پادریوں پر حملے میں داعش خراسان ملوث ہو سکتی ہے: پشاور پولیس

پولیس نے اتوار کو پشاور میں تین مسیحی افراد پر حملے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ سی ٹی ڈی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں داعش خراسان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

پشاور میں 30 جنوری کو  نامعلوم افراد کی فائرنگ میں مارے جانے والے پادری ولیم سراج کے رشتہ دار ان کی میت کے پاس غم سے نڈھال ہیں (فوٹو:اے پی)

پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور میں اتوار کو تین مسیحی افراد پر حملے کے واقعے کی ایف آئی آر دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لی گئی ہے، تاہم تاحال کسی دہشت گرد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جس میں ایک پادری کی موت ہوئی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سربراہ ڈی آئی جی جاوید اقبال نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تاحال قاتلوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ واقعہ دہشت گردی کا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں داعش خراساں ملوث ہو۔

ان کا کہنا تھا: ’خیبر پختونخوا میں پچھلے پانچ چھ ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کے تقریباً 80 فیصد حملوں میں داعش کا ہاتھ رہا ہے۔ پچھلے سال اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ستنام سنگھ کے قتل میں بھی یہی تنظیم ملوث تھی۔‘

ڈی آئی جی جاوید اقبال نے بتایا کہ تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے، مگر اس وقت کسی طرح کی تفصیلات دینا قبل از وقت ہوگا۔

چمکنی تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق ہزار خوانی میں واقع شہیدان آل سینٹس چرچ کے پاسٹر ولیم سراج، پاسٹر پیٹرک نعیم اور عنایت کو اتوار کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ عبادت ختم کرکے ایک گاڑی میں ڈیڑھ بجے کے قریب چرچ سے نکلے۔

تھانہ چمکنی کے نائب محرر معراج گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پادری پیٹرک نعیم کی مدعیت میں مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 324،34،427 اور انسداد دہشت گردی قانون کے سیکشن سات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں پادری پیٹرک نعیم نے کہا کہ ’وہ چرچ میں عبادت کے بعد پادری ولیم سراج اور عنایت کے ہمراہ جا رہے تھے اور پادری ولیم سراج ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر تھے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی ایک پیٹرول پمپ کے قریب پہنچی تو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔‘

انہوں نے بتایا: ’دونوں مسلح افراد میں سے ایک نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، جب کہ دوسرے نے چادر اوڑھی تھی اور اس کا نحیف بدن کا تھا۔‘

انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ولیم سراج کے سر اور جسم کے دوسرے حصوں میں گولیاں لگیں اور انہیں 1122 کی مدد سے ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ راستے میں دم توڑ گئے۔

پادری پیٹرک نعیم نے ایف آئی آر میں بتایا: ’ہماری کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں ہے، معاملہ ملک دشمن عناصر کا معلوم ہوتا ہے۔‘

اس حملے میں پیٹرک معمولی زخمی ہوئے جبکہ عنایت جو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے، محفوظ رہے۔

جائے وقوعہ صوبائی اسمبلی سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں جابجا سرکاری عمارتیں، دکانیں اور پلازے بنے ہوئے ہیں اور جہاں ہر وقت لوگوں کا کافی رش رہتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے کے فوراً بعد چرچ آف پاکستان کے بشپ سرفراز پیٹر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام مسیحی متحد اور کمر بستہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’تینوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ عبادت کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر کے لیے نکل رہے تھے۔ اس دوران دہشت گرد پہلے سے تاک میں بیٹھے تھے تاکہ جیسے ہی وہ نکلیں تو انہیں قتل کر سکیں۔‘

گذشتہ روز پشاور پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بھاری نفری کو جائے وقوعہ پر تعینات کرکے علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا اور دکانوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری کو ملزمان کی فوری گرفتاری اور ضروری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایات کیں جبکہ ڈپٹی کمشنر پشاور خالد محمود، کمشنر پشاور ڈویژن ریاض محسود اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عادل وسیم مقتول مسیحی پادری کے گھر گئے اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ولیم سراج کون تھے؟

ولیم سراج کے رشتہ دار اور سینٹ جانز کیتھڈرل کے پادری جوزف جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی عمر 60 سال سے زائد تھی اور ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں، جو دونوں شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ولیم کے داماد 2013 میں پشاور کے چرچ دھماکوں میں شہید ہوئے تھے اور ان کے تین بچے بھی ولیم کی کفالت میں تھے۔ ان کی اہلیہ حیات ہیں، لیکن زیادہ تر بیمار رہتی ہیں۔‘

پادری جوزف نے مزید بتایا کہ ولیم ہی کی مخلص خدمات کی وجہ سے شہیدان آل سینٹس چرچ آباد تھا، جس میں وہ بحیثیت ایک نگران و مرشد کام کرتے تھے۔

’وہ ایک نہایت ایماندار شخص تھے۔ بیماروں کی عیادت اور لوگوں کی مدد میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ چرچ کی ذمہ داریوں کے علاوہ وہ یونیورسٹی پبلک سکول میں ایک استاد کی حیثیت سے پڑھاتے بھی تھے۔‘

پشاور کے کوہاٹی گیٹ کے علاقے میں آل سینٹس چرچ پر ستمبر 2013 کے حملے میں پاسڑ ولیم سراج کے داماد سمیت 127 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جنداللہ نے قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ 2013 میں پشاور کوہاٹی گیٹ میں واقع آل سینٹس چرچ میں بیک وقت دو بم دھماکوں کو اقلیتوں کے خلاف کیا جانے والا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ تصور کیا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں 127 افراد ہلاک اور  تقریبا ڈھائی سو زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان