افغان سرحد پر باڑ نہ لگی ہوتی تو حالات مختلف ہوتے: پاکستانی فوج

مشترکہ سرحد کی 90 فیصد باڑ لگانے کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی 10 فیصد اس سال کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام گذشتہ چار سال سے جاری ہے، جو اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

منگل (تین اگست) کو پاکستانی فوج کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا نمائندگان کو پاکستان افغانستان کے مابین طورخم سرحد پر لگائی گئی باڑ کا دورہ کرایا گیا اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل رضوان نے بارڈر مینجمنٹ اور فینسنگ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان افغانستان سرحد کو کنٹرول کیا جارہا ہے، اس لیے مغربی سرحد اب قدرے محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا: ’خواہش ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال قابو میں رہے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دیرپا معاہدہ طے پا جائے۔‘

پاکستان کو امید ہے کہ اس باڑ کی موجودگی میں افغانستان سے شدت پسند یہاں نہیں آسکیں گے۔ شدت پسندوں کے لیے ماضی کے یہ راستے اب تقریبا بند ہوچکے ہیں۔

مشترکہ سرحد کی 90 فیصد باڑ لگانے کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی 10 فیصد اس سال کے اواخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

کرنل رضوان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’افغانستان میں حالات خراب ہونے کی صورت میں وہاں سے پناہ گزینوں کے پاکستان میں داخلے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ طورخم سے متصل سرحدی علاقے ننگرہار میں حالات ٹھیک ہیں، اس لیے امید نہیں ہے کہ پناہ گزین آئیں گے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’خیبر پختونخوا سے متصل پاک افغانستان سرحد پر باڑ لگائے جانے کا کام مکمل ہے، جس کی طوالت تقریباً 1229 کلومیٹر ہے لیکن چترال کے بلند و بالا اور دشوار ترین پہاڑوں اور گلیشیئرز پر باڑ لگانا چیلنجنگ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’وہاں انسانی آمدورفت بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اس دو فیصد حصے کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اور مناسب حل نکالا گیا ہے، وہاں چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں، اس لیے وہ سرحد بھی محفوظ ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کی معلومات کے مطابق چترال کے ساتھ افغان سرحد کی لمبائی 493 کلومیٹر ہے، جس میں سے 471 کلومیٹر کا علاقہ انتہائی بلندی پر واقع اور گلیشیائی علاقوں پر مشتمل ہے۔

ایک مقام پر ضلع دیر کے قریب سرحد کی سطح سمندر سے بلندی 13 ہزار فٹ اور دوسرے مقام کی بلندی 10 ہزار 460 فٹ ہے جبکہ باجوڑ کے ساتھ سرحد کی لمبائی 50 کلومیٹر، مہمند کے ساتھ 69، خیبر کےساتھ 111، کرم ایجنسی کے ساتھ 191، شمالی وزیرستان کے ساتھ 183 اور جنوبی وزیرستان کےساتھ 94 کلومیٹر کی سرحد ہے۔

اعلیٰ فوجی افسران نے ’بِگ بین پوسٹ ‘ پر بریفنگ کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’اگر مجموعی طور پر باڑ کے حوالے سے پوچھا جا رہا ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجموعی طور پر 96 فیصد باڑ اور قلعوں کا کام مکمل ہے۔‘

اس سے قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق: ’بلوچستان میں کچھ علاقے ایسے ہیں، جو حساس ہیں اور وہاں گاؤں اس طرح بنے ہوئے ہیں، جن کا صحن پاکستان میں اور کھڑکی افغانستان میں کھلتی ہے تو ایسے معاملات کو ذمہ داری سے حل کرنا ہے تاکہ باڑ مکمل ہو جائے۔ ‘

آئی ایس پی آر کے مطابق: ’خیبر پختونخوا میں بھی کچھ علاقے ایسے ہیں کہ آدھا گاؤں پاکستان اور باقی افغانستان میں تھا۔‘

پھر گاؤں کے درمیان دیوار کیسے کھینچی گئی؟ اس سوال کے جواب میں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ ’اہل علاقہ کو اختیار دیا گیا کہ اس مقام پر باڑ لگانی ہے، اب ان کی مرضی ہے کہ وہ پاکستان میں مکان قائم رکھنا چاہتے ہیں یا باڑ کے اس طرف جانا چاہتے ہیں، جس پر کچھ نے پاکستان اور کچھ نے افغانستان کا انتخاب کیا پھر اسی طرح پھر باڑ لگا دی گئی۔‘

خیال رہے کہ افغانستان کے ساتھ تین بارڈر پوائنٹس تجارت کے لیے فعال ہیں۔ ان میں طورخم، چمن اور نیا تعمیر ہونے والا غلام خان بارڈر پوائنٹ شامل ہے جبکہ پانچ کراسنگ پوائنٹس ہیں۔

ان سرحدوں کے سامنے افغانستان کے کون سے علاقے ہیں؟

سکیورٹی حکام نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ ’چترال، دیر اور باجوڑ کے سامنے واقع افغانستان کے علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جماعت الاحرار، سواتی گروپ اور باجوڑی گروپ کے دہشت گرد پناہ گزین ہیں، جو اکثر سنائپر حملے کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید بتایا گیا کہ ’شمالی وزیرستان کے سامنے افغانستان کے صوبے خوست میں ٹی ٹی پی کے اتحادی حافظ گل بہادر گروپ پناہ گزین ہے جن کے جنگجو فوجی قافلوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان کے سامنے افغان صوبے پکتیکا کے ضلع برمل میں ٹی ٹی پی کے مرکزی پناہ گزین موجود ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستانی فوج کو باڑ لگانے میں سب سے زیادہ جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں مزاحمت کا سامنا رہا اور اسی علاقے میں باڑ لگاتے ہوئے سب سے زیادہ جوانوں کی جانیں قربان ہوئیں۔‘

’شوال کے علاقے منگڑیتی کے سامنے افغانستان میں تین چار کلومیٹر اندر بھاری مشین گنیں لگا رکھی تھیں، جنہیں خاموش کروانے میں مہینوں لگے، ‏یہی وجہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں سرحدی چوکیوں پر ایک ہی رات میں 35 چوکیوں پر حملہ کیا گیا اور دو دن جھڑپ جاری رہی۔ اس علاقے میں اتنی مزاحمت کا سامنا رہا کہ دو سال تک باڑ پر کام رکا رہا، یہی وجہ ہے کہ باڑ دسمبر 2019 میں مکمل نہیں ہوسکی۔‘

سکیورٹی حکام کے مطابق: ’بلوچستان کے ضلع ژوب، ضلع قلعہ سیف اللہ اور چمن کی سرحدی چوکیوں پر بھی سنائپر اور بھاری گنوں سے حملوں میں کافی جوانوں کی جانیں گئیں۔ اس کے سامنے قندہار کا علاقہ ہے۔‘

سرحد کی طوالت کتنی ہے اور پوسٹیں کتنی بنائی گئیں؟

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان افغانستان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے، جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’صرف باڑ نہیں لگائی گئی بلکہ قلعہ نما پوسٹس بھی بنائی گئی ہیں۔ پاکستانی فوج نے پاکستان افغان سرحد پر قلعہ نما پوسٹس قائم کرنے کوشش کی کہ دہشت گردوں پر نظر رکھی جاسکے۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں قلعہ نما پوسٹس کی کل تعداد 443 ہے۔ ان میں سے 35 پوسٹس مالاکنڈ میں، ضلع باجوڑ میں 54، ضلع مہمند میں 58، خیبر میں 93، کرم میں 109، شمالی وزیرستان میں 64 اور جنوبی وزیرستان میں 30 پوسٹس تعمیر کی گئی ہیں جبکہ مجموعی طور پر قلعوں کی تعداد 843 ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’آہنی باڑ سے پاکستان اور افغانستان کے پرامن عوام کو فائدہ ہوگا اور سرحد پر دہشت گردوں کو روکا جاسکے گا۔ ‘

باڑ کیسے لگائی گئی ہے؟

پاک افغانستان سرحد پر باڑ ایک خاص ڈیزائن سے لگائی گئی ہے جو دو رویہ ہے۔ پاکستان کی جانب باڑ کی اونچائی 11 فٹ جبکہ افغانستان کی جانب باڑ کی اونچائی 13 فٹ رکھی گئی ہے۔ دونوں کے درمیان چھ فٹ کی چوڑائی رکھی گئی جسے خاردار تاروں سے بھر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ ’بظاہر تو یہ باڑ تاروں سے لگائی گئی ہے لیکن اس باڑ کی تعمیر میں 2017 سے لے کر اب تک سیکڑوں جوانوں کی جان گئی ہے، جن پر باڑ لگانے کے دوران سرحد پار سے فائرنگ کی گئی۔ مئی میں باڑ لگانے کے دوران ایف سی کے جوانوں پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کئی جانیں گئیں تھیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے جوانوں کے خون سے اس باڑ کو لگایا ہے۔‘

جون 2016 میں سرحد پر ہونے والی فائرنگ کے بعد پاکستان نے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی۔

 ابتدائی طور پر باڑ مکمل کرنے کے لیے دسمبر 2019 کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لیکن افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات اور زمینی وجوہات کے باعث یہ منصوبہ طوالت کا شکار ہوگیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان