کوک سٹوڈیو کے بلوچی گانے ’کنایاری‘ میں کیا خاص ہے؟

کوک سٹوڈیو سیزن 14 کے آغاز میں دو گانے ریلیز کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک ’تو جھوم‘ کے نام سے سامنے آیا جب کہ دوسرا روایت سے ہٹ کر ایک بلوچی زبان کا گانا ہے، جس میں فوک کے ساتھ ریپ کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے۔ 

کوک سٹوڈیو ایک ایسا پاکستانی پلیٹ فارم ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے، اس شو میں سٹوڈیو سے ایسے نئی طرز کے گانے پیش کیے جاتے ہیں جو سامعین کا دل جیت لیتے ہیں۔

اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کوک سٹوڈیو سیزن 14 کے آغاز میں دو گانے ریلیز کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک ’تو جھوم‘ کے نام سے سامنے آیا جب کہ دوسرا روایت سے ہٹ کر ایک بلوچی زبان کا گانا ہے، جس میں فوک کے ساتھ ریپ کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے۔ 

یہ گانا بھی بہت زیادہ پسند کیا جاورہا ہے، جس میں بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب بگٹی، کیفی خلیل اور ایوا بی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ 

وہاب بگٹی نے اس گانے میں جو بول گائے ہیں، اس میں عشق کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہاں پر لوگ عشق کے نام پر بے وفائی کرتے ہیں، جس کے باعث عشق کا نام یہاں گم ہو رہا ہے۔ 

اس کی شاعری کے بول کچھ اس طرح سے ہیں: ’ہاتھ اپنوں کے ہاتھ میں دو دو، دشمن تو صرف بہاروں کے ساتھی ہیں۔ انسان اب خود کو پہچان لے۔ پھر مجھ سے گلہ مت کرنا۔ میں تو سو بار توبہ کرتا ہوں پہلے والا پیار نہیں ہے اب۔‘

اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ ریپ میوزک کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں ایک نوجوان بلوچ سنگر کیفی خلیل اور دوسری ایک خاتون ریپر ایوا بی ہیں۔ جنہوں نے حجاب کے ساتھ اس میں حصہ لیا ہے۔

کیفی خلیل کے گانے میں بول ہیں کہ ’عشق ہے فقیروں کا، پیر اور مریدوں کا، عشق ہے ولیوں کا عہدہ ہے خلیلوں کا، حمل اور ماہ گنج کو کوئی پہچانے، تم تو مجاز ہو واہ واہ، آنکھ سے دیکھتے بھی نہیں واہ واہ، 

تم خود آئے میرے راستے میں اور اب مجھ سے بے زار ہو،میں غریب ہو، تم امیر ہو میری جدائی  تمہیں معاف ہے۔ اللہ تمہیں خوش رکھے اپنی زندگی میں، بھلے میں پڑا ہو گندگی میں، تم خوش ہو سو رہو، میں ہوجاؤمریض نفسیاتی، یہ دنیا کہتی ہے عشق کو جھوٹ، دنیا نہیں ہے عشق میں پاگل۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس گانے میں دوسری ریپر ایوا بی ہیں۔ جن کے بول ہیں کہ: ‘اگر مجاز دوست نہ ہو تو دوستی کا کیا فائدہ ہے۔ دن گزرتے ہیں دوست جاتے ہیں۔  میں نے تمہارا ساتھ دیا تم میرا زیادہ دو۔ دلوں میں مفاد نہیں ہوتے۔ یہاں کہتے ہیں کہ بات نہ کرو گم ہوجاؤ گے۔ غم نہ کرو خوار ہوجاؤ گے۔’ 

اس حوالے سے عبدالوہاب بگٹی نے بتایا: ‘ہم نے جونیا گانا بنایا ہے۔ جو روایت سے ہٹ کر ہے۔ لیکن اس میں دمبورہ ہمارا ہے۔ اس میں باقی جدید آلات استعمال کیے گئے ہیں۔’

وہاب بگٹی نے بتایا: ‘اس گانے کی ریکارڈنگ ک دوران بہت مزہ آٰیا اور سب نے بہت محنت کی۔ ہم نے مکرانی اور سلیمانی بلوچی کو ایک ساتھ ملانے کی کوشش کی ہےتاکہ اس میں اور قربت آجائے۔’

انہوں نے کہا کہ مجھے کوک سٹوڈیو کے میوزک پروڈیوسر ذوالفقار زلفی نے فون کرکے کہا کہ انہوں نے ایک بلوچی گانا بنانا ہے۔ جس میں لیاری سے ایک نوجوان اور خاتون کوبھی لیا گیا ہے۔ جس پر وہاب نے کہا کہ انہوں نے حامی بھرلی۔ 

وہاب نے بتایا کہ انہوں نے دونوں بلوچی زبان کے لہجوں کو قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس کو سب سمجھ سکتے ہیں۔ جو نہیں سمجھتے وہ اس کے میوزک کا مزہ لے سکتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ کیفی خلیل جو کہ لیاری کراچی سے ہیں اور نئے طریقے سے گانے گاتے ہیں۔ ان کے ساتھ گانے کا اچھا تجربہ رہا اور انہوں نے ایک جدید کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ بلوچ قوم اور دوسرا اقوام بھی اس کو پسند کریں گے۔ 

یاد رہے کہ کوک سٹوڈیو کا دوسرا گانا جھوم کے حوالے سے تنازع بھی چل ہے کہ دھن کسی اور کی ہے۔ 

بلوچی زبان کے اس نئے گانے کو بہت پسند کیا جارہا ہے اور یوٹیوب پر اس کو ابھی تک آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے۔ جب کہ سوشل میڈیا پر بھی اس گانے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ 

بلوچستان میں اب کچھ نوجوان قدیم اور جدید میوزک میں تجربےکررہے ہیں۔ جس میں وہ ریپ اور جدید میوزک کے آلات کا بھی استعمال کررہے ہیں۔ 

گانے میں جہاں ایک طرف عشق کا تذکرہ ہے، وہاں پر ایک اشارہ زبان بندی کی طرف بھی کیا گیا ہے۔ لیاری کا نام بھی لیا گیا ہے۔ 

مجموعی طور پر یہ گانا ایک نئی کوشش ہے اور سادہ شاعری کے ساتھ ایک خوبصورت کوشش ہے۔ جس میں نوجوانوں کے ہنر کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

وہاب  بگٹی کے بول اور اس کا اردو ترجمہ: 

کناں یاری غداری عشقی نامیں گار ایدا  

لوگ دوستی کرکے غداری کرتے ھیں عشق گم نام ہے یہاں 

دستا بدے جانی دستا وتی آنی  

دشمن بیاں سنگت بسں وہدا بہارانی  

مڑدم وتارانی پرچا بے ذانی  

رندا مکن تو دلبر مارا شگانی 

ہاتھ اپنوں کے ہاتھ میں دے دو  

دشمن صرف بہاروں کے ساتھی ہیں  

انسان اب خود کو پہچان لے  

پھر مجھ سے گلہ مت کرنا 

کناں زاری سد واری اولی تھامیں پیار اید 

میں تو سو بار توبہ کرتا ہوں پہلے والا پیار نہیں ہے اب 

زیادہ پڑھی جانے والی فن