روسی صدر کی مغرب کو ’فوجی تکنیکی کارروائی‘ کی دھمکی

صدر پوتن نے وزارت دفاع کے حکام سے کہا ہے کہ اگر مغرب نے اپنا ’واضح طور پر جارحانہ مؤقف‘ برقرار رکھا تو روس ’مناسب جوابی فوجی تکنیکی اقدامات کرے گا۔‘

صدر ولادیمیر پوتن روس کے چیف آف دی جنرل سٹاف کے ہمراہ (اے ایف پی)

روس اور یورپی ممالک کے درمیان بیان بازی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور روس کے صدر ولادی میر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ وہ مغرب کے ’غیردوستانہ‘ اقدامات کے جواب میں ’فوجی تکنیکی کارروائی‘ کے لیے تیار ہیں۔

روسی صدر کئی ہفتوں سے امریکہ اور واشنگٹن کی زیر قیادت نیٹو فوجی اتحاد پر ماسکو کی سرحدوں کے قریب کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ان کا بیان ممکنہ تصادم کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

صدر پوتن نے وزارت دفاع کے حکام سے کہا ہے کہ اگر مغرب نے اپنا ’واضح طور پر جارحانہ مؤقف‘ برقرار رکھا تو روس ’مناسب جوابی فوجی تکنیکی اقدامات کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روس ’غیردوستانہ اقدامات پر سخت ردعمل کا اظہار کرے گا، اور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسا کرنے کا پورا حق ہے۔‘

دوسری جانب امریکہ نومبر کے وسط سے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ روس اپنے سابقہ سوویت ہمسائے یوکرین پر بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔

امریکہ روس کو خبردار کر چکا ہے کہ اس پر ایسی پابندیاں عائد کی جائیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

مغربی حکومتوں نے ماسکو پر مشرقی یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب قریب ایک لاکھ فوجی جمع کرنے کا الزام لگایا ہے، جہاں کیف 2014 سے روس نواز علیحدگی پسندوں سے لڑائی میں مصروف ہے۔

روس نے حملے کی منصوبہ بندی کی تردید کرتے ہوئے امریکہ اور نیٹو سے اپنی سلامتی کی قانونی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اتحاد مشرق کی جانب توسیع روکے۔

گذشتہ ہفتے ماسکو نے امریکہ اور نیٹو کے سامنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو نئے ارکان بنانے سے گریز کرے اور نہ ہی سابق سوویت ممالک میں فوجی اڈے قائم کیے جائیں۔

پوتن کے بقول: ’ہمیں انتہائی تشویش ہے کہ روس کے قریب امریکی عالمی میزائل دفاعی نظام کے حصے قائم کیے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رومانیہ اور پولینڈ جلد ہی ٹوماہاک کروز میزائل چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔

’ہمارے گھر کی دہلیز‘

صدر پوتن نے کہا کہ ’اگر بنیادی ڈھانچہ مزید آگے بڑھا، اگر امریکہ اور نیٹو کے میزائل نظام یوکرین میں دکھائی دیے۔ تب ان کے ماسکو تک پہنچنے کا وقت کم ہو کر سات یا 10 منٹ رہ جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ آواز سے تیز رفتار ہتھیار ہونے کی صورت میں یہ وقت اور بھی کم ہو جائے گا۔ جنگ کی جانب اشارہ کرنے کے باجود پوتن نے کہا کہ روس ’خونریزی‘ سے بچنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم مسائل کو سیاسی اور سفارتی طریقوں سے حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن روسی رہنما نے یوکرین کے لیے امریکی مدد پر اپنے تحفظات دہرائے ہیں۔ اس مدد میں کیف کی فوجوں کو تربیت دینا اور 2.5  ارب ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کرنے کا وعدہ شامل ہے۔

ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ’ہمارے گھر کی دہلیز پر کیے جا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ماسکو کو امریکہ کی جانب سے سلامت کی ضمانت مل بھی جائے تو بھی وہ اس معاملے میں محتاط رہیں گے کیونکہ ’امریکہ ان عالمی معاہدوں سے کسی نہ کسی وجہ سے بآسانی نکل جاتا ہے جن میں اس کی دلچسپی نہیں رہتی۔‘

ادھر مغرب نے خبردار کیا ہے کہ پوتن یوکرین میں اشتعال انگیزی کو بہانہ بنا کر بڑے پیمانے پر حملہ کر سکتے ہیں۔

کیف اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ماسکو طویل عرصے سے یوکرین کے تنازع میں ملوث چلا آ رہا ہے۔

اس لڑائی میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے فوج اور ہتھیار بھیج رہا ہے جس میں 13 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ کیف نے اپنی نصف فوج کو لڑائی والے مشرق علاقے میں منتقل کر دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا