پاکستان: 10.7 کروڑ ڈالر قرض کی فرانس کو ادائیگی مؤخر

اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا ہے کہ اس قرضے کی ادائیگی جولائی تا دسمبر2021 کے دوران کی جانی تھی لیکن معاہدے پردستخط کے بعد اب یہ قرضہ آئندہ چھ سال میں ادا کیا جائے گا جس کے لیے ششماہی بنیاد پر اقساط ادا کی جائیں گی۔

پاکستان اور فرانس کے حکام 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کے واجب الادا قرضوں کو موخر کرنے کے معاہدے پر 27 جون 2022 کو اسلام آباد میں دستخط کرنے کے بعد ہاتھ ملا رہے ہیں (تصویر: حکومت پاکستان اقتصادی امور ڈویژن)

حکومت پاکستان کے اقتصادی امور کے ڈویژن نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں پیر کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی رو سے پاکستان کے 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے قرضے کی ادائیگی موخر ہوگئی ہے۔

ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’گروپ ٹوئنٹی کا قرضہ معطل کرنے کے اقدام‘ (ڈی ایس ایس آئی ) کے تحت پاکستان اور فرانس کے درمیان معاہدے پردستخط کردیے گئے ہیں۔

سلسہ وار ٹوئٹس میں اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا ہے کہ اس قرضے کی ادائیگی جولائی تا دسمبر2021 کے دوران کی جانی تھی لیکن معاہدے پردستخط کے بعد اب یہ قرضہ آئندہ چھ سال میں ادا کیا جائے گا جس کے لیے ششماہی بنیاد پر اقساط ادا کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں ایک سال کی چھوٹ بھی دی گئی ہے۔

اس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکریٹری برائے اقتصادی امور ڈویژن میاں اسد حیا الدین اور پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گالے نے پیر کو اسلام آباد میں دستخط کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ڈالر کی اڑان، شرح سود میں اضافہ: سیاسی بحران کے معیشت پر اثرات

ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان میں صحت کے شعبے اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے لیے بہت ضروری تھا۔

اقتصادی امور کے ڈویژن کی جانب سے جاری ذرگائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور  فرانس 26 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کے قرضوں کی ادائیگی کو معطل کرنے کے معاہدوں پر پہلے ہی ستخط کر چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت