ناول نگار پاؤلو کوہلو کی پشتو میں ٹویٹ: ’راز حیات کا خلاصہ‘

پاؤلو کوہلو نے پشتو کے ساتھ ساتھ اپنی ٹویٹ اردو اور جاپانی زبان میں بھی کی ہے جس میں انہوں نے ایک مشہور جاپانی محاورے ’ناناکروبی، یاؤکی‘ کا ترجمہ لکھا ہے۔

ناول نگار 76 سالہ پاؤلو کوہلو ڈی سوزا کا  تعلق برازیل سے ہے (پاؤلو کوہلو/ ٹوئٹر)

معروف ناول نگار پاؤلو کوہلو نے ٹوئٹر پر اپنے مداحوں کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے پشتو زبان میں ایک ٹویٹ کی۔

پاؤلو کوہلو کی 28 جنوری کی صبح کی جانے والی اس ٹویٹ کو اب تک ڈھائی ہزار کے قریب صارفین کی جانب سے لائک کیا گیا ہے جبکہ چھ سے زائد مرتبہ ری ٹویٹ بھی کیا جا چکا ہے۔

پاکستان اور باالخصوص افغانستان کے پشتونوں نے پاؤلو سے اس ٹویٹ کے بعد مستقبل میں مزید پشتو ٹویٹس کی درخواست بھی کی ہے۔

پاؤلو کوہلو نے پشتو کے ساتھ ساتھ اپنی ٹویٹ اردو اور جاپانی زبان میں بھی کی ہے جس میں انہوں نے ایک مشہور جاپانی محاورے ’ناناکروبی، یاؤکی‘ کا ترجمہ لکھا ہے۔

ان کی ٹویٹ میں لکھا گیا ہے: ’راز حیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم سات مرتبہ گر پڑو، تو تم پر آٹھویں مرتبہ بھی اٹھ کھڑا ہونا فرض ہے۔‘

پاؤلو کوہلو کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ نہ صرف وہ ایک ناول نگار ہیں بلکہ اپنی تصانیف کے ذریعے وہ قارئین کی ہمت بندھاتے ہوئے ایک ’موٹیویشنسٹ‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہر عمر کے افراد خصوصاً نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں، اور ان کے ناول نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ پاکستان اور خیبر پختونخوا کے کتاب گھروں میں بھی ’ہاٹ کیکس‘ کی طرح بکتے ہیں۔

پشاور میں نوجوانوں کی ادبی بیٹھکوں میں بھی ان کے ناولوں پر بحث مباحثے ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایک ہفتے قبل ایک ایسی ہی بیٹھک میں ان کے ناول ’دی الکیمیسٹ‘ پر نوجوان مرد و خواتین نے روشنی ڈالی۔

تبصرے

پاؤلو کوہلو کی پشتو اور اردو ٹویٹ پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں اور ان کو چاہنے والے حیرت کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بھلا کیسے انہوں نے ان کی زبانوں میں لکھا اور اس کے پیچھے وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ان کی ٹویٹ پر زیادہ تر افغانستان کے پشتونوں نے ہی لکھا اور ان کی پشتو میں ترجمہ کیے گئے ناولوں کی تصاویر شریک کرتے ہوئے ان سے مستقبل میں ایسی مزید ٹویٹ پشتو میں کرنے کی درخواست کی۔

پاؤلو کوہلو کی ایک قدردان رانیہ گنڈا پور جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر پشاور سے ہے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں افغانستان سے زیادہ پشتون آباد ہیں، تاہم افغانستان کے پشتون پشتو بولنے، لکھنے اور پڑھنے پر زیادہ پابند ہیں۔‘

’کئی ایسے افغان باشندے بھی ہیں جن کو اردو اور انگریزی پڑھنا اور لکھنا تو نہیں آتا لیکن پشتو وہ نہ صرف پڑھ سکتے ہیں بلکہ بہت اچھا لکھ بھی سکتے ہیں۔‘

رانیہ نے بتایا کہ انہوں نے نویں جماعت سے ان کے انگریزی ناول ’ویرونیکا۔۔‘ سے شروعات کی تھی، اور جس کے بعد انہوں نے ناول نگار کی تقریبا تمام کتابیں پڑھ ڈالی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے وہ اس لیے پسند ہیں کہ ان کے اقوال ہمیشہ مایوسی اور غمگین لمحات میں رہنمائی کرتے ہیں۔ ویرونیکا اپنی زندگی کی قدر نہیں کرتیں، اس لیے وہ خودکشی کی کوشش کرتی ہے، لیکن جب موت آتی ہے تو مرنے سے قبل ایک ایک سیکنڈ اس کے لیے قیمتی ہوجاتا ہے، جس کو مصنف نے بہت اچھے طریقے سے لکھا ہے۔‘

مصنف کے حوالے سے ان کے جتنے چاہنے والوں سے بات ہوئی زیادہ تر نے یہی کہا کہ وہ ایک ’روحانی‘ لکھاری ہیں اور ان کی تصانیف میں حوصلہ افزائی کے ایسے طاقتور ڈائیلاگ ہوتے ہیں جو ان کی طبیعت پر ایک خوشگوار اثر چھوڑتے ہیں۔ جیسے کہ ’کیمیاگر‘ ناول میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’جب آپ کو کسی چیز کی چاہت اور جستجو ہوتی ہے، تو کائنات کا ذرہ ذرہ اسے آپ سے ملانے کی سازش کرتا ہے۔‘

پاؤلو کوہلو

76 سالہ پاؤلو کوہلو ڈی سوزا کا بنیادی طور پر تعلق برازیل سے ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ایک مصنف بننا چاہتے تھے تاہم ان کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ ایک کامیاب قانون دان بنے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے والدین نے انہیں پاگل خانے میں داخل کروایا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے بعد ازاں ’ویرونیکا ڈیسائیڈز ٹو ڈائے‘ ناول لکھا تو اس ناول میں پاگلوں اور پاگل خانے سے متعلق ان کا مشاہدہ کافی گہرا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’ اس پاگل خانے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہاں سے ٹھیک ہوکر باہر جاسکتے تھے لیکن وہ پھر بھی یہ جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔‘

’دراصل یہ جگہ اتنی بری بھی نہیں ہے۔ یہاں ہر شخص بغیر تنقید کا نشانہ بنے، جو بولنا چاہتا ہے بول سکتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے کہ بہرحال یہ ایک پاگل خانہ ہی تو ہے۔‘

پاؤلو کوہلو کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے والدین کی خواہش کی خاطر لکھاری بننے کا ارادہ ترک کیا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لا سکول سے نکال دیے گئے اور ایک ’ہپی‘زندگی گزارتے ہوئے افریقہ، یورپ اور کئی دیگر ممالک گئے۔

برازیل واپسی پر انہوں نے ابتدا میں نغمے لکھنا شروع کیے اور بعد میں انہوں نے بطور صحافی اور تھیٹر ڈائریکٹر کام کیا۔ بلاآخر 1986 میں جب وہ ایک شادی شدہ زندگی گزار رہے تھے، ان کو ایک ایسی روحانی رہنمائی ملی جس کی بدولت انہوں نے مشہور ناول ’دی الکیمیسٹ‘ لکھا۔

دسمبر2016 میں ایک برطانوی کمپنی ’رچ ٹوپیا‘ کی جانب سے دنیا کے دو سو انتہائی بااثر عصری مصنفین کی فہرست میں پاؤلو کوہلو کو دوسرے نمبر پر جگہ دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل