اضافی ٹیکس: ’گاڑی ابھی سمندر میں ہے اور لاکھوں روپے قیمت بڑھ گئی‘

کار ڈیلرز کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا اور بکنگ معمول سے زیادہ ہوئی مگر حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے ٹیکس بڑھانے کے باعث پہلے سے بکنگ کروانے والوں کو مزید تین سے پانچ لاکھ روپے تک ادا کرنے پڑیں گے۔

16 مئی 2005 کی اس تصویر میں کراچی کی بندرگار پر موجود گاڑیوں کی قطاروں کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

حکومت پاکستان کی جانب سے حال ہی میں پیش گئے منی بجٹ کے بعد 1000 سی سی سے زائد ہارس پاور کی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھنے سے قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق منی وین سمیت 1000 سی سی سے اوپر کی مختلف قسم کی گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ریٹ 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح پولی پروپیلین سمیت مختلف اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح بھی پانچ فیصد اضافے کے ساتھ10 فیصد کر دی گئی ہے۔

ٹیکسوں میں اس اضافے کو کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے بھی مسترد کرتے ہوئے نئے ٹیکسوں کے ساتھ گاڑیاں کلیئر کروانے کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس اضافے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

دوسری جانب کار ڈیلرز کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا اور بکنگ معمول سے زیادہ ہوئی مگر حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جن کی پہلے بکنگ ہوچکی وہ اب مزید تین سے پانچ لاکھ روپے تک کیسے ادا کریں گے۔

جبکہ حکومت نے اس اقدام کو معاشی معاملات آن ریکارڈ کر کے مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کے اقدام کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

نئے ٹیکسوں سے قیمتوں میں فرق

لاہور کے رہائشی آفاق احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ٹویوٹا کی ایکوا 15سو سی سی گاڑی پچھلے ماہ 32 لاکھ روپے میں بُک کروائی لیکن اب انہیں ڈیلر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گاڑی کراچی بندرگاہ پہنچنے والی ہے لیکن چونکہ حکومت کی جانب سے ریگولیٹری ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، لہذا وہ پانچ لاکھ روپے مزید ادا کریں یعنی اب انہیں وہی گاڑی 37 لاکھ روپے میں پڑے گی۔

آفاق کے بقول پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچنے کے لیے انہوں نے ہائبرڈ گاڑی خریدنے کی کوشش کی تھی تاکہ پیٹرول کم سے کم استعمال ہو، لیکن حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں کے ذریعے پیٹرول اخراجات سے بچنے کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’گاڑی ابھی سمندر میں ہے اور لاکھوں روپے قیمت بڑھ گئی ہے۔ ان حالات میں ہائبرڈ گاڑی خریدنا کسی امتحان سے کم نہیں۔ دوسری جانب مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کا معیار اتنا کم ہے کہ دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں بھی زیادہ فرق نہیں۔‘

بقول آفاق: ’حکومت نے 1000 سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر دعویٰ کیا ہے کہ یہ امیروں کے لیے ہے۔ کون سا کروڑ پتی 1000 سی سی یا 1300 سی سی گاڑی خریدتا ہے؟‘

اس حوالے سے لاہور کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار چوہدری حسن علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جن لوگوں نے ہائبرڈ امپورٹڈ گاڑیاں بُک کروائی تھیں، اب وہ غیر معمولی ٹیکس بڑھنے سے تین سے پانچ لاکھ روپے اضافی جمع کروانے سے انکار کر رہے ہیں جس سے خریداروں اور ڈیلرز کے درمیان لڑائی جھگڑے ہونے لگے ہیں۔ کاروبار تو کیا کرنا ہر شوروم پر پنچایتیں ہی لگی ہیں۔‘

حسن علی نے مزید بتایا کہ 1200 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں پر پہلے ساڑھے نو لاکھ روپے تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی اور گاڑی 30 لاکھ روپے تک باآسانی مل جاتی تھی مگر اب تین لاکھ روپے تک کے اضافہ کے بعد ساڑھے 12 لاکھ روپے تک ڈیوٹی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

بقول حسن علی: ’ان گاڑیوں کی قیمت بھی 33-32 لاکھ سے بڑھ کر 38-37 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 1500 سی سی ہنڈا ویزل ہائبرڈ 2016 ماڈل پر ریگولیٹری ڈیوٹی دو لاکھ 55ہزار تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے اس کی قیمت بھی تین سے چار لاکھ روپے بڑھ گئی ہے۔‘

’ٹویوٹا سی ایچ آر 1800 سی سی ہائبرڈ 17 ماڈل گاڑی کی ڈیوٹی پانچ لاکھ 50ہزار تک بڑھائی گئی ہے، جس سے اس گاڑی کی قیمت بھی 57-56 لاکھ روپے سے بڑھ کر 63-62 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔‘

حسن علی نے بتایا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ ’جب درآمدی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں گی تو مارکیٹ میں طلب بڑھنے پر 1000 سی سی سے کم گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ 660 سی سی گاڑی 2018 سے اوپر ماڈل بھی 17-16 لاکھ سے کم میں نہیں ملتی۔‘

کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس اور حکومتی موقف

درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس کرانے والے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس بھی ریگولیٹری و دیگر ٹیکسوں میں غیر متوقع اضافے سے پریشان ہیں۔

کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کراچی کے رہنما نوید پکھل نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’منی بجٹ میں حکومت نے بغیر کسی منصوبہ بندی اور متعلقہ افراد کو اعتماد میں لیے بغیر بلاوجہ تین سے پانچ لاکھ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ جو گاڑیاں پہلے بُک ہوچکی ہیں وہ پرانی قیمت میں بُک ہوئی ہیں، اب ہم اپنے پاس سے اتنے ٹیکس کیسے ادا کریں؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس نے گاڑیوں کی نئے ٹیکسوں کے ساتھ کلیئرنس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور مشاورت کی جارہی ہے جلد ہی اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ حکومت نے بغیر کسی وجہ کے آمدن میں اضافے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا ہے۔‘

اس معاملے پر جب وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے کامرس عالیہ حمزہ سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے مقامی کمپنیوں کے دباؤ میں آکر درآمدی گاڑیوں پر ریگولیٹری ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے، بلکہ اس اقدام کا مقصد معاشی پالیسی کو آن ریکارڈ لانا ہے تاکہ غیر قانونی طریقہ سے گاڑیوں کی درآمد کو روکا جاسکے اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کی نسبت 2021میں درآمدی گاڑیوں کی تعداد میں 29فیصد اضافہ ہوا جس سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔

عالیہ حمزہ کے بقول: ’1000 سی سی تک گاڑیوں پر نئے ٹیکس عائد نہیں کیے گئے۔ ہم نے نئے ٹیکس اس لیے لگائے ہیں تاکہ سی بی یو جس کے تحت پوری گاڑی باہر سے درآمد ہوتی ہے، اسے روکا جائے تاکہ جو 26کمپنیاں پاکستان میں گاڑیاں بنانے جارہی ہیں ان کی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملکی زرمبادلہ بڑھایاجائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ویسے بھی 1000 سے اوپر سی سی گاڑیاں امیر خریدتے ہیں، لہذا ان گاڑیوں پر ٹیکس تھوڑا بڑھایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے دودھ سمیت کھانے پینے کی اشیا پر جو 71 ارب روپے کا ٹیکس تھا، وہ ہٹایا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت