پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، ڈالر بھی بڑھ گیا 

پیر کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کا ریٹ انٹر بینک میں 178 روپے سے تجاوز کرگیا۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کی صبح کو 100 انڈیکس میں 1500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جو بعد میں 1300 پوائنٹس پر ٹریڈنگ کررہی تھی (تصویرانڈپینڈنٹ اردو)

روس کے یوکرین پر حملے کے جہاں عالمی معیشت پر اثرات سے کاروباری ہفتے کے پہلے دن سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان رہا، وہیں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس میں 1500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب خام تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر افراط زر مزید بلند ہونے کی پیش گوئی کی گئی جبکہ پیر کی صبح پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کا ریٹ بھی انٹربینک میں 178روپے سے تجاوز کرگیا۔ 

گذشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 177 روپے 50 پیسے تھی۔

تاہم دوسرے ہفتے کے آغاز پر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھتی دیکھی گئی اور ڈالر کی قدر 60 پیسے اضافے کے بعد 178 کی حد تجاور کر گئی، جس کے بعد ڈالر 178 روپے 10 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کی صبح 100 انڈیکس میں 1500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جو بعد میں 1300 پوائنٹس پر ٹریڈنگ کر رہی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ظفر پراچہ نے بتایا: ’سٹاک ایکسچینج کے کاروبار اور ڈالر کے ریٹ میں منفی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔‘

’روس اور یوکرین جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں عالمی بحران کے باعث ڈالر کی پاکستانی روپے کے مقابلے میں بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان میں سیاسی بحران اور تحریک عدم اعتماد کی افواہوں کے باعث سٹاک ایکسچینج پر منفی اثرات ہو رہے ہیں'۔

ظفر پراچہ کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے عالمی بحران کی وجہ سے پاکستان کا برآمد اور درآمد پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے بھی سٹاک ایکسچینج پر منفی اثرات ہوئے، اس لیے مارکیٹ شدید ڈپریشن کا شکار ہے اور جو مستقبل قریب میں بھی جاری رہے گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ان سے پوچھا گیا کہ آنے والے دنوں میں سٹاک ایکسچینج کی کیا صورتحال رہے گی تو ان کا کہنا تھا: 'عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر سٹاک مارکیٹ گر گئی تو ملک کو نقصان اور مارکیٹ کے چڑھنے پر فائدہ ہوتا ہے۔

’مگر یہ تو سٹاک کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کی کارکردگی کا پیمانہ ہے۔ ایک دن مارکیٹ کے گرنے یا اوپر چڑھنے سے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا جب تک کہ ایک رجحان کم از کم ایک سال جاری نہ رہے۔‘ 

’سب کو پتہ ہے کچھ مخصوص ٹریڈر مل کر مارکیٹ کو گرا بھی سکتے ہیں اور چڑھا بھی سکتے ہیں تو اس مستقبل قریب کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔‘ 

دوسری جانب پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ سمیع اللہ طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عاملی مارکیٹ میں تیل، پام آئل، کوئلے، گندم سمیت کئی اشیا کی قیمت بڑھنے سے افراط زر ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سٹاک ایکسچینج اور ڈالر بھی ہوئے۔

’مستقبل قریب میں پاکستان سٹاک ایکسچینج اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالی کی صورتحال کا انحصار عالمی سورتحال پر ہے۔ ویسے کچھ عرصے تک تو موجودہ صورتحال جاری رہنے کا امکان ہے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت