سوات: روایتی ڈھابے کی شوملے اور جنگلی ساگ کی دھوم

مینگورہ شہر میں واقع ڈھابے کے مالک ناصر خان نے بتایا کہ ان کے روایتی ڈھابے کو دیکھنے اور کھانا کھانے کے لیے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔

مینگورہ کے اس ڈھابے پر خالص دہی اور مکھن کی شوملے (پتلی لسی) پیش کی جاتی ہے(تصویر: شہزاد نوید)

وادی سوات کے شہر مینگورہ میں واقع ایک روایتی ڈھابے کی شوملے (پتلی لسی)، جنگلی ساگ، چولستانی کڑاہی اور لاہوری چنے کی دھوم ہے، جنہیں لوگ شوق سے کھانے آتے ہیں۔

اس ڈھابے میں تمام کھانے مٹی کے برتنوں میں پیش کیے جاتے ہیں اور ساتھ میں خالص دہی اور مکھن کی شوملے بھی پیش کی جاتی ہے۔

ڈھابے پر پانچ قسم کا جنگلی ساگ، چولستانی چکن کڑاہی اور لاہوری چنوں کو سواتی طرز پر تیار کیا جاتا ہے۔

ڈھابے کے مالک ناصر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روایتی ڈھابے کو دیکھنے اور کھانا کھانے کے لیے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’روایتی کھانوں کو مٹی کے برتنوں میں پیش کرنا میرا شوق تھا اور میں نے کاروبار یا پیسوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے روایتی کھانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے یہ کام شروع کیا لیکن لوگوں کا رش دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ ان روایات کو زندہ رکھنے کے لیے اب میں اکیلا نہیں رہا۔‘

ناصر خان نے مزید بتایا کہ یہاں پر زیادہ تر لوگ جنگلی ساگ اور شوملے پینے کے لیے آتے ہیں۔ جنگلی ساگ وہ تین، چار لوگوں سے کہہ کر منگواتے ہیں اور پھر اسے پکاتے ہیں۔

انہوں نے شوملے کی افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ ’گرمی کے موسم میں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہوتی ہے تو شوملے پینے سے اس کمی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم کو ٹھنڈک اور تازگی فراہم کرکے گرمی کے اثرات کو ختم کرتا ہے۔‘

طبی ماہرین کے مطابق: ’جنگلی ساگ اور شوملے میں الیکٹرولائٹ موجود ہوتے ہیں جو جسم سے پانی کے اخراج کو روکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو بھی کم کرتے ہیں، جس سے گرمی کے اثرات میں کمی واقع ہوتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا