حکومت کے ہاتھوں سے وقت نکلا جا رہا ہے

شہباز شریف کے لیے چیلنج اس وقت صرف معیشت سنبھالنا نہیں بلکہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ بھی دینا ہے جس میں اب تک ان کے ترجمان ناکام نظر آئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف 13 اپریل 2022 کو کراچی میں اپنے دورے کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں اور نئی بننے والی حکومت کے اتحادیوں سے ملاقات کے بعد روانہ ہو رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی اتحادی حکومت کو ایک ہی ماہ ہوا ہے لیکن فیصلہ سازی کے فقدان اور بگڑتی ہوئی معیشت سے یہ تاثر تیزی سے قائم ہو رہا ہے کہ ن لیگ ناگزیر سخت فیصلے کرنے سے گھبرا رہی ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سے تفصیلی انٹرویوز میں بار بار بذات خود یہ استفسار کر چکا ہوں کہ موجودہ معاشی حالات میں آپ حکومت کرنے اور سخت فیصلے کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہاں تو آپ کے پاس منصوبہ کیا ہے؟

جواب یہی ملا کہ فی الحال ہماری توجہ عمران خان کو گھر بھجوانے پر مرکوز ہے لیکن ہم ساتھ مل کر نہ صرف اچھی گورننس کی مثالیں قائم کریں گے بلکہ ہم پاکستان کو گمبھیر مسائل سے نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن ایک ماہ گزر چکا ہے اور ابھی تک اتحادی حکومت اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائی کہ حکومت کتنا عرصہ چلانی ہے اور عمران خان کی جانب سے دی گئی پیٹرول سبسڈی ختم کرنے کا غیرمقبول لیکن ناگزیر فیصلہ کرنا ہے یا نہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ دوست ممالک سعودی عرب اور یواے ای تب تک معاشی مدد نہیں کریں گے جب تک ہمارے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہ پا جائیں۔

دوسری جانب سیاسی عدم استحکام دیمک کی طرح معیشت کو چاٹ رہا ہے۔ تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر انہی حالات کی وجہ سے گر رہی ہے، لیکن فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ جوں کی توں موجود ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم وفاقی وزرا کی تین دن لندن میں نواز شریف کی سربراہی میں بیٹھک ہوئی اور توقع کی جا رہی تھی کہ وطن واپسی پر وزیراعظم شہباز شریف فوری طور پر حکومت کی مدت اور پیٹرولیم سبسڈی سے متعلق ابہام ختم کر دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

بلکہ ان کی واپسی پر اس وقت نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ کیوں نہ اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ ن لیگ یہی چاہتی ہے لیکن بعض اتحادی جماعتیں فوری انتخابات کے حق میں نہیں۔ یہ تمام صورت حال معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ن لیگ کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کو سنبھالنے اور سخت فیصلے کیے بغیر انتخابات میں جانا حکومت کرنے میں ناکامی کے بعد راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہوگا۔

پی ٹی آئی حکومت نے عدم اعتماد سے پہلے پیٹرولیم سبسڈی دی تھی اور ن لیگ سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو معلوم تھا کہ حکومت میں آتے ہی پہلا کام سبسڈی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ اگر آپ ایسے فیصلوں کے لیے تیار نہیں تھے تو پھر حکومت بنانے کا فیصلہ ہی کیوں کیا؟

عدم اعتماد کے فوراً بعد ہی انتخابات کا اعلان کیا جا سکتا تھا۔ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ اس وقت ملکی معیشت واقعی وینٹی لیٹر پر ہے، اگر اس کی حالت مزید بگڑتی ہے تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہی عائد کی جائے گی۔

حکومت وقت کو تیل پر فوراً سبسڈی ختم کر کے آئی ایم ایف پروگرام میں جانا چاہیے تاکہ مارکیٹ میں اعتماد واپس آئے۔ روپے کو سہارا مل سکے اور بجٹ پیش کیا جائے۔ اس کے بعد بے شک انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔

لیکن موجودہ حالات میں فوری انتخابات کا اعلان سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔

شہباز شریف کے لیے چیلنج اس وقت صرف معیشت سنبھالنا نہیں بلکہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ بھی دینا ہے جس میں اب تک ان کے ترجمان ناکام نظر آئے ہیں۔

عمران خان کا نام نہاد امریکی سازش کا بیانیہ درست ہے یا غلط اس سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ نہ صرف بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں بلکہ عوام میں ان کا بیانیہ جڑیں پکڑ رہا ہے۔

اس وقت حکومتی جماعتوں کی قیادت میں کسی نے عمران خان کو سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے تو وہ مریم نواز ہیں۔ عمران خان مسلسل اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔ اگرچہ فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے ادارے کا پروفیشنل انداز میں دفاع تو کیا ہے لیکن یہ کام حکومت وقت کا ہے، جو ابھی تک عمران خان کے مقابلے میں کوئی بیانیہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔

اگر اتحادی حکومت اسی طرح سخت اور ناگزیر فیصلے کرنے سے گھبراتی رہی تو عمران خان کو کسی اور بیانیے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ تحریک انصاف اتحادی حکومت کی معیشت سنبھالنے میں ناکامی کی ذمہ داری بھی اسٹیبلشمنٹ پر یہ کہہ کر ڈالے گی کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کا نقصان ملکی معیشت کو پہنچا۔

اس وقت شہباز شریف کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ان کا ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہونے کے تاثر کو قائم رکھنا ہے۔ ان کی طرز حکمرانی کی پنجاب میں مثالیں دی جاتی ہیں، لیکن یہ چند ہفتوں میں اندازہ ہو جائے گا کہ کیا وہ اسلام آباد میں اپنی حکمرانی کی دھاک بٹھا پائیں گے۔

اگر وہ اس تاثر کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ابہام سے نکل کر انہیں فوری سخت فیصلے کرنے پڑیں گے جس کی یقینی طور پر ان کی جماعت کو سیاسی قیمت تو چکانی پڑے گی، لیکن اگر وہ ان مشکل حالات میں ڈیلیور کرگئے تو یہ ان کے سیاسی کریئر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

دن میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے اور حکومتی منصوبہ بندی کے ماہر شہباز شریف میں یقیناً ڈیلیور کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن انہیں پہلے اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات کا جلد جواب دینا ہوگا۔ حالات یقینا ان کے پنجاب میں حکمرانی والے نہیں ہیں یہاں ان کے ہاتھ کچھ بندھے بھی ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ