فکر نہ کریں افغان سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا: شاہ محمود

افغان طالبان کی جانب سے باڑ ہٹانے کے تنازعے پر وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ معاملہ سفارتی ذرائع سے حل کر لیا جائے گا۔

افغان سرحد سے ملحقہ صوبہ ننگر ہار میں پاکستانی فوج کی لگائی باڑ کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سے اکھاڑنے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھنے کا اعائدہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان دوست اور ہمسایہ ملک ہے اور سفارتی ذرائع سے بات چیت کر کے معاملہ حل کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’فکر نہ کریں ہم خاموش نہیں ہیں۔ باڑ ہم نے لگائی ہے وہ کاوش جاری رہے گی۔‘

وزیر خارجہ کے مطابق کچھ حلقے باڑ  تنازعے کو اچھالنا چاہتے ہیں جو پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ ’پاکستان وہی کرے گا جو اس کے بہترین مفاد میں ہے۔‘

گذشتہ چند روز سے افغان سرحد سے ملحقہ صوبہ ننگر ہار میں پاکستانی فوج کی لگائی باڑ کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سے اکھاڑنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہوئی تھیں۔

حکومت پاکستان نے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تھا بلکہ دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ باڑ لگانے سے متعلقہ معاملات پاکستان فوج دیکھ رہی ہے اس لیے وہی بیان جاری کریں گے۔ 

افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی حدود میں باڑ لگائی ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کی حدود سے پاکستانی فوج پر دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اکتوبر میں دو سکیورٹی اہلکار جان سے گئے تھے۔ 

دونوں ملکوں کی سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے۔ خیبرپختونخوا سے متصل افغان سرحد کی طوالت 1229 کلومیٹر ہے۔

جون 2016 میں سرحد پر فائرنگ کے بعد پاکستان نے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر500 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی طور پر باڑ مکمل کرنے کے لیے دسمبر 2019 کی تاریخ مقرر کی گئی لیکن افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات اور زمینی وجوہات کے باعث یہ منصوبہ طوالت کا شکار ہوگیا۔ باڑ پر چھیانوے فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

آج کی پریس بریفنگ کے اختتام پر وزیر خارجہ نے مختصر سوالات لیے۔

امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں۔ ’پاکستان نہ پہلے کسی کیمپ پالیٹکس کا حصہ تھا اور نہ اب بننا چاہتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے سال میں پاکستان کا ایجنڈا امن ہے۔ ’پاکستان بشمول بھارت تمام ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔‘

سارک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو سارک سمٹ میں اسلام آباد آنے سے مسئلہ ہے تو وہ ورچوئلی شرکت کرلیں۔

2022 میں ملک کے اندر سیاسی استحکام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اچھی روایت بن رہی ہے جو ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت تک کا سفر ہے۔

’2008 سے پاکستان میں منتخب حکومتیں ہیں۔ آنے والے انتخابات میں عوام نے فیصلہ کرنا ہے۔۔۔اگر وہ سمجھں گے تو حکومت ہمیں لوٹا دیں گے اگر نہ لوٹائی تو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان