پنجاب: ریپ کے خلاف ایمرجنسی، کیا اقدامات ہوں گے؟

صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے بتایا:’حکومت ان کیسز کو جلد نمٹانے کے لیے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر ڈی این اے کے نمونوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرے گی اور دو ہفتوں میں ایسا نظام لائے گی جس سے ان واقعات میں کمی آئے گی۔‘

 18 ستمبر 2020 کی اس تصویر میں لاہور موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے کے خلاف کراچی میں ایک احتجاج کے دوران ایک خاتون نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

رواں ماہ پنجاب میں ریپ کے واقعات سامنے آنے کے بعد صوبائی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں حکومت جنسی ہراسانی، زیادتی اور جبر کے کیسز سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

پہلا واقعہ جون کے پہلے ہفتے میں پیش آیا، جہاں پانچ مسلح افراد نے جہلم میں ایک حاملہ خاتون کا ریپ کیا اور پھر اسی ہفتے رحیم یار خان میں ایک حاملہ خاتون کو ان کے قریبی رشتے دار نے جنسی استحصال کا شکار بنایا۔

جون کے ہی مہینے میں اٹک میں ایک دس سالہ بچی کو مبینہ طور پر ایک قاری نے ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا، جس کی لاش پولیس نے قبرستان سے برآمد کی۔

صوبے میں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر، پنجاب حکومت نے ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’ہم نے ایک سیشن کیا تھا جس میں وکلا، خواتین کے حقوق کی تنظیمیں، پولیس ڈپارٹمنٹ، ہوم ڈپارٹمنٹ، ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ، کچھ این جی اوز، سول سوسائٹی کے لوگ اور کچھ میڈیا پرسنز تھے، جس میں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ موجودہ قوانین پر عملدرآمد کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور نئے قوانین بنا کر پرانے قوانین میں ترامیم کیسے کی جائیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہم آگاہی مہم اور نصاب میں تبدیلی کا سوچ رہے ہیں۔ سائبر سیکسول کرائم کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی ری ہیبلٹیشن  کو بھی دیکھ رہے ہیں۔‘

مزید پڑھیے: 'ٹو فنگر ٹیسٹ ریپ کے بعد ایک اور ریپ تھا'

عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں روزانہ ریپ کے چار سے پانچ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پچھلے دو ماہ میں ایسے 700 کیس سامنے آئے جبکہ اس سے پچھلے دو ماہ میں 900 کیسز رپورٹ ہوئے، جس کی وجہ سے حکومت جنسی ہراسانی، زیادتی اور جبر کے کیسز سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس میں آگاہی بہت ضروری ہے اور پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ  کا بہت اہم کردار ہوگا کیونکہ بہت سے کیسز میں مصالحت ہو جاتی ہے اور مجرم چھوٹ جاتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسز ریاست پراسیکیوٹ کرے اور پراسیکیوشن کے لیے ایک الگ ٹیم بنائی جائے جو صرف جنسی زیادتی کے جرائم کو دیکھے۔ ہم جنسی زیادتی کے بڑھتے کیسز کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنے جارہے ہیں اور باقاعدہ ایمرجنسی کے نفاذ کا بہت جلد اعلان کر دیا جائے گا۔‘

بقول صوبائی وزیر: ’حکومت ان کیسز کو جلد نمٹانے کے لیے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر ڈی این اے کے نمونوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرے گی اور اس حوالے سے دو ہفتوں میں ایسا نظام لائے گی جس سے ان واقعات میں کمی آئے گی۔‘

ساتھ ہی عطا تارڑ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں میں ان کی حفاظت کے لیے شعور بیدار کریں اور انہیں بغیر نگرانی گھروں میں تنہا نہ چھوڑیں۔

صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے بتایا کہ مختلف مقدمات میں ملزمان کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

پنجاب میں ریپ کے واقعات ’باقی صوبوں سے زیادہ‘

اگر اعدادو شمار کی بات کریں تو پنجاب میں ریپ، گینگ ریپ اور بچوں کے ریپ کی شرح باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی 2021 میں شائع ہونے والی رپورٹ میں پولیس سے ملنے والے ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک بھر سے 5279 ریپ کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں گینگ ریپ بھی شامل ہے۔

ان میں سے پنجاب پولیس کی جانب سے فراہم کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق صوبے میں ریپ کے 4329 کیسز، گینگ ریپ کے 269 کیسز اور بچوں کے ریپ کے 193 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 

پنجاب پولیس کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق یکم جنوری 2022 سے 30 اپریل 2022 کے دوران صرف پنجاب میں ریپ کے 1185 کیسز رجسٹر ہوئے، 606 کا چالان ہوا، 474 زیر تفتیش ہیں جبکہ 205 کینسل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: ریپ انویسٹی گیشن یونٹ کے لیے نہ پیسے ہیں، نہ وسائل: پنجاب پولیس

ان ہی مہینوں کے دوران گینگ ریپ کے 75 کیس الگ سے رجسٹر ہوئے۔ ان میں سے 11 کا چالان ہوا، 27 زیر تفتیش ہیں اور 37 کینسل ہو گئے۔ 

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو فراہم کیے گئے اعدادو شمارکے مطابق: ’2019 میں ملک بھر سے بچوں پر جنسی تشدد کے مجموعی طور پر 2846 واقعات رپورٹ ہوئے جو  2018 کی نسبت 26 فیصد کم تھے۔‘

رپورٹ کے مطابق اس سال روزانہ آٹھ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ ان کیسز میں سے 53 فیصد کیس پنجاب سے رپورٹ ہوئے۔

2020 میں ملک بھر  سے 2960 بچے اور بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 58 فیصد پنجاب سے ہیں۔

2021 میں ملک بھر سے 2275 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 92 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس بار بھی سب سے زیادہ واقعات پنجاب سے رپورٹ ہوئے۔

انسانی و خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن سدرہ ہمایوں نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’ریپ کیسز میں ٹرینڈ نہیں ہوتا۔ اگر ایسے کیسز سامنے آرہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایسے کیسز کی رپورٹنگ زیادہ ہو رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کی ہی بات کریں تو یہاں ایسے کیسز کی رپورٹنگ زیادہ ہوتی ہے اور ذرائع ابلاغ و ترسیل کی وجہ سے خبر آسانی سے پہنچجاتی ہے جبکہ میڈیا میں بھی اب ایسی خبروں کے حوالے سے سیلف سینسرشپ کم ہے۔ پھر لوگ اب ظلم کو ظلم سمجھتے ہیں اور ریپ بھی ایک ظلم ہے، اسی وجہ سے رپورٹ ہو رہا ہے اور خاص طور پر پنجاب میں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرے خیال میں اس کی وجہ طاقت  کا عدم توازن اور کمزوری ہے۔ خاص طور پر اگر ہم حاملہ خواتین کی بات کریں تو ان کے لیے خطرہ زیادہ ہے کیونکہ وہ اپنی حفاظت کا اس طرح بندو بست نہیں کرسکتیں۔ وہ ایک آسان شکار ہوتی ہیں۔‘

 بقول سدرہ: ’اس طرح کے کسی بھی کیس کے بارے میں ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس کی وجہ یہ ہوگی، کیونکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ارد گرد ماحول کیا تھا، وہاں پر اس خاتون کے کمزور ہونے کے عناصر کیا تھے۔ کسی کا حاملہ ہونا خود اپنے دفاع میں کمزور ہونا ہے، اس وجہ سے ایسا واقعہ رونما ہوسکتا ہے لیکن اس کے حوالے سے تحقیق کرنا ضروری ہے۔‘

سدرہ کے خیال میں: ’ہمارے معاشرے میں عورت کا مقام اور مرتبہ گذشتہ پانچ سالوں میں بہت زیادہ نیچے چلا گیا ہے۔ عورت کو ایک سیکس آبجیکٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کی موجودگی ایک سیکس آبجیکٹ کے طور پر سمجھی جاتی ہے۔‘

اس حوالے سے عورت فاؤنڈیشن کی پنجاب کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر سارہ شیراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’گذشتہ برسوں میں ریپ کیسز کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں آگاہی آئی ہے اور بہت سی ہیلپ لائنز بھی متعارف کروائی گئی ہیں اس لیے لوگ اب ایسے کیسز کو رپورٹ کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ریپ تو ہوجاتا ہے، اس کے بعد اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن اصل بات تو تب ہے کہ ہم اس جرم کو رک سکیں۔ ہمارے پاس گذشتہ تین دہائیوں میں اس مسئلے کے حوالے سے بہت سے قوانین سامنے آئے لیکن ان پر عملدرآمد اس طرح نہیں ہو رہا، مجرم کو سزا نہیں ملتی اس لیے ایسے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔‘

بقول سارہ: ’صرف ہائی پروفائل کیس جیسے موٹر وے ریپ کیس میں ایکشن سامنے آتا ہے لیکن باقی کیسز میں انصاف بہت سست رفتار سے میسر آتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں بھی آغاز سے ہی جنسی تفاوت دکھاتے ہیں کہ مرد ابتر ہے۔ ہمیں جینڈر بیسڈ نصاب لانا ہوگا۔ پھر میڈیا پر بھی بعض اوقات عورت کو ایک آبجیکٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سب میں تبدیلی ہی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین