سپریم کورٹ کا 16 ہزار ملازمین کی بحالی کا حکم

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل چار ججوں نے16 ہزار سرکاری ملازمین کی بحالی کے لیے نظر ثانی کی درخواستوں پر متفقہ فیصلہ دیا، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعے کو 16 ہزار سرکاری ملازمین کی بحالی کے لیے دائر نظر ثانی کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے ملازمین کی بحالی کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ سیکڈ ایمپلائز ری انسٹیٹمنٹ آرڈیننس 2010 آئین کے خلاف ہے تاہم 1996 سے 1999 کے درمیان ملازمتوں پر رکھے گئے ملازمین کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں بحال کر دیا جائے۔

دلچسپ بات ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کے خلاف ںظر ثانی کی درخواستیں تو خارج کر دیں لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں ملازمتوں سے ہٹائے گئے ملازمین کو بحال کر دیا ہے۔ اس عرصے میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے محکمانہ امتحانات کی شرط کا لحاظ بھی نہیں رکھا جائے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل چار ججوں نے جمعے کو سماعت کے دوران نظر ثانی کی درخواستوں پر متفقہ فیصلہ دیا، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس فیصلے کے تحت بحال ہونے والے ملازمین کی ملازمت کی شرائط اور مفادات میں قانون اور محکمانہ رولز کے تحت بہتری لائی جائے گی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کرپشن، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور غیر حاضریوں کے باعث ملازمتوں سے نکالے جانے والوں کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سیکڈ ایمپلائز ری انسٹیٹمنٹ آرڈیننس 2010 آئین پاکستان کے کئی آرٹیکلز کے خلاف ہے، اسے قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اسی لیے نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں چند مستثنیات کے ساتھ سیکڈ ایمپلائز ری انسٹیٹمنٹ آرڈیننس 2010 کو قانون کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’تمام برطرف ملازمین کو بحال کر دیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کی شقیں جو ملازمین کو ایک گریڈ اوپر ترقی دینے اور کرپشن، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا غیر حاضریوں کی وجہ سے برطرف کیے جانے والے ملازمین کو نوکریوں پر بحال کرنے سے متعلق ہیں، قانون کے خلاف ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ مضبوط جمہوریت میں پارلیمان کی خودمختاری اور بالادستی خصوصی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی اہمیت میں کمی کرنا پارلیمان کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقننہ اور عدلیہ کو آئین کے دائرے کے اندر رہتے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ قانون کی حکمرانی سے مراد محض عوامی نظم نہیں ہے بلکہ ایک ایسا عوامی نظم ہے جو سماجی انصاف کی بنیاد پر کھڑا ہو اور معاشرے اور فرد کی ضروریات کو متوازن کرکے مناسب سماجی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں قوانین موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں کو قانون کی حکمرانی کے اس بین الاقوامی تصور کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اختلافی نوٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل آٹھ کے تحت مقننہ کے ذریعے نافذ کیا گیا کوئی بھی قانون صرف لوگوں کے بنیادی حقوق کو سلب یا ختم کرنے کی صورت میں ہی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پارلیمان کی قانون سازی (سیکڈ ایمپلائز ری انسٹیٹمنٹ آرڈیننس 2010) کے ذریعے بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کو نوکریوں پر رکھا گیا یا ترقیاں دی گئی تھیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی گذشتہ حکومت میں اس آرڈیننس کو ختم کر دیا گیا، جس کے باعث 16 ہزار سرکاری ملازمین نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بعدازاں اس حکومتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ 

برطرف ہونے والے 16 ہزار سرکاری ملازمین کا 38 مختلف وفاقی اداروں اور محکموں سے تعلق تھا، جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے مطابق ان میں سے تقریباً چار ہزار افراد سرکاری ملازمین کے زمرے میں بھی نہیں آتے تھے۔ 

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی سفارشات میں پینشن وصول کرنے والے ملازمین کو بحال نہ کرنے اور ان سے ادا کی گئی پینشن کی رقوم واپس وصول نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

حکومت کی ان تجاویز میں گریڈ ایک سے سات یا اس کے مساوی ملازمین کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں اپنی خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جبکہ گریڈ آٹھ سے 17 یا اس سے اوپر کے ملازمین کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرائے جانے والے ٹیسٹوں سے گزرنا پڑے گا۔  

اسی طرح ریٹائرڈ یا مرحوم ملازمین کے لیے حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ ان کے ساتھ ہر قسم کی لین دین کو بند تصور کیا جائے گا تاہم وہ پینشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان