پاکستان: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے کا اضافہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30، 30 روپے بڑھا دیے گئے ہیں۔

27 مئی 2022 کی اس تصویر میں کراچی میں پیٹرول سٹیشن پر کام کرنے والا اہلکار گاڑی میں پیٹرول بھر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30، 30 روپے بڑھا دیے گئے ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔

اس اعلان کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 209 روپے 86 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد نئی قیمت 204 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ان نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے یعنی تین جون سے ہوگا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے عرصے میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے 26 مئی کو بھی وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 30 روپے اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود کافی نقصان ہورہا تھا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہے کیونکہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کی وجہ سے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب جمعرات کو ہی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں بھی فی یونٹ 7.91 روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

نیپرا نے ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی کے لیے ٹیرف کا تعین کیا اور مختلف سطح کے ٹی اینڈ ڈی لاسز کی منظوری دے دی۔

’چین سے 2.3 ارب ڈالر کی ری فنانس کا معاہدہ‘

اس سے قبل وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ پاکستان کا چینی بینکوں کے ساتھ تقریباً 2.3 ارب ڈالر کی ری فنانس کرنے کے لیے شرائط و ضوابط پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

پاکستان کو اس وقت ایک بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے اور بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث اسلام آباد کو بیرونی فنانسنگ کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کی ماضی میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک نے مالی طور پر مدد کی جنہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں اربوں ڈالر جمع کرائے تھے۔

حکومت نے حال ہی میں چین کو تقریباً 2.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کی حالانکہ بعد میں اس نے اپنے رول اوور کا مطالبہ کیا کیونکہ ملک میں معاشی بحران نے طول پکڑ لیا ہے۔

وزیر خزانہ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’چینی بینکوں کی طرف سے تقریباً 2.3 ارب ڈالر کی ری فنانسنگ کے لیے شرائط و ضوابط پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں اطراف سے کچھ معمول کی منظوریوں کے بعد جلد ہی یہ رقم پاکستانی بینک منتقل ہونے کی متوقع ہے جس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت