اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کون؟

ایوانِ بالا کے گڈشتہ روز کے تمام بی ٹیم اراکین کے شجرے کھنگال لیجیے۔ آپ کو ہر ایک کے تانے بانے باآسانی سمجھ آ جائیں گے۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ ان اراکین کی اپنی سیاسی جماعتیں کیا ان سے جواب دہی کریں گی؟

اپوزیشن رہنما مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری 13 دسمبر 2020 کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے ایک حکومت مخالف جلسے میں شریک ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود سٹیٹ بینک بل کا سینیٹ سے پاس ہو جانا نہ صرف اپوزیشن کی حکمتِ عملی کی ناکامی ہے بلکہ بیانیےکی بھی تباہی ہے۔

اب بھی اگر کسی کو شک ہے کہ موجودہ اپوزیشن عمران خان کی سونامی کے سامنے مسلسل ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے تو پھر وہ بےوقوفوں کی جنت کے کارنر پلاٹ کا رہائشی ہے۔

بھلا اس بات کا کیا جواز اور جواب ہے کہ ووٹنگ سےقبل اپوزیشن کی عددی اکثریت ایوان میں موجود ہو اور عین ووٹنگ کے وقت کوئی کھسک لے۔ کوئی غیر حاضر نکل آئے اور کوئی حکومت کا غیبی ووٹر بن کر ابھر آئے۔

بتانے والوں نے بتایا کہ فون تو اس بار بھی بجے لیکن اب کے حکومتی بینچوں والوں کو نہیں بلکہ اپوزیشن بینچوں کی چند بےتاب روحوں کے ساتھ رابطے جوڑے گئے۔ چند بخوشی راضی ہو گئے اور جنہیں ’ممکنہ اثرات‘ سے محفوظ رہنا تھا انہوں نے ’ممکنہ عذر‘ تراش لیے۔

گزشتہ روز کے ایوانِ بالا کے تمام بی ٹیم اراکین کے شجرے کھنگال لیجیے۔ آپ کو ہر ایک کے تانے بانے باآسانی سمجھ آ جائیں گے۔ لیکن اصل سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اراکین کی اپنی اپنی سیاسی جماعتیں کیا ان سے جواب دہی کریں گی؟

بعینہ وہی قسط دہرائی گئی ہے جو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پڑنے والے اضافی ووٹوں کی کہانی تھی۔ اُسی وقت اگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں تحقیقات کروا کے باغیوں کے نام عوام کے سامنے لے آتیں اور اُن اراکین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کرتیں تو شاید دوبارہ ایسی صورتحال کی نوبت نہ آتی۔ لیکن مجبوریاں، مصلحتیں تب بھی آڑے آئیں تھیں اور اب بھی داستاں میں چنداں فرق نہیں پڑا۔

افسوس کا مقام ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی کمپرومائزڈ سیاست کے نام پر عوام کو مسلسل بےوقوف بنا رہی ہیں۔ ایک طرف لانگ مارچوں کے ذریعے حکومت گرا دینے کی گیدڑ بھبکیاں، آئی ایم ایف کے سامنے سٹیٹ بنک سمیت معیشت اور پورے ملک کو گِروی رکھوا دینے کے کھولھلے جوشیلے بیانات، عوام کی ترجمانی اور حقوق کے تحفظ کی لفّاظی اور دوسری جانب۔۔۔۔ یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا۔

گزشتہ ساڑھے تین سالوں نے اگر حکومت کی نااہلی ثابت کی ہے تو یہ حقیقت بھی نوشتۂ دیوار بنی ہے کہ دراصل اپوزیشن حکومت سے زیادہ نااہل، نکمّی اور نکٹھو ہے۔

یہ محض چُوری کھانے والے طوطے ہیں جو چند رَٹے رَٹائے الفاظ عوام کی تفریحِ طبع کی خاطر ہر دوسرے روز گردان کرتے رہتے ہیں۔ مگر اس سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔

اپنے گزشتہ کالموں میں عرض کیا تھا، ایک بار پھر دہرائے دیتی ہوں کہ امکانات غالب تھے جوائنٹ اپوزیشن کا لانگ مارچ یا تو ہو گا نہیں اور اگر ہوا بھی تو نشستند، گفتند، برخاستند سے آگے کوئی اثر ڈالنے میں ناکام رہے گا۔

اب بھی امکانات موجود ہیں کہ حالات کچھ ایسا رُخ اختیار کر جائیں کہ پی ڈی ایم والا لانگ مارچ التوا کا شکار ہو جائے۔ لیکن جیسا کہ اعلان کیا بھی جا چکا ہے۔ اگر یہ مارچ وقوع پذیر ہوتا بھی ہے توحکومت گرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

اہم بات یہ بھی دیکھنے کی ہو گی کہ کیا شہباز شریف اور مریم نواز اس لانگ مارچ کو پنجاب سے لِیڈ کرتے ہیں یا نہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پیپلزپارٹی لانگ مارچ کی بھی متوقع ہے۔

اب چونکہ پی ڈی ایم اپنے لانگ مارچ کا اعلان کر چکی تھی سو پی پی کیلئے پیچھے رہنا سیاسی اعتبار سے سُود مند نہ تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اس لانگ مارچ کو اپنے ورکر کو موبلائز کرنے، پنجاب میں ایک تازہ انٹری ڈالنے اور اپنی سٹریٹ پاور کے اظہار سے آگے نہیں بڑھا پائے گی۔

حکومت گرانے کیلئے اپوزیشن کے پاس نہ تو ایوان میں نہ ہی میدان میں حکمتِ عملی موجود ہے نہ ہمّت۔

سٹیٹ بنک بل کی منظوری جیسے ہر اچھنبا دینے والے مگر ممکنہ اور متوقع واقعے کے بعد اپوزیشن نہ صرف بذاتِ خود حکومت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی مضبوط کیے جا رہی ہے۔

اگر بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں موجودگی اور مداخلت کے واقعتاً نظریاتی اعتبار سے مخالف ہیں تو جمعے کے روز سینیٹ سے غیرحاضر، کھسکنے والے اور گنتی کا پلڑا جھکانے والے اپنے اپنے تمام اراکین کے خلاف کاروائی کا آغاز کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا کیوں کہ اپوزیشن اِسی تنخواہ پر کام کرتی رہے گی۔ حتی کہ آنے والے چند مہینوں میں کسی اہم پیشرفت کیلئے آلۂ کار بننے میں بھی سبقت لے جانے والوں میں سے صفِ اوّل کی دوڑ میںنظر آئے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ کپتان کی قیادت میں حکومت کم از کم اپنی موجودہ مدت پوری کرے گی اور سانپ سیڑھی کے کھیل میں مدت کا نمبر پورا کرنے سے پہلے ہی ڈسے جانے والے جماعتیں: ن لیگ اور پیپلزپارٹی، خود اپنے ہاتھوں تاریخ کاپہلا وزیراعظم سلیکٹ کریں گی جو اپنا منتخب، آئینی جمہوری دور پورا کرے گا۔

گزشتہ روز کی شرمناک شکست کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو چاہئیے کہ اپنے اپنے لانگ مارچوں کا بوریا بستر ویسے ہی سمیٹ لیں اور عوام کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہر گز نہ کریں۔ کیوں کہ ’نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘۔

بہتر ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کی تیاری میں لگے رہیں۔ رہ گئے عوام تو جس طرح رو پیٹ کر گزشتہ ساڑھے تین سال نکال لیے۔ آئندہ ڈیڑھ سال بھی گزر ہی جائیں گے۔ لیکن خدارا عوام کے حقوق کے تحفظ کے نام پر عوام کو چُونا لگانا اور ان کا استحصال کرنے کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔ عوام ویسے بھی عادی ہو چکے ہیں کہ ہر نئے حکومتی ظالمانہ اقدام کے بعد اپوزیشن کی چند بودی کھوکھلی ٹویٹس کے ذریعے دل کو بہلا لیا جائےکہ برائے نام ہی سہی پر کم سے کم حاضری تو لگی۔

یہاں بھی بھلا ہو عمران خان کا کہ ان کی پارٹی نے سوشل میڈیا کا ایسا ’خطرناک‘ استعمال کا ٹرینڈ متعارف کروایا کہ نہ صرف خود سوشل میڈیا کی حکومت کہلائی بلکہ اپوزیشن کو بھی مجبور اور محدود کر ڈالا کہ سوشل میڈیا پر اپنی حاضریاں یقینی بناتے رہیں وگرنہ جہاں انہیں ہونا چاہیے وہاں تو غیر حاضریاں یقینی بنانے کے لیے بڑی تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔

سو آئندہ کسی بھی عوام مخالف حکومتی اقدام کے جواب میں اپوزیشن کی مذمتی ٹویٹس کی بہار آنے تک انقلاب کی دکان پر ادھار بند ہے کا بورڈ آویزاں سمجھیے۔


یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ