ہر چیز مہنگی، سگریٹ کیوں نہیں؟

حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آئی ایم ایف بھی حکومت کو تمبا کو نوشی پر ٹیکس بڑھانے پر پابند نہیں کر رہی۔

ایک نوجوان کراچی میں ’ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے‘ کے موقع پر 31 مئی 2011 کو سگریٹ پی رہا ہے۔ سگریٹ سے ہونے والی بیماریوں پر پاکستان ہر سال 600 ارب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے (اے ایف پی فائل)

شاہد کو پھیپھڑوں کا کینسر ہے اور وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کے پاس صرف ایک ماہ کا وقت بچا ہے۔

اگر ڈاکٹروں کی بات ٹھیک نکلی تو وہ سوگواروں میں ایک بیوی، تین بچے اور بوڑھے ماں باپ چھوڑ کر جائیں گے۔ ان کی عمر 35 سال ہے اور ان کی اہلیہ رمشا ابھی 29 سال کی ہیں۔ وہ ماڈرن اور پڑھی لکھی خاتون ہیں اور بخوبی جانتی ہیں کہ ان کے شوہر کو پھیپھڑوں کا کینسر سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو بچا نہیں سکتیں لیکن انہوں نے انسانیت کی خاطر سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے حکومت کیا کردار ادا کر رہی ہے اور اور این جی اوز کیا کر سکتی ہیں، یہ جاننے کے لیے انہوں نے سرکاری اداروں سے رابطہ کیا تو ان کے سامنے حیران کن حقائق آئے۔

انہیں معلوم ہوا کہ سگریٹ ایک ایسا زہر ہے جسے حکومت نہ صرف سرعام بیچنے کی اجازت دیتی ہے بلکہ اس کی فروخت کو عام کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں تمباکو نوشی کے ٹیکس ریٹس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، جو کہ سہولت کاری کے زمرے میں آتا ہے۔

حکومت پاکستان نے سال 2017 میں تمباکو نوشی کی صنعت سے 82 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا اور چار سال بعد سال 2021 میں ٹیکس میں صرف 43 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

سال 2021 میں سرکار نے صرف 135 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ یہ معمولی اضافہ بھی ٹیکس ریٹ میں اضافے کی بدولت نہیں بلکہ فروخت میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سگریٹ کی خریداری آسان ہوتی جا رہی ہے کیونکہ روپے کی قدر گر رہی ہے لیکن سگریٹ کے ریٹس نہیں بڑھائے جا رہے۔

رمشا سوچنے لگیں کہ پچھلے تین سالوں میں پاکستان میں سوئی سے لے کر جہاز تک تقریباً ہر شے پر ٹیکس میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ان حالات میں تمباکو اور سگریٹ پر ٹیکس نہ بڑھانا شک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

عمران خان نے 2019 میں امریکی مشہور ٹوبیکو کمپنی امریکن ٹوبیکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے نہ صرف ملاقات کی تھی بلکہ ڈیم فنڈ کے لیے چندہ وصول کیا تھا۔ جبکہ ڈبلیو ایچ او کا آرٹیکل 53 کسی بھی سرکاری اہلکار یا وزیراعظم کو سگریٹ بیچنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے سے منع کرتا ہے۔

رمشا کو پتہ چلا کہ حکومت پاکستان کے زیر نگرانی چلنے والا گورنمنٹ ٹوبیکو کنٹرول سیل ختم کر دیا گیا ہے جس کا کام تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا تھا۔ مبینہ طور پر اس کی بندش کی وجہ سگریٹ مافیا کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں ہیں جو اس رائے کو تقویت دیتی ہے کہ سرکار دانستہ طور پر سگریٹ انڈسٹری کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔

رمشا نے تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے 50 اداروں کی  تنظیم کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول سے اس بارے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ ہمارے احتجاج اور میڈیا تشہیر کے بعد سرکار نے مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے کی ہامی بھری تھی۔ اس حوالے سے نئے ریٹس بھی طے کر لیے گئے اور قوانین بھی بن گئے۔ اس وقت ایک ہزار سگریٹس پر 1650 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ بجٹ 2021-22 میں اسے بڑھا کر 2145 روپے کرنے کی تجویز تھی، جس سے سگریٹ 30 سے 50 روپے مہنگے ہو سکتے تھے۔

لیکن جب بجٹ ہیش ہوا تو اس میں تمباکو نوشی پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا گیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ دبا دیا گیا۔

 منی بجٹ میں 343 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں اور تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے، جن میں چاکلیٹ، بسکٹ، سٹیشنری، چکن، بیف، مٹن، سمیت کئی اشیا کی درآمد پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ ان میں سگریٹ شامل نہیں۔

رمشا سوچنے لگیں کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس مافیا کے سیاست دانوں، بیوروکریٹس کے علاوہ میڈیا کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ جس میڈیا پر چھوٹی سے چھوٹی بات خبر بن جاتی ہے وہاں اتنے بڑے واقعے پر میڈیا کی خاموشی بلاوجہ نہیں ہے۔

سالانہ بجٹ کے بعد منی بجٹ بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ حالیہ بجٹ میں 343 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔ جن میں چاکلیٹ، بسکٹ، سٹیشنری، چکن، بیف، مٹن، سمیت کئی اشیا کی درآمد پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

رمشا سوچنے لگیں کہ وزیراعظم نے بچوں اور طالب علموں کے استعمال کی چیزوں پر تو ٹیکس بڑھا دیا جس کے نقصانات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے، لیکن ایک انتہائی مضر صحت آئٹم پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا حالانکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے کئی فائدے ہیں۔ ایک طرف ٹیکس آمدن میں اضافہ ہو گا، دوسری طرف سگریٹ پینے والے افراد کی تعداد میں کمی ہو گی اور تیسرا فائدہ اس زہر سے متاثرہ افراد کا انہی پیسوں سے علاج کروایا جا سکے گا۔

حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آئی ایم ایف بھی حکومت کو تمبا کو نوشی پر ٹیکس بڑھانے پر پابند نہیں کر رہی۔

رمشا نے پھیپڑوں کے مشہور ڈاکٹر جاوید سے جب اس بارے میں بات کی تو انھوں نے بتایا کہ آج کل کے نوجوانوں میں عام سگریٹ کی جگہ ای سگریٹ متعارف کروایا جا رہا ہے اور سرکار نے اس کی درآمدات کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ تقریباً پانچ فیصد نوجوان ای سگریٹ کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ انہیں جدید نام دے کر فیشن کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ آج کل یہ ای ہکا، موڈز، ویپ پنز، ویپس، ٹینک سسٹمز اور الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹم کے نام سے متعارف کروائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر جاوید کے مطابق ای سگریٹ میں ایسے کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ وزرات صحت سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ تمباکو نوشی سے ہونے و الی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ  کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سرکار سالانہ 615 ارب روپے تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر خرچ کر رہی ہے اور ٹیکس صرف 135 ارب روپے وصول کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریباً 480 ارب روپوں کی ادائیگی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کی جارہی ہے، جبکہ یہ رقم تمباکو مافیا سے وصول کی جانی چاہیے۔

اس کے علاوہ سرکار سگریٹ سے بچاو کی آگاہی مہم کو کرونا کے ساتھ منسلک کر کے بھی مزید موثر بنا سکتی ہے۔ کرونا کے بعد دنیا میں سگریٹ کے استعمال میں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ سگریٹ نوشی سے کرونا کی خطرناکی میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن پاکستان میں الٹا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کرونا کے دوران پاکستان میں سگریٹ کی پیداوار میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا پر چلنے والی گمراہ کن مہم ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ سگریٹ پینے والوں پر کرونا کے منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس مہم کو روکنے کے لیے بھی موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

ایک اور خطرناک رجحان پاکستان میں کم عمر نوجوانوں میں سگریٹ کا بڑھتا استعمال ہے۔ تمباکو کے استعمال کے خلاف مہم چلانے والی امریکی تنظیم ’ٹوبیکو فری کڈز‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15 سال عمر کے بچوں میں سے 19.11 فیصد بچے کسی نہ کسی صورت میں تمباکو کا استعمال کر رہے ہیں۔

رمشا سوچنے لگیں کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اگر تمباکو کمپنیاں ذہن سازی کر رہی ہیں تو حکومت بہتر تشہیری مہم چل کر نوجوانوں کی سوچ بدلنے میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟

رمشا اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ نوجوانوں میں سگریٹ کی مقبولیت کی بڑی وجہ اسے شخصی آزادی کے ساتھ جوڑنا بھی ہے۔ مردوں اور خواتین میں یہ تاثر یکساں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں آزاد خیال سمجھی جانے والی خواتین میں سر عام سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

نوجوان نسل چونکہ شوبز شخصیات کو فالو کرتی ہے اس لیے مشہور شوبز شخصیات کو لے کر ہی سگریٹ کے خلاف مہم چلانے سے سگریٹ کے استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

انہیں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے سے معلوم ہوا کہ پاکستان نے 2005 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے ساتھ  سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے معاہدہ کر رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیسن کے مطابق سگریٹ کی فروخت کم کرنے کا بہترین طریقہ ٹیکس میں اضافہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کئی ممالک کے ساتھ مل کر سگریٹ کی فروخت پر ٹیکس بڑھایا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ دنیا کے 38 ممالک میں تمباکو ٹیکس ان کی لاگت کے 75 فیصد سے زائد ہیں، جس سے نہ صرف سگریٹ کی فروخت میں کمی ہوئی ہے بلکہ صحت کا بجٹ بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے۔

پاکستان میں سگریٹ بیچنے والوں کی مکمل رجسٹریشن بھی نہیں کی گئی ہے اور سرکار کے پاس یہ ڈیٹا ہی نہیں ہے کہ کتنے لوگ کن مقامات پر سگریٹ بیچ رہے ہیں۔ 

2012 میں گیمبیا میں سگریٹ کی قیمت افریقہ میں سب سے کم تھی۔ جس کے باعث صحت کے شدید مسائل جنم لے رہے تھے۔ ڈبلیو ایچ او نے بتدریج ٹیکس بڑھانے کی پالیسی لانچ کی۔ جس کے باعث آج تمباکو کی فروخت میں 60 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اسی طرح سری لنکا، اومان، کولمبیا، فلپائن میں بھی ریفارمز کی گئی ہیں۔ فلپائن میں تمباکو ٹیکس کا نام دلچسپ ہے۔ اسے Sin Tax یعنی گناہ کرنے کا ٹیکس کہا جاتا ہے۔ رمشا کے مطابق پاکستانی سرکار بھی ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر قابل عمل پالیسیاں بنا سکتی ہے، جہاں فنڈز اور رہنمائی دونوں بآسانی مل سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے حکومت پاکستان کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

رمشا کو پتہ چلا کہ سگریٹ بیچنے والوں کی مکمل رجسٹریشن بھی نہیں کی گئی ہے۔ سرکار کے پاس یہ ڈیٹا ہی نہیں ہے کہ کتنے لوگ کن مقامات پر سگریٹ بیچ رہے ہیں۔ قانون کے مطابق سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اور ان کے آس پاس سگریٹ بیچنے پر پابندی ہے۔

رمشا نے اسلام آباد کے کئی کالجز کی قریبی دکانوں اور کالج کی کینٹینز پر وزٹ کر کے چیک کیا تو پتہ چلا کہ نہ صرف کالجوں کی قریبی دکانوں بلکہ کالجوں، یونیورسٹیوں کی کینٹین پر بھی سگریٹ بآسانی دستیاب ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بعض تعلیمی اداروں میں چرس اور ہیروئین سے بھرے سگریٹ بھی بیچے جا رہے ہیں۔

رمشا چاہتی ہییں کہ جو ان کے شوہر کے ساتھ ہوا ہے وہ کسی اور شخص کے ساتھ نہ ہو۔ اپنے پیاروں کو بھری جوانی میں اپنی آنکھوں کے سامنے روز مرتا ہوا دیکھنا تکلیف دہ ہے۔ اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اس عذاب سے گزرا ہو۔

اس کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور ایک ایس آر او جاری کر کے سگریٹ اور تمباکو پر فوری ٹیکس بڑھائے تا کہ اگلی نسلیں اس زہر سے محفوظ رہ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ