ٹیم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں: یونس خان

یونس خان نے کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم کے پاس بہت تجربہ ہے جبکہ پاکستان کی ٹیم زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لیکن پاکستان کو ’ہوم ایڈوانٹیج‘ ہوگا

پاکستان کے مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ سیریز تاریخی ہے اور دنیا کی نمبرون اور تجربہ کار ٹیم کے ساتھ میچ کھیلنے سے پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں یونس خان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ 24 سال بعد آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تو خواہش ہی رہ گئی کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی سرزمین پر ٹیسٹ کھیلتے۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے تناظر میں یہ دورہ بہت اہم ہے کیوں کہ ہوم سیریز ٹیمز جیتتی ہیں۔

ان کے مطابق: ’ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ہوتا ہے لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں، ان کے خلاف اچھا کھیلنا ہوگا اور اگر پاکستان جیتتا ہے تو بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔‘

یونس خان نے کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم کے پاس بہت تجربہ ہے جبکہ پاکستان کی ٹیم زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لیکن پاکستان کو ’ہوم ایڈوانٹیج‘ ہوگا اس لیے اچھا کھیلنا بہت ضروری ہے۔

سابق کپتان نے مشورہ دیا کہ پاکستانی بلے بازوں کو کریز پر ٹھہرنا چاہیے کیوں کہ اپنی پچز ہیں اور اپنی کنڈیشنز ہیں، عالمی سطح پر کھیلنا ہے تو پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی ذہنی سطح آسٹریلین کھلاڑیوں کے برابر رکھنی ہوگی۔

برصغیر کی پچز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر باؤنس کم ہوتا ہے، سلو سپن ہوتا ہے مگر اتنا زیادہ ٹرن نہیں ہوتا لیکن اس وجہ سے باہر سے آئے ہوئے بلے باز مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اکثر باہر سے آئے ہوئے سپنر بھی مشکل میں ہوتے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ اس سیریز میں یاسر شاہ کی کمی محسوس کی جائے گی اگرچہ وہ ریزرو کھلاڑی ہیں اور ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔

لیگ سپن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مچل سویپسن اور زاہد محمود دونوں ہی نئے کھلاڑی ہیں جن کے پاس زیادہ تجربہ نہیں، لیکن آف اسپن میں اُن کے پاس نیتھن لیون ہیں جن کی 400 سے زیادہ وکٹیں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس اتنے تجربے کار سپنرز نہیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’ان دنوں پاکستان کی ٹیم بہت زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلتی نہیں ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں۔‘

یونس خان کا کہنا تھا کہ حسن علی کی انجری کی وجہ سے کچھ خدشات ہیں مگر وہ جب بھی کھیلتے ہیں مخالف ٹیم پر اثر چھوڑتے ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی کے پاس تیز گیند بازی کی صلاحیت ہے۔

ان کے مطابق: ’ہمیں بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں کیوں کہ زیادہ توقعات سے ٹیم پر بہت زیادہ دباؤ پڑ جاتا ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیم آئی ہے، اس کی خوشی منائیں، بہترین کرکٹ کھیلیں اور جو بھی نتیجہ آئے اسے قبول کریں۔‘

پاکستان کے تینوں شہروں کے موسم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ موسم کا اثر ہوگا، راول پنڈی اور لاہور میں اب بھی سردی کے اثرات ہیں اور پچ میں نمی ہوگی مگر کراچی میں پچ مکمل طور پر خشک ہوتی ہے لیکن کیوریٹرز کو چاہیے کہ ایسی پچز بنائیں کہ ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آئے۔

یونس خان نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں لمبی اننگ کھیلنے کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے، اس لیے ٹیسٹ کرکٹ کو بہت زیادہ تشہیر کی ضرورت ہے، کیوں کہ کسی بھی کھلاڑی کا معیار ٹیسٹ کرکٹ سے ہی جانچا جاسکتا ہے۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ وقت بدلتا ہے اور آگے بڑھنا ہے اب 70 کی دہائی کی کرکٹ نہیں ہوسکتی۔ لیکن کرکٹ کو بہت زیادہ کمرشل ہونے سے بچانا ہوگا، بورڈز کو بیلنس رکھنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ  ٹیسٹ ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں کرنی چاہییں۔ آسٹریلیا کے خلاف بھی دیکھیں تو تجربے کا فرق ہے، ٹیسٹ ٹیم میں ایک شکست کے بعد تبدیلیاں کردینا مناسب نہیں، ایک ہی ٹیم کو جتنا ہوسکتے کھلانا چاہیے جس کے اچھے نتائج آتے ہیں۔

کرکٹ بورڈ کی جانب سے آسٹریلیا سے ’ڈراپ ان پچز‘ منگوانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں میدان کو مختلف کھیلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے وہاں یہ ہوتا ہے، اگر ہم یہ پچز لے آتے ہیں تو اس میں موسم کا بھی عمل دخل ہوتا ہے، ان پچز کا خیال کیسے رکھا جائے گا۔

ان کے مطابق: ’بہتر ہے کہ اگلے 20 سالوں کا سوچا جائے اور یہ نہ ہو کہ ہم چھ ماہ بعد سوچیں کہ اب کیا کریں۔‘

آئی سی سی کی جانب سے بیٹسمین کے لیے بیٹر کی اصطلاح پر ان کا کہنا تھا کہ یہ آسان ہے اور بہتر بھی ہے کیوں کہ خواتین کی کرکٹ میں پھر ہم کیا کہتے، اس لیے یہ اچھا اور مناسب فیصلہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ