جعلی ویڈیو بنتی کیسے ہے اور اس کی پہچان کیسے کریں؟

ایک تازہ ترین تحقیق میں شرکا وارننگ کے باوجود اداکار ٹام کروز کی جعلی ویڈیو نہ پہچان سکے۔ ویژول ایفیکٹس آرٹسٹ کرس اوم کی بنائی ہوئی ویڈیوز میں ٹام کروز کو جادوئی کرتب دکھاتے اور روسی سیاست دان میخائل گورباچوف کے بارے میں لطیفے سناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

وارننگ کے باوجود بھی 78 فیصد سے زیادہ لوگ ڈیپ فیک اور مستند مواد میں فرق نہیں کرسکے (تصویر: سکرین گریب، وی ایف ایکس کرس)

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر افراد یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ ان کو دکھائے جانے والے مواد کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا ہے، یہ بتانے سے قاصر رہے کہ وہ ’ڈیپ فیک‘ ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔

’ڈیپ فیک‘ کی اصطلاح ایسی ویڈیوز کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں کمپیوٹر پر سافٹ وئیزز اور ڈیپ لرننگ (کمپیوٹر کو سیکھانے کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھم) کے ذریعے کسی شخص کے چہرے سے وہ کہلوایا جاتا ہے جو اس نے کہا نہیں ہوتا ہے۔

قابل ذکر مثالوں میں رچرڈ نکسن کے اپالو 11 کا صدارتی خطاب اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کی وہ ویڈیو شامل ہے جس میں انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین کرتے دکھایا گیا ہے۔ چند محققین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا غیر قانونی استعمال اسے مستقبل میں  خطرناک ترین جرم بنا سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی، براؤن یونیورسٹی اور رائل سوسائٹی کے محققین نے پہلے تجربے میں شریک رضاکاروں کے ایک گروپ کو پانچ غیر تبدیل شدہ ویڈیوز دکھائیں جب کہ دوسرے گروپ نے چار غیر تبدیل شدہ ویڈیوز اور ایک ڈیپ فیک ویڈیو دیکھی۔ ناظرین سے کہا گیا کہ وہ شناخت کریں کہ ان میں سے کون سی ویڈیو جعلی یا جھوٹ ہے۔

محققین نے وی ایف ایکس (ویژول ایفیکٹس) آرٹسٹ کرس اوم کی بنائی ہوئی ٹام کروز کی ویڈیوز کا استعمال کیا جس میں امریکی اداکار کو جادو کے کرتب دکھاتے اور ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں روسی سیاست دان میخائل گورباچوف کے بارے میں لطیفے سناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

جن شرکا کو پہلے سے متنبہ کردیا گیا تھا ان میں سے 20 فیصد نے ڈیپ فیک ویڈیو کی شناخت کرلی جبکہ جن لوگوں کو نہیں بتایا گیا تھا ان میں سے 10 فیصد لوگ پہچان سکے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر براہ راست وارننگ کے باوجود بھی 78 فیصد سے زیادہ لوگ ڈیپ فیک اور مستند مواد میں فرق نہیں کرسکے۔

محققین نے تحقیق کے اجرا سے قبل مقالے میں لکھا: ’کسی ایسے کنٹرولڈ گروپ کے مقابلے میں جو صرف مستند ویڈیوز دیکھتے ہیں، عام مواد دیکھنے والے افراد کے سامنے جب ڈیپ فیک ویڈیو آتی ہیں تو ان میں کسی چیز کو نوٹس نہیں کر پاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توقع ہے کہ چند مہینوں میں یہ مقالہ شائع ہو جائے گا اور ماہرین اس کا جائزہ پیش کریں گے۔

شرکا کی ٹام کروز سے واقفیت، جنس، سوشل میڈیا کے استعمال کا معیار یا تبدیل شدہ ویڈیو کا پتہ لگانے کے اہل ہونے پر ان کے اعتماد کے باوجود ان سب نے ایک جیسی غلطیوں کا ارتکاب کیا۔

محققین کو معلوم ہوا کہ ڈیپ فیک کا پتہ لگانے کی صلاحیت کا تعلق عمر سے ہے۔ محققین نے معلوم ہوا کہ بڑی عمر کے شرکا ڈیپ فیک کی شناخت کرنے میں بہتر طور پر اہل ہوتے ہیں۔

محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ عام طریقے (آنکھ سے) جعلی ویڈیوز سے اصلی ویڈیو کا پتہ لگانے میں دشواری ’ویڈیو میڈیا کی معلومات کی قدر کو کم کرنے میں خطرناک ثاب ہوسکتی ہے۔‘

مکالمے میں لکھا ہے کہ ’چوں کہ لوگ ڈیپ فیک کی دھوکہ دہی سے اس قدر متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ عقلی طور پر تمام آن لائن ویڈیوز بشمول مستند مواد پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘

اگر یہ مستقبل میں جاری رہا تو لوگوں کو سوشل میڈیا پر وارننگ لیبلز اور مواد کی ماڈریشن پر انحصار کرنا پڑے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ پلیٹ فارمز پر گمراہ کن ویڈیوز اور دیگر غلط معلومات معمول نہ بن جائیں۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ سینٹر فار ایکسپیریمنٹل سوشل سائنس میں ڈاکٹریٹ کے محقق اور سرکردہ مصنف، اینڈریو لیوس نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ’جو سوال ہم پوچھ رہے تھے وہ یہ ہے کہ، جب آپ کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ کوئی ویڈیو ڈیپ فیک ہو سکتی ہے، تو کیا آپ کے اوسط انٹرنیٹ صارف کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے لیے نشانیاں تلاش کر لے؟ ہماری تحقیق بتاتی ہے، زیادہ تر لوگوں کے لیے، ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ان پلیٹ فارمز پر اعتدال پسندی کے نظاموں پر بھروسہ کرنا پڑے گا جو ہم سب استعمال کرتے ہیں۔‘

مقالے میں کہا گیا کہ ٹوئٹر، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز معمول کے مطابق اپنے ماڈریٹرز کے لیے باقاعدہ صارفین کی جانب سے مواد کو فلیگ کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ ایک ایسا کام ہے جو مشکل ثابت ہو سکتا ہے اگر لوگ غلط معلومات اور مستند مواد کو الگ کرنے سے قاصر ہو جائیں۔

خاص طور پر فیس بک کو ماضی میں بارہا اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیوں کہ پلیٹ فارم اپنے مواد کے ماڈریٹرز کی خاطر خواہ حمایت نہ کرنے اور غلط مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا۔

 نیویارک یونیورسٹی اور فرانس کی Université Grenoble Alpes میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگست 2020 سے جنوری 2021 تک غلط معلومات پھیلانے والوں کے مواد کو درست خبروں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ لائکس، شیئرز اور انٹرایکشنز ملے۔

فیس بک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح کی تحقیق پوری تصویر نہیں دکھا پاتی کیوں کہ پیجز کو ملنے والی انگیجمنٹس سے یہ ابہام نہیں لینا چاہیے کہ لوگوں نے انہیں فیس بک پر ہی دیکھا ہے۔

محققین نے یہ خدشات بھی ظاہر کیے ہیں کہ ’اس طرح کی وارننگز کو سیاسی طور پر حوصلہ افزا یا متعصبانہ قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ کرونا ویکسین کے بارے میں سازشی نظریات یا سابق صدر ٹرمپ کے ٹویٹس پر ٹویٹر کے لیبلنگ سے ظاہر ہوتا ہے۔‘

صدر اوباما کی جانب سے اس وقت کے صدر ٹرمپ کو نامعقول شخص قرار دینے کے بارے میں ڈیپ فیک ویڈیو کو 2020 کے مطالعے میں 15 فیصد لوگوں نے درست سمجھ لیا تھا حالانکہ یہ مواد خود انتہائی مشکوک تھا۔

محققین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن معلومات پر زیادہ عام عدم اعتماد ڈیپ فیک اور مواد کی وارننگ دونوں کا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے اور پالیسی سازوں کو آن لائن مواد کو ماڈریٹ کرنے کے نقصان اور فوائد کا اندازہ لگاتے وقت اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی