’فخرسے پاکستان کی نمائندگی کی‘: حفیظ عالمی کرکٹ سے ریٹائر

سینیئر آل راؤنڈر محمد حفیظ نے 18 سال سے زائد عرصے تک کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے سبکدوشی کا اعلان کر دیا۔

آل راؤنڈر محمد حفیظ نے 18 سال کے دوران 392 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے بعد پیر کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

41 سالہ حفیظ نے 2018 میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہا تھا اور لارڈز میں 2019 کے ورلڈ کپ میں اپنا آخری ون ڈے کھیلا۔ 

انہیں 2020 میں ٹوئنٹی 20 میچوں کے لیے واپس بلایا گیا جس کے بعد انہوں نے مختصر ترین فارمیٹ میں ایک کیلنڈر سال میں دنیا کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر سال ختم کیا۔

پاکستانی ٹیم کے سبز بلیزز کوٹ اور ٹائی پہنے حفیظ نے پیر کو لاہور میں ایک میڈیا کانفرنس میں کہا: ’آج میں فخر اور اطمینان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہتا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’درحقیقت، میں نے اس سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل کی اور عزت کمائی جس کا میں نے پہلے تصور کیا تھا اور اس کے لیے میں اپنے تمام ساتھی کرکٹرز، کپتانوں، معاون عملے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے کیریئر کے دوران میری مدد کی۔‘

دائیں ہاتھ کے بلے باز نے بین الاقوامی میچوں میں 12,780 رنز بنائے جس میں 55 ٹیسٹ میچ، 218 ون ڈے اور 119 ٹی ٹوئنٹی شامل ہیں۔ 

حفیظ نے، جو اپنے مشتبہ بولنگ ایکشن کی وجہ سے متعدد بار رپورٹ ہوئے، تینوں فارمیٹس میں آف سپن بولنگ سے 253 وکٹیں حاصل کیں۔

اپنے طویل کیریئر کے دوران ’پروفیسر‘ کہلائے جانے والے حفیظ نے تین 50 اوور کے ورلڈ کپ، چھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور تین آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اس فاتح سکواڈ کے رکن تھے جس نے 2017 میں آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی جیتی لیکن 2009 میں جب پاکستان نے انگلینڈ میں ٹرافی جیتی تھی تو وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے تھے۔

حفیظ کو وائٹ بال کرکٹ میں ان کے کارناموں کے لیے زیادہ یاد کیا جائے گا۔ خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی میں، جہاں وہ 2014 میں دنیا کے نمبر ون آل راؤنڈر تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر سے مطمئن ہیں اور انہیں 18 سال تک پاکستان کے نشان کے ساتھ قومی کٹ پہننے پر فخر ہے۔

’میرا ملک اور میری ٹیم ہمیشہ میرے لیے سب سے آگے رہی اور اس لیے جب بھی میں میدان میں اترا، میں نے سخت لیکن کرکٹ کے جذبے کی بھرپور روایات کے اندر رہتے ہوئے محنت کی اور ان کا پروفائل اور امیج بلند کرنے کی کوشش کی۔‘

پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے حفیظ کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کھیل کے تینوں فارمیٹس میں اچھی طرح سے ایڈجسٹ ہوئے۔

رمیز راجہ نے ایک بیان میں کہا: ’ان کا کھیل وقت کے ساتھ بہتر ہوا اور وہ مختلف فارمیٹس میں کافی ذہانت سے ایڈجسٹ ہوئے۔ بعد میں اپنے کیریئر میں وہ ٹی ٹوئنٹی کے ماہر بنے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ