فلمی صنعت کو مراعات، بحالی کتنی دور ہے؟

پاکستان کی فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت کی جانب سے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں بروقت اور انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

23 اگست 2013 کی اس تصویر میں کراچی کے ایک سینیما گھر کے داخلی دروازے پر موجود فلم دیکھنے کے لیے پہنچنے والے ناظرین کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

حکومتِ پاکستان نے فلمی صنعت کی بحالی اور اس کو جدید خطوط پر لانے کے لیے حالیہ بجٹ میں خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کی فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت کی جانب سے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں بروقت اور انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

یادرہے کہ 2017 میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے فلمی صنعت سے وابستہ افراد سے طویل مشاورت کے بعد ایک پالیسی وضع کی تھی لیکن اس کے موثر ہونے سے پہلے ہی حکومت کی مدت ختم ہو گئی۔

گذشتہ حکومت نے فلم پالیسی کا جائزہ لینا کا اعلان تو متعدد بار کیا مگر عمل نہیں ہوا۔ تاہم اس مرتبہ بجٹ میں ہی حکومت نے ان اقدامات کا اعلان کردیا جن کے مطابق سینیما اور فلم بنانے کے لیے درکار آلات پر ہر قسم کے ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

پروڈیوسر اور ڈسٹریبیوٹرز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا گیا ہے اور انکم ٹیکس میں بھی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دنیا کی ثقافتی سکرین سے غائب رہا ہے اور دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتی ہے جہاں ہر وقت سیاسی افراتفری، دھرنے اور دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔‘

’پاکستان کا دنیا میں تاثر اچھا ہوگا تو لوگ یہاں سیاحت کے لیے بھی آئیں گے اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کریں گے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دیکھا جائے تو پاکستان کی کہانی دنیا کو معلوم ہی نہیں ہے، اور دنیا کو یہ بتانے کا ذریعہ فلم سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 40 سال سے پاکستانی سینیما غائب ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے سہارا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’ملٹی پلکس سینیما مہنگے ہوتے ہیں اور عام آدمی اس میں ٹکٹ نہیں خرید سکتا اس لیے نئے سینیما گھروں کی تعمیر ضروری ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد کو بھی تفریح کا موقع لے اور ملک کے وہ شہر جہاں سینیما ہے ہی نہیں وہاں سینیما بنیں۔‘

’فلم کو صنعت کا درجہ دینے سے اب بینک فلم سازوں کو قرضہ دے سکتے ہیں، بڑے اداروں کو فلم سازی کے لیے سی ایس آر کے تحت ٹیکس میں چھوٹ سے فلم سازی کا رجحان بڑھے گا اور سرمایہ کار اس جانب اپنا پیسہ منتقل کریں گے، مزید یہ کہ جو عالمی فلم ساز اپنی 70 فیصد فلم پاکستان میں بنائے گا اسے ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ فن کاروں کے لیے ہیلتھ انشورنس بھی شروع کی جارہی ہے تاکہ فنکار کسی مشکل کا شکار نا ہوں۔

اس ضمن میں انڈپینڈنٹ اردو نے فلمی صنعت سے وابستہ افراد سے رابطہ کرکے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی۔

ایٹریم سینیماز کے مالک ندیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات بہت خوش آئند ہیں، تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ تمام تجاویز 2017 کی ہیں جنہیں 2018 میں منظور ہونا تھا، اس وقت جب سینیما میں رونق تھی اور بالی وڈ کی فلمیں پاکستان میں لگ رہی تھیں۔‘

ان کے مطابق ’اب کرونا کے دوران دو سال سینیما بند رہے ہیں اور اس دوران سینیما گھروں پر بےتحاشہ قرضہ چڑھ چکا ہے، اس لیے نئے سینیما کی تعمیر میں فوری طور پر پیش رفت نہیں ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سینیما کو فلم چاہیے ہوتی ہے اور پاکستانی میں صرف پاکستانی، ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلمیں ہی چلتی ہیں۔ سال 2019 سے پہلے ہم سال میں 90 بالی وڈ فلمیں منگواتے تھے، اب ان کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زیادہ فلمیں بنانا ضروری ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان تجاویز میں سب سے اہم آٹھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنا ہے۔‘

اان کے مطابق ’پہلے جب سینیما والا ڈسٹری بیوٹر کو پیسے دیتا تھا تو آٹھ فیصد ٹیکس کاٹتا تھا، پھر جب ڈسٹری بیوٹر فلم پروڈیوسر کو پیسے دیتا تھا تو وہ کہیں 8 یا کہیں 10 فیصد ٹیکس کاٹ لیتا تھا جس سے پروڈیوسر بہت مشکل میں ریتا تھا۔ یہ دوہرا ٹیکس تھا جسے ختم کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کرونا کہ وجہ سے دنیا بھر میں سینیما کی صنعت کو شدید نقصان ہوا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے ان کی مدد کی ورنہ بہت سے سینیما بند ہوجاتے۔

اے آر وائے فلمز کے سربراہ عرفان ملک نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’پانچ سال سے جاری کوششوں کا نتیجہ نکلا ہے کیونکہ کوویڈ کے بعد فلم اور سینیما کو مدد کی ضرورت تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان ملک کا کہنا تھا کہ ’ان تمام اچھے اقدامات کے باوجود یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ اس کے نتائج دو سے پانچ سالوں میں نظر آنا شروع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پروڈیوسر فلم بنا رہا ہوتا ہے تو اس پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے، اسے ختم کیا گیا ہے اور آٹھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے ساتھ یہ 18 فیصد کی بچت ہے جس سے پروڈیوسر کو فائدہ ہوگا اور فلم سازی کو تقویت ملے گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس میں چھوٹ بہت اچھا ہے لیکن ضرورت ہے کہ قومی فلم ورثہ کی تشکیل کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں آج کا کام دیکھ سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈسٹری بیوٹر کی حیثیت سے بھی ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ اہم ہے، کیوں چند درجن سینیما گھروں میں فلم لگانا اور ان سے پیسے کمانا مشکل ترین کام ہے، دیکھا جائے تو فی سینیما پاکستان کا بزنس دنیا میں سب سے زیادہ ہے، لیکن اب ضرورت ہے کہ نئے سینیما مزید شہروں میں تعمیر ہوں۔‘

عرفان ملک کے مطابق ’جب حکومت اس کام کو عزت دے گی تو شہری بھی اس کام کو عزت دیں گے، لوگ اپنے بچوں کو فلم پڑھائیں گے اور فلمیں بنائیں گےاس طرح یہ کام ترقی کرے گا، پاکستان کی مایہ ناز فلم ساز، پروڈیوسر فضہ علی میرزا نے اس بارے میں کہا کہ ’سب سے اہم یہ ہے کہ فلم سازی کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے، جو بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ کئی سالوں سے یہ تعطل کا شکار تھی۔‘

’اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اب فلم بنانے کا عمل نسبتاً آسان ہوجائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو اس بارے میں سراہا جانا چاہیے۔‘

فلم سازی کے لیے حکومت کی مالی معاونت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین فلم سازوں کے علاوہ وہ لوگ جو پہلی بار فلم بنا رہے ہیں انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

فضہ علی میرزا کا کہنا تھا کہ ’دیکھا جائے تو یہ فلم اور ڈراما انڈسٹری کا بِل ہے کیونکہ ڈرامے بنانے والوں کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔‘

ان کے مطابق ’اب ضرورت ہے کہ حکومت یہ بتائے کہ اس بِل کے ذریعے جو مراعات دی گئی ہیں ان سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، کیونکہ بہت سے افراد جانتے ہی نہیں کے طریقہ کار کیا ہے۔‘

پاکستان کو کئی کامیاب فلمیں دینے والے ہدایت کار نبیل قریشی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حکومت کو ان اقدامات پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ فلم سازی سے متعلق جن جدید آلات کی درآمد پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے وہ خوش آئند ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ اعلان تو ہوجاتا ہے مگر کسٹمز اور ایف بی آر کو اس بارے میں ہدایات نہیں دی جاتیں، اور اگر کوئی ایسا سامان لے کر آجاتا ہے تو اسے روک لیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ احکامات جاری ہوں اور اس میں مزید سال چھ ماہ برباد نہیں کیے جائیں۔

نبیل قریشی کا کہنا تھا کہ ’فلم بنانے کے دوران جو ٹیکس کٹتا تھا وہ پیسہ اب فلم پر لگایا جاسکتا ہے جس سے فلم سازی کا معیار بہت بہتر ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم