بھارت: حجاب پہننے والی مسلم طالبات کلاس کے باہر بیٹھنے پر مجبور

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر اڈوپی میں سرکاری کالج کی چار مسلمان طالبات رواں ماہ کے شروع سے اپنی کلاس کے باہر بیٹھ کر پڑھ رہی ہیں کیونکہ پرنسپل کی جانب سے انہیں کلاس میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں۔

کالج کی چار مسلم طالبات کلاس کے باہر پڑھنے پر مجبور ہیں (تصویر: سبین جاوید ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پرنسپل کی جانب سے کلاس میں حجاب پہن کر آنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک سرکاری کالج کی کچھ مسلم طالبات کئی ہفتوں سے کلاس کے باہر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

بھارتی میڈیا ریورٹس کے مطابق اڈوپی نامی شہر میں لڑکیوں کے لیے قائم سرکاری کالج کی چار مسلم طالبات  رواں ماہ کے آغاز سے ہی اپنی کلاس کے باہر بیٹھ کر پڑھ رہی ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کلاس میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق کالج پرنسپل رودر گودا نے کالج کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کو تعلیمی ادارے کے احاطے میں حجاب پہننے کی اجازت ہے، مگر کلاس رومز کے اندر نہیں۔

چینل ٹائمز ناؤ نے رپورٹ کیا کہ طلبہ کے والدین کی حکام سے ملاقات ہوئی ہے مگر دو ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے باوجود اس معاملے کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینل کے مطابق پرنسپل کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ جلد ہی طلبہ کے والدین سے ملاقات کرے گی اور انہیں کالج کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کرے گی تاکہ معاملہ جلد حل ہوسکے۔

کالج ڈویلپمنٹ کمیٹی کے نائب صدر یشپال سوورنا نے اخبار ’دکن ہیرالڈ‘ کو ہفتے کو بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی 150 خواتین نے ’ایسے مطالبے نہیں کیے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’کالج کے اپنے قواعد و ضوابط اور تادیبی طریقہ کار ہیں۔ یونفارم کو اس لیے متعارف کروایا گیا ہے کہ تعلیم میں مساوی انداز اپنایا جائے، کیونکہ کالج میں بہت سی غریب خواتین پڑھتی ہیں۔‘

یشپال سوورنا نے مزید کہا: ’اگر وہ (طالبات) کالج کے قواعد پر عمل کرنے کو تیار ہیں تو وہ کلاسز لے سکتی ہیں۔ اگر وہ قواعد پر عمل نہیں کرنا چاہتیں تو وہ تعلیم کے لیے کوئی اور کالج ڈھونڈ سکتی ہیں۔‘

بھارت کی 1.3 ارب آبادی کا 14 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور 80 فیصد ہندو آبادی کے برعکس مسلمان اقلیت میں ہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں ریاست میں ایک اور کالج میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔

قصبے کوپا میں مسلم طالبات کے حجاب پہن کر کلاسیں لینے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہندو طلبہ زعفرانی سکارف پہن کر کالج آئے۔

بالاگادی میں قائم سرکاری کالج نے دونوں فریقین کے مطالبے مانتے ہوئے کچھ دنوں کے لیے طلبہ کو ان کی مرضی سے لباس پہننے دیا۔

اس وقت کالج پرنسپل آننتھ مورتھی نے پریس ٹرسٹ انڈیا کو بتایا تھا: ’ہم معاملہ حل کرنے کے لیے 10 جنوری کو ایک پیرنٹ ٹیچر میٹنگ بلوا رہے ہیں، جس میں عوام کے نمائندے بھی ہوں گے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر سب کو عمل درآمد کرنا ہوگا۔‘

واضح رہے کہ زعفرانی رنگ عموماً ہندومت سے جوڑا جاتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا