حمزہ شہباز کی کارکردگی کا موازنہ بزدار یا شہباز شریف سے؟

حمزہ شہباز کے والد اور پارٹی کے صدر شہباز شریف اس سے پہلے پنجاب میں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ حمزہ شہباز کی کارکردگی کیسی رہے گی۔

تین مئی 2022 کو وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبار لاہور میں چلڈرنز ہسپتال میں بچوں سے عید مل رہے ہیں (حمزہ شہباز ٹوئٹر اکاؤنٹ)

حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی حلقے ان کا موازنہ  ماضی کے دیگر وزرائے اعلیٰ سے کر رہے ہیں۔

47 سالہ حمزہ کے والد اور پارٹی کے صدر شہباز شریف اس سے پہلے پنجاب میں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور اب سوال اٹھ رہے ہیں کہ حمزہ کی کارکردگی کیسی رہے گی۔

اس حوالے سے ن لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری پنجاب عطا تارڑ کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز ایک مختلف وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ ارود کو بتایا کہ اس کم وقت میں ان کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف دینا شامل ہے۔

’وہ چاہے آٹا اور چینی کی قیمتیں کم کرنے کی صورت میں ہو، ہسپتالوں میں صحت کی بہتر سہولیات ہوں، مہنگائی کو کنٹرول کرنا، صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنا ہو یہ سب ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔‘ 

عطا کہتے ہیں کہ بہاولپور میں ایک ہسپتال کے ایم ایس کو اس لیے معطل کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ نے وہاں اچانک دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ ہسپتال کا کوئی پرسان حال نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کبھی کوئی اچانک دورہ نہیں کیا تھا۔

البتہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کے والد شہباز شریف بھی ماضی میں روزانہ کی بنیاد پر سرکاری دفاتر کے ’اچانک دورے‘ کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس تو عثمان بزدار نے اپنے دفتر کا بھی ’اچانک دورہ‘ کر ڈالا جس کے دوران انہوں نے افسروں اور سٹاف کی حاضری چیک کی تھی۔

عطا کے مطابق حمزہ شہباز ایک فرق لانا چاہتے ہیں اور عام آدمی کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں، وہ کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے، اور ان کا انسانی پہلو بہت مضبوط ہے۔ 

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور پنجاب حکومت کے سابق ترجمان حسان خاور کا خیال عطا تارڑ سے مختلف ہے۔ 

حسان خاور کا کہنا ہے کہ ’حمزہ بےشک وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں لیکن صوبے کو شہباز شریف ہی چلانے کی کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’جو ٹیم وہ موبلائز کر رہے ہیں، جس طرح کے اجلاس کر رہے ہیں لگ یہی رہا ہے کہ شہباز صاحب چاہتے ہیں کہ وہ وفاق سے بیٹھ کر صوبے کو چلائیں اور جس حد تک ہو سکتا ہے اپنا کنٹرول رکھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایسے ممکن ہو سکے گا۔ ’حمزہ کے لیے کئی چیلنجز ہیں۔ ادھر ادھر جا کر لوگوں کو معطل کرنا، عوام یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘

حسان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی اتنے برس صوبے میں ن لیگ کی حکومت رہی لیکن کوئی ایک کام کا سکول یا تھانہ نہیں بنایا۔ عوام کو عمل چاہیے۔

’ان پر کارکردگی کا دباؤ بہت زیادہ ہو گا۔ انہیں کاسمیٹکس سے آگے جانا ہو گا۔ دوسرا ان پر احتساب کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ شفافیت کا دباؤ بھی بہت زیادہ ہو گا۔‘

حسان خاور مزید کہتے ہیں: ’لاہور کے اندر ان کی زمینوں کے معاملات اور تعلق بھی رہے ہیں تو میرے خیال میں یہ بھی ایک سایہ ساتھ چلے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ چونکہ یہ حکومت اتحادیوں کو ساتھ ملا کر بنی ہے تو ان کا دباؤ بھی زیادہ ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان پیپلز پارٹی بھی چاہے گی کہ ان کو زیادہ سے زیادہ حصہ ملے اس لیے یہ حکومت سمجھوتے کی ہو گی اور زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔‘

2018 کے عام انتخابات میں حمزہ قومی اور صوبائی دونوں اسمبلیوں سے کامیاب ہوئے تھے لیکن پارٹی کے فیصلے پر انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن کر انہوں نے سیاسی داؤ پیچ بخوبی سیکھے اور انہیں استعمال کرنے کے ہنر سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے چچا اور والد کی طرح صبر تحمل کی سیاست اپناتے ہیں تو انہیں کافی پزیرائی مل سکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہا: ’حمزہ سابق وزیر اعظم کے بھتیجے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے اور ایک سیاسی پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف نمائندگی کر چکے ہیں۔ آپ کی سیاست اور نظریہ تو آپ کے جینز میں ہوتا ہے۔ یہ صلاحتیں خداداد ہوتی ہیں۔‘

’اگر ہم عثمان بزدار کو دیکھیں تو وہ تحصیل ناظم تھے اور عمران خان اور کی بدولت جب انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی ملی تو انہوں نے بھی تو تقریباً چار سال صوبہ چلا لیا۔

’میں سمجھتا ہوں کہ حمزہ شہباز عثمان بزدار سے بہتر کارکردگی دکھائیں گے کیونکہ وہ ان کے متبادل ہیں۔ عثمان بزدار شہباز شریف کے متبادل تھے تو عوام نے وہ برداشت کر لیا تو میرے خیال سے حمزہ برے متبادل نہیں ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو نے جب حسن مرتضیٰ سے پوچھا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیں گے تو انہوں نے پوری امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پوری توقع ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن جتنی مشکلات سے گزری ہے انہیں اپنا آپ بھی بدلنا ہو گا۔ ساتھ ساتھ انہیں اپنی سیاست کو بھی بدلنا ہوگا۔‘

صحافی محمل سرفراز نے حمزہ شہباز کی ممکنہ کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ کا مقابلہ اس وقت سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے والد شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔

’جو لوگ ان کے ساتھ کام کرتے ہیں ان کے مطابق حمزہ شہباز نے اپنے والد شہباز شریف اور تایا نواز شریف سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پارٹی منظم کرنے کا بھی تجربہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت گرائی تھی تو اس کے بعد حمزہ شہباز نے ہی پاکستان میں مسلم لیگ ن کو کافی حد تک سنبھالا تھا۔ اس لیے ان کی توجہ پارٹی کو منظم رکھنے پر پہلے بھی تھی اور اب بھی ہوگی۔‘

محمل کے خیال میں حمزہ شہباز کی دو تین چیزیں ہیں جو ان کے والد سے مختلف ہیں۔ ’ہر نوجوان لیڈر اپنے والدین کی سیاست سے تھوڑا سا فرق ضرور رکھتا ہے۔ وہ بےشک بلاول بھٹو ہوں یا مریم نواز ہم نے دیکھا ہے کہ ان کی جماعت کی بنیادی اقدار تو وہی ہوتی ہیں لیکن ان کی اپنی طرز سیاست تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔‘ 

بقول محمل حمزہ شہباز کے بارے میں ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ حمزہ مشاورت پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں، اپنی ٹیم اور لوگوں کے ساتھ مشورے کرتے ہیں اور چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’حمزہ کو بیوروکریسی کا پہلے بھی تجربہ ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ بیوروکریسی سے کام کیسے کروانے ہیں۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق حمزہ شریف کیسے منتظم ثابت ہوتے ہیں اس کا فیصلہ  آخر میں ان کی کارکردگی ہی کرے گی۔ اس میں ان کا سیاسی خاندانی پس منظر فائدے کے علاوہ نقصان بھی دے سکتا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست