راولپنڈی ٹیسٹ: پاکستان 1998 کی شکست کا بدلہ لے سکے گا؟

23 سال بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آج راولپنڈی کے اسی میدان میں پہلا ٹیسٹ کھیلا جا رہا ہے جہاں آخری مرتبہ آسٹریلیا کی ٹیم فاتح ٹھہری تھی۔

پاکستان ٹیم میں شامل محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ دو مارچ 2022 کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس کر رہے  ہیں(اے ایف پی)

جمعے کی صبح پورے پاکستان میں ایک عام سی صبح ہو گی لیکن راولپنڈی میں سورج جب مشرق سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے روشن دن کا اعلان کرے گا تو بہت کچھ بدل رہا ہو گا کیونکہ 24 سال کے طویل تعطل کے بعد آسٹریلیا ایک بار پھر پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلتا ہوا نظرآئے گا۔

ان 24 سالوں میں پاکستان کرکٹ نے متعدد بار انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے خواب سجائے۔ کچھ تو تعبیر میں بدل گئے مگر کچھ خواب ابھی بھی شرمندہ تعبیر ہیں جن میں سے ایک آسٹریلیا کی میزبانی بھی ہے۔

پاکستان کرکٹ کے ذمہ داروں نے اس عرصے میں آسٹریلیا کو پاکستان لانے کی سر توڑ کوشش کی لیکن ہر بار پلئیرز ایسوسی ایشن نے دبئی سے آگے نہ بڑھنے دیا۔

اگرچہ اس دوران کئی مغربی ممالک کی ٹیمیں پاکستان آتی رہیں اور آسٹریلیا سمیت ہر ملک کے کھلاڑی نے پی ایس ایل میں قسمت آزمائی کی، لیکن کینگرو عنقا ہی رہے۔

تاہم اب وہ وقت قریب آن پہنچا ہے جب اس وقت دنیا کی ایک مضبوط ٹیم حریف ٹیم راولپنڈی سے اپنے تین ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کا آغاز کر رہی ہے۔

اس سیریز کو دو لیگ سپنروں عبدالقادر اور رچی بینو کے نام منسوب کیا گیا ہے اور ان کے ناموں سے ٹرافی کی رونمائی راولپنڈی میں ہو گئی ہے۔

یہ وہی گراؤنڈ ہے جس میں آخری مرتبہ جب آسٹریلیا میدان میں اتری تھی تو فتح کے شادیانے بجاتی ہوئی باہر نکلی تھی اب پھر وہی گراؤنڈ ہے۔

پاکستان ٹیم بھی اس معرکے کے لیے پوری طرح تیار ہے  کچھ کھلاڑیوں کی بے وقت عدم دستیابی نے بابر اعظم کو وقتی طور ہرپریشان کردیا ہے فہیم اشرف اور حسن علی تو زخمی ہیں اور حارث رؤف کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔

پاکستان ٹیم نے ان کھلاڑیوں کی جگہ پُر کرنے کے لیے نسیم شاہ، افتخار احمد اور محمد عباس کو شامل کرلیا ہے پاکستان ٹیم کو اس ٹیسٹ میچ میں ہوم گراؤنڈ کا فائدہ حاصل ہے تاہم یہ فائدہ اسی وقت کارگر ہوگا جب کھلاڑی سو فیصد کارکردگی دکھائیں گے۔ 

راولپنڈی کی پچ کیا رنگ دکھائے گی؟

ہر ٹیسٹ سے قبل پچ ایک معمہ ہوتی ہے اور دونوں کپتان ٹاس سے قبل تک سینکڑوں مرتبہ اس کو دیکھتے ہیں۔

راولپنڈی میں پی سی بی کے کیوریٹر نے تین پچیں تیار کی ہیں جن میں سے درمیانی پچ پر میچ ہونے کا امکان ہے۔ پچ سخت خشک اور ٹھوس نظر آرہی ہے، گھاس نہ ہونے کے برابر ہے اور پانی بالکل نہیں دیا جا رہا۔ بھورے رنگ کی پچ پر سورج کی پڑتی ہوئی شعاؤں کا انعطاف واضح کر رہا ہے کہ پچ بیٹنگ کے لیے موزوں ہو گی۔

آسٹریلین سپنر ناتھن لائن کے مطابق پچ دبئی کی طرح نظر آ رہی ہے اور اگر گھاس مزید کاٹ دی گئی تو پہلے تین دن بیٹنگ کے لیے جنت ہوں گے، جبکہ آخری دو دن سپینر پچ پر پڑنے والے گڑھوں کی مدد سے بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔ 

روایتی طور پر پاکستان سپنروں کے لیے موزوں پچ بنا سکتا ہے لیکن ناتھن لائن کی موجودگی میں سپن پچ چیلنج ہو گی کیونکہ پاکستان کے دونوں سپنر ناتجربہ کار ہیں اور لائن ایسی پچوں کے ماہر ہیں۔ ناتھن لائن بیٹنگ پچ پر بھی پاکستانی بلے بازوں کے لیے چیلینج ہوں گے۔

راولپنڈی کی پچ پہلے دن کے پہلے دو گھنٹے میں فاسٹ بولروں کو مدد دے سکتی ہے کیونکہ موسم میں خنکی سے پچ پر ہلکی سی نمی ہوسکتی ہے جس سے گیند ممکنہ طور پر سیم ہو گا، لیکن دن گزرنے کے ساتھ یہ بیٹنگ کے لیے سازگار ہوتی جائے گی۔ 

پاکستانی ٹیم میں کون شامل ہو گا؟

پاکستان ٹیم نے آخری ٹیسٹ میچ بنگلہ دیش میں کھیلا تھا جس میں عابد علی اور حسن علی نے متاثر کن کارکردگی دکھائی تھی۔ اب عابد علی بیماری کے باعث موجود نہیں ہیں اور ان کی جگہ شان مسعود ٹیم میں بحیثیت اوپنر شامل ہیں۔

اوپننگ کے فرائض عبداللہ شفیق اور شان مسعود انجام دیں گے۔ شان مسعود بہت اچھی فارم میں ہیں اور ان سے بڑے سکور کی توقع ہے۔ عبداللہ شفیق بھی پی ایس ایل میں اچھے ردم میں نظر آئے ہیں اس لیے وہ بھی بڑا سکور کر سکتے ہیں۔

اظہر علی بدستور ون ڈاؤن ہوں گے۔ گذشتہ روز نیٹ میں ایک تیز گیند ان کے ہیلمٹ پر لگی تھی اور وہ گر گئے تھے تاہم مینیجمنٹ نےاب تک ان کو فٹ ہی قرار دیا ہے۔

بابر اعظم، فواد عالم اور محمد رضوان مڈل آرڈر سنبھالیں گے۔ ساتویں نمبر پر زخمی فہیم اشرف کی جگہ مینیجمنٹ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکی کہ کس کو کھلایا جائے۔ ایک رائے ہے کہ سعود شکیل کو ڈیبیو کرا کے بیٹنگ مضبوط کر لی جائے جبکہ کچھ لوگوں کا مشورہ ہے کہ افتخار احمد کو آل راؤنڈر کی حیثیت سے کھلایا جائے۔

بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ نسیم شاہ قوی امیدوار ہیں لیکن وسیم جونیئر کو بھی ڈیبیو کرایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں۔

پاکستان سپن بولنگ کے لیے بالکل واضح ہے، نعمان علی اور ساجد خان سپن کا شعبہ سنبھالیں گے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا نے اپنی آخری سیریز انگلینڈ کے خلاف کھیلی تھی جس میں انگلینڈ کو ریکارڈ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، پانچ میں سے چار ٹیسٹ آسٹریلیا نے یکطرفہ طور پر جیتے تھے۔ آسٹریلیا کی بیٹنگ کے ساتھ بولنگ بھی بہت عمدہ رہی تھی۔

آسٹریلیا کی ٹیم کم وبیش انہی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو ایشز میں کھیلے تھے۔ ڈیوڈ وارنر اور پاکستانی نژاد عثمان خواجہ اوپننگ کے لیے پہلی ترجیح ہوں گے کیونکہ مارکوس ہیرس کو خراب کارکردگی پر آخری دو ٹیسٹ نہیں کھلائے گئے تھے اور عثمان خواجہ نے سنچری بنا کر اپنی جگہ مضبوط  کر لی تھی۔

ون ڈاؤن کی پوزیشن پر آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان مارنس لابوشین ہوں گے جنہوں نے اس دورے کے لیے کافی تیاری کر رکھی ہے۔ سٹیو سمتھ چوتھے جب کہ پانچویں نمبر پر ٹریوس ہیڈ ہوں گے۔ ٹریوس نے آخری ٹیسٹ میں فتح گر سنچری سکور کی تھی۔

چھٹے نمبر پر آل راؤنڈر کیمرون گرین کی شمولیت یقینی ہے، حالانکہ مچل مارش بھی موجود ہیں لیکن گرین کی اضافی خصوصیت بولنگ ان کو ترجیح دلاتی ہے، جب کہ ایلکس کیری وکٹ کیپنگ کریں گے۔

کپتان پیٹ کمنز مچل سٹارک فاسٹ بولنگ اور ناتھن لیون سپن بولنگ سنبھالیں گے۔ اصل مقابلہ جوش ہیزل ووڈ اور مچل سویپسن میں ہوگا۔

راولپنڈی وکٹ دیکھتے ہوئے سویپسن اپنے کیرئیر کا آغاز کرتے نظر آرہے ہیں۔ وہ لیگ بریک بولر ہیں اور ٹی 20 ٹیم کا حصہ ہیں۔

پاکستان کرکٹ کے لیے موجودہ دورہ بہت اہم ہے کیونکہ اس دورے سے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کی بھی راہ ہموار ہو جائے گی۔

پاکستانی ٹیم نے 1998 میں اسی گراؤنڈ میں ٹیسٹ ہارا تھا اور اب پاکستان کے پاس موقع ہے کہ اپنی شکست کا بدلہ لے سکیں۔ تاہم اس وقت کے مقابلے میں موجودہ ٹیم کمزور تو ہے لیکن متحد ہے، 1998 میں ٹیم سارے بڑے نام ہونے کا باوجود نفاق کا شکار تھی اور میچ فکسنگ کا داغ بھی تھا۔

موجودہ ٹیم بابر اعظم کی قیادت میں ایک یونٹ کی شکل میں پرفارم کر رہی ہے اس کی سب سے بڑی طاقت آپس میں اتحاد و اتفاق ہے اور یہی ایک عنصر ہے جو ہارتی ہوئی بازیاں فتح میں بدل دیتا ہے۔

کیا سبز کیپ سروں پر سجائے شاہین اپنی آخری شکست کا بدلہ لے سکیں گے؟ اس کا جواب تو اگلے پانچ دن کے اندر اندر مل جائے گا لیکن مضبوط حوصلوں سے بھرپور نوجوان ٹیم کچھ کر دکھانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہے۔

تو تیار ہوجائیے جمعے کی صبح ایک ایسے میچ کو دیکھنے کے لیے جس کی رفتار تو سست ہے لیکن اس کا تجسس خون کی روانی کو بہت تیز کر دیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ