’آن لائن ہراسانی کے شکار افراد میں مردوں کی تعداد 30 فیصد‘

غیرسرکاری ادارے، ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن،کے مطابق ان کی ہیلپ لائن کوگذشتہ سال چار ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں،جن میں 1600کے قریب ذاتی نوعیت کی تصاویرکے غیرمجازاستعمال سے متعلق تھیں۔

ماہرین کے مطابق خواتین کے ساتھ ہراسانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں(تصویر: پکسلز)

پاکستان میں ایک غیرسرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کے مطابق ادارے کی ہیلپ لائن کوگذشتہ سال آن لائن ہراسانی کی چار ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں 30 فیصد مردوں کی تھیں۔

ماہرین کے مطابق خواتین کے ساتھ ہراسانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں۔

کئی نامور تعلیمی اداروں میں طالبات اور خاتون اساتذہ کی آن لائن ہراسانی کے واقعات گذشتہ سالوں میں سامنے آئے ہیں لیکن ’مہران یونیورسٹی سکینڈل‘ ایک ایسا واقعہ ہے جو دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی میڈیا میں کم ہی زیربحث آیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس سکینڈل کا ہدف یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے لے کر سٹاف کے مرد ممبران بھی بنے۔

اس سکینڈل کی کہانی اشفاق لغاری خود بیان کرتے ہیں۔ جو مہران یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (میوٹ) جامشورو کے شعبہ ابلاغ عامہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ اس سکینڈل کا بنیادی ہدف تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ: ’کسی ڈراونے خواب کے جیسی وہ صبح کئی معنوں میں بڑی عجیب ثابت ہوئی۔ جھوٹے اور سچے چہروں کی پہچان کرانے والا وہ دن اب تک کی میری زندگی پر سب سے بھاری ثابت ہوا ہے۔ اس بات کا مجھے دور تک تصور بھی نہ تھا۔‘

جولائی 2019 کی ایک معمول کی روشن صبح تھی۔ اشفاق لغاری حسب معمول اپنی ڈیوٹی پر پہنچے۔ دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی وہ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟

’کیا یہ حادثہ تھا؟ یا میری قسمت کا لکھا تھا؟ یا ٹیکنالوجی کا کوئی منفی کمال؟ میرے احساسات، سمجھ بوجھ، مشاہدہ اور تجربہ ابھی تک اس کا اندازہ لگانے میں مکمل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔‘

ڈیوٹی پر پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر ان کی چند ایسی تصاویر جاری ہوئیں جن میں ان کو برہنہ اور غیراخلاقی حرکتیں کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ خبر ان تک ساتھی افسران نے پہنچائی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے کیمپس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

’کوئی شخص نگہت ہما کے نام سے فیس بک پرایک جعلی اکاؤنٹ چلا رہا تھا جس پر وہ میری تصاویر کو ترمیم کرکے مختلف شکلیں بنا کر پوسٹ کر چکا تھا۔ ان تصاویر میں کہیں میرا چہرا کاٹ کر کسی لڑکی (ماڈل) کے چہرے پر چپکایا گیا تھا یعنی مجھے لڑکی بنایا گیا، کہیں بچارے بے زبان کتوں کو میری تصاویر کے ساتھ بٹھا کر گالیاں پوسٹ کی گئیں۔‘

یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک چلتارہا جس نے اشفاق لغاری کو بوکھلا کر رکھ دیا۔

’کہیں میری مختلف تصاویر گالیوں بھرے جملوں کے ساتھ پوسٹ کی گئیں۔ وہ تمام تصاویر میری فرینڈس لسٹ میں موجود اکثر دوستوں کو ٹیگ بھی کی جاتی رہی۔‘

اسی طرح یہ تصاویر یونیورسٹی کیمپس سے باہر اشفاق لغاری کے نجی حلقوں تک بھی پہینچنے لگیں۔

اشفاق لغاری سندھ کی اکثریت آبادی کی طرح سیاسی معاملات میں نہ صرف دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ محفلوں اورسماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔

چوں کہ سوشل میڈیا نے حالیہ سالوں میں عوام کودرپیش سماجی، معاشی اور دیگر مسائل کا کھل کر اظہار کرنے کے لیے ایک ’آزادانہ‘ پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔

لہٰذا حکومت اور ریاستی اداروں پر نکتہ چینی کو محدود کرنے کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور اکثر صارفین کے یا تو اکاونٹس بلاک کر دیئے جاتے ہیں یا ان کو’آن لائن ٹرولنگ‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حیرت انگیزامریہ ہے کہ آن لائن حراسانی سے بچنے کے لیے حکومت کی طرف سے عوام کوشعوردینے کے لیے اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

پہلے پہل اشفاق لغاری یہ سمجھے کہ ان کے خلاف انٹرنیٹ پرچلنے والی یہ غیراخلاقی مہم کی وجہ ان کے سیاسی نظریات ہوسکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وطن عزیز میں زبان بندی ہر دور میں نیا جنم لے کر آتی رہی ہے اور میں اپنی روح اور ضمیر سے آزادی اظہار کے تحفظ کی جنگ لڑنے والا رہا ہوں۔ لیکن دل سے کہتا ہوں کہ نفرت کا اظہار کرنے کے لیے بنائی گئی میری مختلف تصاویر بنانے اور بانٹنے سے زیاہ مجھے تجسس یہ تھی کے آخر مسلسل اتنا یاد کرنے والا / والی یہ نامہربان ہے کون؟‘

دیگراساتذہ کی تذلیل

لیکن جلد یہ معاملہ انفرادی تذلیل سے بھی آگے جا نکلا اور تدریس جیسے معزز پیشے سے وابستہ جامعہ کے دیگر افسران بھی اس منفی مہم کی لپیٹ میں آگئے۔

ان میں جامعہ کے اس وقت کے وائس چانسلر (ڈاکٹر اسلم عقیلی) بھی شامل تھے۔

جب نامعلوم دشمن کی طرف سے اخلاقیات کی تمام حدیں پار ہوگئیں تو اشفاق لغاری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سینٹر میں ایک درخواست دائر کی۔

اب انہیں انٹرنیٹ پر جاری اپنی تذلیل کے ساتھ ساتھ تفتیش کے مکمل ہونے کا انتظار بے صبری سے کرنا پڑ رہا تھا۔

کیوں کہ وہ کہتے ہیں کہ ’اس دوران درخواست میں درج کردہ فیس بک اکاؤنٹ اور پیجز پر طوفان بدتمیزی جاری تھا۔ ادارے (مہران یونیورسٹی) کی ممتاز شخصیات اور فیصلہ ساز فورمز کے فیصلوں کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ کبھی کسی کی تصویر گالیوں اور الزامات کے ساتھ پوسٹ ہو رہی تھی تو کبھی کسی کی۔ پورے ادارے میں قیاس کا ماحول تھا۔‘

’ایف آئی اے والوں نے کہا کہ (معاملہ) رازداری میں رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا دفتر تو کیا گھر میں بہن بھائی، امی ابو اور بیگم تک کسی کو شکایت کے بارے میں پتا نہ چلے۔ ایسے جرائم میں بہنوں کے بھائیوں، بھائیوں کے بہنوں، بیگمات کے شوہروں اور شوہروں کے سابقہ بیگمات کے خلاف بھی کیسز رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ بات نکلی تو جرائم کرنے والا / والی شواہد گم کر دے گا، کرائم سین مٹا دے گا وغیرہ۔‘

یہ جاننے کے لیے کہ گذشتہ سال ملک بھر میں آن لائن ہراسانی سے متعلق کتنی شکایات سامنے آئیں ہم نے ایف آئی اے سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش لیکن کوئی جواب نہ مل سکا۔

تاہم ایک غیرسرکاری ادارے، ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کے مطابق ان کی ہیلپ لائن کوگذشتہ سال چار ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں،جن میں 1600کے قریب ذاتی نوعیت کی تصاویر کے غیرمجاز استعمال سے متعلق تھیں۔

اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر 30 فیصد شکایات مرد حضرات نے درج کرائیں جنہیں آن لائن ہراسانی کاشکار بنایا گیا۔

تفتیش کے چند ہفتوں بعداگرچہ اشفاق لغاری کا انتظار تو ختم ہوگیا لیکن ساتھ ہی ان پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی اے افسران نے دو افراد کو اس واردات میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا، جن میں مہران یونیورسٹی کے اس وقت ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرنے والے کاشف درس بھی شامل تھے بلکہ مرکزی ملزم تھے۔

تفتیش کے دوران کاشف درس نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ ملازمتی معاملات کی بنا پر وہ اشفاق لغاری سے بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے سافٹ ویئر کے ذریعے ان کی تصاویر کو ساتھی افسران کی تصاویر کے ساتھ کچھ اس انداز میں جوڑا کہ گویا وہ آپس میں غیراخلاقی حرکات کر رہے ہیں۔

’ایک کم شناسائی والے اپنے ساتھی افسر کے حیرت انگیز طور پر دو مختلف چہرے دیکھے۔ ایک ہی دن میں پہلے وہ مجھے یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کی عمارت میں لگے ایک دراز قد مگرانتہائی خوبصورت ٹرمیلا کے درخت کی چھاؤں تلے بڑے پیار سے ملا جبکہ ہماری دوسری ملاقات سائبر سپیس پر ہوئی جہاں وہ مجھ سے شدید نفرت کا اظہار کرنے کے لیے میری تصاویر کو کسی سافٹ ویئر کی مدد سے برہنہ دکھا کر فیس بک پر پھیلا رہا تھا۔‘

’زندگی تضحیک کی نظرہو گئی‘

لغاری بتاتے ہیں کہ ایک طرف کیس چل رہا تھا اور دوسری طرف ان کی نجی زندگی تضحیک کا شکار ہو کر رہ گئی تھی۔

’کوئی کہتا فلاں تصویر تو بہت اچھی بنائی ہے، اس میں کتنے پیارے لگ رہے ہو، حقیقت میں تو اتنے خوبصورت نہیں۔ کوئی پوچھتا باجی(نگہت ہما فیس بک اکائونٹ) کیسا ہے؟ کوئی تصاویر پر لکھے گئے گالیوں والے کیپشنس یاد دلاتا، اس طرح میں تبصروں کے زد میں تھا۔‘

اشفاق بتاتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہیں اوران کے دو بچے ہیں۔

’دوستوں کی کالز آتی تو وہ میرا مذاق اڑاتے ہوئے اورگھر میں میری بیگم بھی یہ سن رہی ہوتی تھی۔ انہوں نے خود بھی یہ تصاویر دیکھی تھی فیس بک پر۔ وہ کچھ گھبرا سی گئی تھیں۔‘

لغاری نے مزید بتایا کہ ’ایک دن بیگم کہنے لگیں تمہیں کہتی ہوں لکھنا بند کرو تمہارے خیالات کی وجہ سے ہوگا یہ سب۔ دشمنیاں مت پالو۔ میری بیگم بہت پریشان تھی ان کا اندازہ تھا کہ میں اخبارات وغیرہ میں لکھتا ہوں شاید اس وجہ سے یہ ہو رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ گھر کا سارا ماحول آہستہ آہستہ ’نگہت ہما نامی جعلی فیس بک اکائونٹ‘ سے چلنے والی منفی مہم کی نظر ہو کر رہ گیا تھا۔

’بیگم نے کہا لکھنا چھوڑ دو، اپنا منہ بند رکھو، اس ملک میں بولنے اور لکھنے کی بڑی قیمت ہے تم کیوں نہیں مانتے۔ مان جاؤ۔ میں ان کو کہتا میرے پڑھنے لکھنے سے اس سب کا کیا تعلق تو وہ کہتی نہیں اس کی وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب۔‘

پانچ جنوری کو کراچی کی ایک عدالت نے جرم ثابت ہونے پر کاشف درس کو مجموعی طور پر پانچ سال قید اور ایک لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

اگرچہ اشفاق لغاری کو انصاف تو مل گیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پیشہ ورانہ حسد کی خاطر ان کی نجی اور معاشرتی زندگی پر ایسے داغ باقی چھوڑے ہیں جو سالوں تک شاید دھل نہ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی