سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح: یہ راستہ متنازع کیوں بن گیا ہے؟

سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ یہ راستہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لائے گا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس پر اعتراضات اب بھی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کا افتتاح کیا جو کہ سی پیک کا حصہ ہے (ریڈیو پاکستان)

وزیر اعظم عمران خان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مغربی روٹ کا افتتاح کر دیا ہے جس پر ابتدا سے ہی سیاسی جماعتوں سمیت کئی حلقوں کی جانب سے اعتراض کیا جا رہا تھا کہ اس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس میں بدھ کو روٹ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا یہ روٹ پسماندہ علاقوں کو منسلک کرتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس سے بہت سے فائدے حاصل ہوں گے اور ان علاقوں کے رہنے والوں کی زندگی کا معیار بہتر ہوگا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ان علاقوں سے مل رہا ہے جو ترقی میں پیچھے رہ گئے۔

انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ پیسے بنانے کے لیے سڑکیں بنائی جاتی تھیں۔ ’انہوں نے ملک کو اوپر لے جانا تھا نہ ہی وہاں کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی کی گئی تھی بلکہ سڑکیں پیسہ بنانے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔‘

سی پیک کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں  2015 میں شروع ہوا تھا اور اب مکمل ہونے پر افتتاح موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے کیا۔

مغربی روٹ میں کون سے علاقے شامل ہیں؟

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سی پیک کا مغربی روٹ فتح جنگ پاکستان اسلام آباد (ایم ون) پر واقع ہکلہ انٹر چینج سے شرو ع ہوکر ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا ژوب-کوئٹہ موٹروے سے منسلک ہو گیا ہے۔

مغربی روٹ کے افتتاح کے موقع پر جب وزیراعظم عمران خان خطاب کرنے آئے تو ان کے پس منظر میں لگے بینر پر مغربی روٹ کی کل لمبائی 293 کلو میٹر لکھی گئی تھی۔

تاہم سی پیک کی ویب سائٹ پر دیکھا جائے تو وہاں ایک جگہ پر اس موٹروے کی لمبائی 285 کلومیٹر جبکہ دوسری جگہ پر 297 کلومیٹر بتائی گئی ہے اور پی سی ون کے مطابق اس پر کل 122 ارب روپے لاگت آئی ہے۔

اس منصوبے کے تحت سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ دو رویہ سڑک چار رویہ کر دی گئی ہے جبکہ مستقبل میں چھ رویہ سڑک کے لیے زمین خریدنے کا منصوبہ بھی اس کا حصہ ہے۔

سی پیک کی ویب سائٹ کے مطابق مغربی روٹ میں431 کلومیٹر خضدار سے چمن تک کی سڑک بھی شامل ہے جس کو دو سے چار رویہ میں تبدیل کیا جائے گا۔

مغربی روٹ  کے دیگر منصوبوں میں سریاب سے ہوشاب (449 کلومیٹر) اور گوادر - تربت سے ہوشاب (193 کلومیٹر) سڑک بھی شامل ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر 30 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

اے پی پی کے مطابق سی پیک کے مغربی روٹ میں موجودہ حکومت نے 11نئے منصوبے بھی شامل کیے ہیں جن میں ایک دیر، چکدرہ موٹروے (28 کلومیٹر) بھی شامل ہے جو 38 ارب روپے کی لاگت سے دو سالوں میں مکمل ہوگی۔

اسی طرح نئے منصوبوں میں ایک 360 کلومیٹر طویل پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کا منصوبہ بھی مغربی روٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جس کی لاگت 276 ارب روپے سے زیادہ ہوگی اور وہ چار سالوں میں مکمل ہوگا۔

سی پیک مغربی روٹ کیوں متنازع بنا؟

مغربی روٹ کی تنازعے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان مختلف ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل ایک جامع منصوبہ ہے جو چین کے عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کا ایک حصہ ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے 2013 میں دورے کے دوران سی پیک کا خیال پیش کیا تھا اور اسی سال سابق وزیراعظم نواز شریف نے چین کے دورے کے دوران چینی صدر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یوں یہ منصوبہ شروع ہوگیا تھا۔

پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے سی پیک پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سی پیک کے لیے مجموعی طور پر 45 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ سی پیک میں پانچ اقسام کے منصوبے ہیں جن میں ابتدائی پراجیکٹس 2015 سے 2019 تک ہیں جو زیادہ تر توانائی کے حوالے سے ہیں۔

ان کی کتاب کے مطابق دوسری قسم میں قلیل مدتی منصوبے شامل ہیں جن میں روڈ، گوادر کے ترقیاتی منصوبے، آپٹک فائبر نیٹ ورکس، اینڈ دی ہائڈل، کوئلے کی مائننگ اور  صنعتی منصوبے شامل ہوں گے جو 2022 تک مکمل ہوں گے جبکہ ریلوے کے حوالے سے منصوبے 2025 تک مکمل ہوں گے جبکہ کچھ طویل مدتی منصوبے ہیں جو 2030 تک مکمل ہوں گے۔

مغربی روٹ پر تنازع اس وقت پیدا ہوا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی کی ایک کل جماعتی کانفرنس میں اعتراض کیا گیا کہ اس وقت کی حکومت نے سی پیک کے مغربی روٹ میں تبدیلیاں کی ہیں اور اس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تنازعے کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر مغربی روٹ کو سی پیک کا حصہ نہیں بنایا گیا تو ہم سی پیک کو خیبرپختونخوا سے نہیں گزرنے دیں گے۔

پرویز خٹک نے آٹھ اکتوبر 2016 کو اسمبلی کے فلور پر کہا: ’میں نے چین کے سفیر سے ملاقات میں ان سے پوچھا تھا کہ کیا مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہے یا نہیں ہے اور انہوں نے نہیں میں جواب دیا تھا اور مجھے صاف بتایا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا سے سی پیک ان حالات میں نہیں گزرے گا۔‘

پرویز خٹک نے بتایا تھا: ’خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے اور اس کو پاکستان کا حصہ ماننا چاہیے۔ نواز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ سی پیک کا مرکزی روٹ مغربی روٹ  کے بعد مکمل ہوگا تاہم ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ مغربی روٹ صرف سڑکوں کا نام ہے اور اس میں دیگر سہولیات شامل نہیں ہیں۔‘

مغربی روٹ پر تنازع پیدا ہونے کے بعد اس وقت کی حکومت نے اس تنازعے کے جواب میں بارہا واضح کیا تھا کہ مغربی روٹ کو کبھی بھی تبدیل نہیں کیا گیا ہے اور مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہے۔

سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے مفروضے اب تک گردش میں ہیں تاہم حکومت نے 2018 میں بتایا تھا کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

وفاقی حکومت کی ترقی و منصوبہ بندی کی وزارت کے مطابق مغربی روٹ پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس پر کام مکمل ہوجائے گا جس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی ملے گی۔

سی پیک مغربی روٹ پر اب بھی تحفظات ہیں؟

عوامی نیشنل پارٹی نے سی پیک کے مغربی روٹ پر ابتدا سے اپنا ایک موقف رکھا ہے اور وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت نے اصل مغربی روٹ کو تبدیل کیا ہے۔

اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر ہمارے تحفظات پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اس منصوبے میں نظر انداز کر رہا ہے۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ مغربی روٹ کا قدرتی روٹ، جو پشاور، خیبر اور وسطی ایشیا کے ممالک کو آپس میں ملاتا تھا، کو حکومت نے تبدیل کیا ہے۔ ’اگر وہ پرانا روٹ ہوتا تو خیبر پختونخوا آدھی دنیا سے منسلک ہوجاتا لیکن حکومت یہ نہیں چاہتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت