جرمنی میں ’تاریخی فیصلہ‘: شام میں کیے گئے ’جرائم‘ پر سابق کرنل کو سزا

جرمنی کی عدالت نے شام کے ایک سابق کرنل انور رسلان کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

شام سے تعلق رکھنے والی سما محمود شامی حکومت کا نشانہ بننے والے اپنے چچا کی تصویر اٹھائے دیگر کارکنوں کے ہمراہ جرمنی میں عدالت کے باہر موجود رہیں (اے ایف پی)

جرمنی کی ایک عدالت نے ایک دہائی قبل دمشق کے قریب ایک جیل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی نگرانی کرنے والے شام کے ایک سابق کرنل انور رسلان کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جمعرات کو سامنے آنے والے اس تاریخی مقدمے کے فیصلے کا ان شامی باشندوں کو شدید انتظار تھا، جنہوں نے طویل عرصے سے جاری شورش کے دوران صدر بشار الاسد کی حکومت کے ہاتھوں بدسلوکی کا سامنا کیا یا اپنے رشتہ داروں کو کھو دیا۔

شامی باشندوں کی جانب سے حکومتی جیلوں میں تشدد کے دعوؤں پر مبنی شکایات موصول ہونے پر جرمنی کی عدالت نے بین الاقوامی دائرہ اختیار کے اصول کا استعمال کیا ہے، جو کسی غیر ملک کو اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی جرائم اور نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف مقدمہ چلا سکے، چاہے ان جرائم کا ارتکاب کہیں بھی ہوا ہو۔

جرمنی کی ریاست کوبلنز کی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ انور رسلان شام کے شہر دوما میں ایک جیل  کے انچارج سینیئر افسر تھے، جس کو الخطیب یا برانچ 251 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور جہاں حزب اختلاف کے مشتبہ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔

جرمن نشریاتی ادارے این ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مجرم کو تاحیات قید کی سزا سنائی ہے۔

جرمن استغاثہ نے الزام عائد کیا تھا کہ رسلان نے اپریل 2011 سے ستمبر 2012 کے درمیان چار ہزار  سے زائد قیدیوں پر ’منظم اور وحشیانہ تشدد‘ کی نگرانی کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب انور رسلان کے وکلا نے گذشتہ ہفتے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے موکل نے کبھی کسی کو ذاتی طور پر تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور2012 کے آخر میں وہ عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ وکلا نے  استدعا کی تھی کہ ان کے موکل کو بری کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رسلان کے ایک جونیئر افسر عیاد الغریب کو گذشتہ سال انسانیت کے خلاف جرائم میں معاون قرار دیا گیا تھا اور کوبلنز کی ریاستی عدالت نے انہیں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔

جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کے کئی سال بعد دونوں افراد کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متاثرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ان لاتعداد لوگوں کے لیے انصاف کی جانب پہلا قدم ہوگا جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے شامی حکام کے خلاف فوجداری شکایات درج کروانے میں ناکام رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مقدمات کو ہیگ میں قائم ٹریبونل کے حوالے کرنے کی کوششوں کو روک دیا ہے، اس لیے جرمنی جیسے ممالک جہاں سنگین جرائم کے لیے بین الاقوامی دائرہ اختیار کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے، تیزی سے اس طرح کے مقدموں کا مرکز بن جائیں گے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو )کے سربراہ نے جرمن عدالت کی جانب سے جمعرات کو شام کے ایک سابق کرنل کو اپنے جنگ زدہ ملک میں انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔

ایچ آر ڈبلیو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے شام میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے پہلے عالمی مقدمے کے فیصلے کے بعد جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ واقعی تاریخی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا