ کمار کے خاصے ممنون رہے۔ جنہوں نے انہیں مالی بحران سے دوچار نہیں ہونے دیا بلکہ یہ کہا جائے کہ انہوں نے اپنے مفاد کی بجائے بمل رائے کی مجبوری کو زیادہ اہمیت دی۔

یہی وجہ ہے کہ بمل رائے بھی ہمیشہ دلیپ کمار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے، جن کے ساتھ بعد میں انہوں نے فلم ’یہودی‘ بھی بنائی لیکن ان سارے مراحل سے بمل رائے نے یہ سبق بھی سیکھا کہ فلم کو ہمیشہ طے شدہ بجٹ کے مطابق ہی مکمل کیا جائے۔

بالی وڈ میں ’مدھو متی‘ کی کہانی سے مشابہت رکھتیں کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ ان فلموں میں 1980میں آنے والی فلم ’قرض‘ اور پھر2007کی فرح خان کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ’اوم شانتی اوم‘ نمایاں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم