سرکاری ملازمین کا بلاآخر ڈٹ جانا

حکومتی ملازمین کا مہنگائی کے سامنے بے بس ہو جانا بہرحال ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے اور اتنا پریشان ہو جانا کہ سب کا حکومت کے سامنے ڈٹ جانا۔

10 فروری کو پولیس کے ساتھ اسلام آباد میں تصادم کے دوران اشک آور گیس میں گھرا ایک سرکاری ملازم (اے ایف پی)

 10 فروری کو حکومت نے اپنی کم عقلی، زیادتی اور ناانصافی کا خوب کھل کر مظاہرہ کیا۔ ایک طرف سرکاری ملازمین جو تواتر کے ساتھ اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے اور دوسری طرف اسلام آباد پولیس اور رینجرز تھے۔ اس تصادم کی 100 فیصد ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔

زیادہ تر مظاہرین کا جو شاہراہ دستور پر آئے اسلام آباد سیکریٹیریٹ سے تعلق تھا۔ وہ اپنے اعلان شدہ دھرنے کے لیے پارلیمان کی طرف گامزن تھے۔ ان کو روکنے کے لیے حکومت نے یہ طے کیا کہ طاقت کا استعمال سب سے بہتر ہے۔ اس طاقت کے استعمال میں آنسو گیس کی شدید شیلنگ شامل تھی۔ اس کے نتیجے میں ملازمین سخت غصے میں آئے اور بجائے ڈرنے اور پیچھے ہٹنے کے حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے اعلان تک پیش قدمی کرتے رہنے کے فیصلے پر ڈٹ گئے۔

اسلام آباد سیکریٹریٹ کے ملازمین کے علاوہ متعدد دیگر تنظیموں کے لوگ جن میں خواتین اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، واپڈا ملازمین اور صوبوں سے آئے مختلف اداروں کے ملازمین بھی موجود تھے۔ کمال کی بات ہے کہ اس ظالم تصادم سے ایک شام پہلے حکومت اسلام آباد میں وفاقی ملازمین کے ساتھ تقریبا ایک معاہدے تک پہنچ چکی تھی۔

وفاقی وزیر علی محمد خان نے بات چیت کے بعد تسلی دے دی تھی کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہیں 40 فیصد بڑھا دیں گے۔ رات گئے نوٹیفیکیشن تو نہیں آیا لیکن اس کے بالکل برعکس یہ پالیسی سامنے آئی کہ جو ملازمین رہنما ہیں ان کو حراست میں لے لیا جائے۔ ملازمین لیڈر باجوہ کے علاوہ چھ دیگر عہدیداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کا بظاہر مقصد طاقت کے زور پر پارلیمان کے سامنے کسی طرح احتجاج اور بعد میں دھرنے کو روکا جائے۔

مظاہرین کی شکایات اور ان کے مسائل اور 10 فروری کو جو ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہم خود بھی اس کے عینی شاہد تھے۔ اس روز 12 بجے دن کے قریب ہم شاہراہ دستور پر گئے اور اس کے بعد نیشنل پریس کلب کے سامنے جو مظاہرین آیے تھے ان سے ملے اور کچھ گھنٹے ان کے ساتھ گزارے۔ ان سے بات چیت سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ تمام لوگ اپنے طور جو شکایات لے کر سامنے آئے ہیں وہ جائز شکایات تھیں۔

مثال کے طور پر ان کا نمبر 1 واویلا مہنگائی کے خلاف تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تنخواہیں میں ان کا گزارا بالکل ناممکن ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ وزیراعظم، وزار، پارلیمان کے حوالے سے اور جو مختلف فیورٹ ادارے ہیں ان سب کی تنخواہوں کا موازنہ ان کی تنخواہوں کے ساتھ کیا جائے۔ وہ پوچھتے تھے کہ 20 یا 25 ہزار روپے ماہانہ پہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا کیسے گزارہ کریں۔ بجلی اور گیس کے بل، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں، کرائے میں اضافے اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں ایسے میں ان کی تنخواہوں نہیں بڑھی تھیں۔

دوسرے ایسے مظاہرین خواتین تھیں جنہیں شادی کے بعد اسلام آباد رہنا دیا گیا کیونکہ ان کے شوہر یہاں کام کرتے تھے۔ اس لیے انہیں حکومت کی مرضی کے ساتھ یہاں پوسٹ کیا گیا ہے تو ہم ادھر ہی رہیں گے۔ ان میں سے اکثر کا تعلق ایجوکیشن کے ادارے سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اب پندرہ پندرہ سال کے بعد کہا جا رہا ہے کہ پیرنٹ آرگنازیشن کے پاس واپس چلی جائیں۔ مثلا کوئی ڈی آئی خان سے ہے تو کوئی کراچی سے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو واپس جانا بھی تھا جب خاندان ادھر ہے۔ دوسرا یہ کہ جب واپس پہنچے تو ان کے پاس ملازمت نہیں تھی تو یک دم ان کی نوکری ختم۔ مثال کے طور پر واپڈا کے لوگ تھے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ  2013 میں ان سے یہ معاہدہ کیا گیا تھا اس وقت کی جو حکومت تھی کہ جب آپ واپڈا جائن کریں گے تو تین سال کی ایڈہاک پوزیشن کے بعد آپ کو مستقل ملازمت دے دی جائے گی یعنی آپ کی نوکری پکی ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھ سوا لاکھ بندہ ہے واپڈا میں۔

موجودہ حکومت اس معاہدہ کو نہیں مانتی اور انہیں ریگولر نہیں کر رہی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ کوئی حکومت کیسے یکطرفہ ایسا معاہدہ توڑ سکتی ہے۔   

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

  اس کے بعد اسلام آباد میں کوئی 2500 کے قریب اساتذہ تھے۔ انہیں شکایت تھی کہ انہیں یہاں عارضی پوسٹ دی گئی تھی جسے حکومت نے مستقل کرنا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ہے۔ یہ معاملہ پچھلی حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے خلاف وہ عدالت پہنچے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم ہے کہ انہیں ریگولر کیا جائے لہذا حکومت اس آرڈر کو بھی نہیں مان رہی ہے۔

مختلف شہروں جیسے کہ لوئر دیر، چترال، ڈی جی خان، پشاور اور لاہور سے اساتذہ تنخواہیں نہ بڑھنے کی شکایت لیے آئے ہوئے تھے۔ صوبوں میں تواتر سے احتجاج کے باوجود صوبائی حکومتیں ان کی ایک نہیں سنتیں۔ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ اسلام آباد اس لیے آئے کہ بقول ان کے مرکز اور ان صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے تاہم دھمکی دی کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ بڑی تعداد میں پھر آئیں گے۔

آخر کار ان لوگوں سے بات چیت کر کے یہ اندازہ ہوا کہ ان سب کی شکایات اور مطالبات جائز ہیں۔ اگر آپ تمام سیاق و سباق کو دیکھیں تو دوسری طرف ظاہر ہے حکومت کو وسائل کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ پینشن کے مسئلے پر حکومت اب کہہ رہی ہے کہ انہوں نے کمیشن بنایا ہے جو یہ دیکھے گا کہ پینشن کا جو اربوں روپے کا بوجھ ہے اس کا حکومت کیا کرے۔

بہت سے لوگ جن سے ہم نے بات کی انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ وہ اس ڈر سے آئے ہوئے تھے کہ حکومت پینشن ختم کررہی ہے اور اب جب وہ بیس بیس سال کام کر چکے ہیں اور بوڑھاپا آیا ہے تو کیا وہ بغیر پنشن کے رہ جائیں گے۔ یہ صورت حال سنگین ہے۔ اسے حکومت کو دیکھنا ہو گا کہ کس طریقے سے ان تمام معاملات کا حل نکالے۔

یقینا وسائل ایک طرف اور شکایات ایک طرف یہ دونوں قابل فکر مسائل ہیں۔ لیکن 10 فروری کو کس ارسطو نے یہ طے کیا تھا کہ ان پر گولے برسائے اور شیلنگ کی جائے؟ ان مظاہرین کو یہ بھی بہت سخت شکایت تھی کہ کیا حکومت نے انہیں دہشت گرد سمجھ کر ان پر شیلنگ کی ہے۔ وہ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ یہ پر امن احتجاج ان کا آئینی حق ہے۔

پھر حکومت نے 24 گھنٹے کے اندر اندر اپنی پوزیشن کو بدلہ ہے اور نو فروری والی اسی پوزیشن پہ آ گئی ہے۔ حکومت نے طے کر لیا ہے کہ گریڈ ایک سے 19  تک کے فیڈرل گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں اور 19  سے 22 گریڈ تک کے ملازمی کو اگلے بجٹ میں دیکھا جائے گا۔ حکومت نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگلے بجٹ میں ان کے بارے میں کوئی دیرپا اور مستحکم حل نکالا جائے گا۔

حکومتی ملازمین کا مہنگائی کے سامنے بے بس ہو جانا بہرحال ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ اور اتنا پریشان ہو جانا کہ سب کا حکومت کے سامنے ڈٹ جانا۔     

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ