’قبائلی اضلاع میں نرسوں کی بھرتیوں میں قبائلی نظرانداز‘

اعتراض کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے بھرتیوں میں قبائلی اضلاع کے امیدواروں کو نظر انداز کیا ہے اور بندوبستی اضلاع سے زیادہ امیدوار بھرتی کیے گئے ہیں۔

23 نومبر 2018 کی اس تصویر میں خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کے ایک ہسپتال میں طبی عملہ ایک مریض کو ہسپتال منتقل کر رہا ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ سے تعلق رکھنے والے الطاف داوڑ اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پشاور سیکریٹیریٹ کے چکر کاٹ رہے ہیں کیوں کہ انہیں قبائلی اضلاع میں نرسوں کی بھرتیوں میں منتخب نہیں کیا گیا۔

الطاف کا کہنا تھا: ’میں نے نرسنگ میں ڈگری حاصل کی ہے اور سات سال کا تجربہ بھی ہے۔ میں نے صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ملازمت بھی کی ہے لیکن قبائلی اضلاع کے لیے ہونے والی بھرتیوں میں مجھ سمیت سینکڑوں قبائلی اضلاع کے امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں شارٹ لسٹ کیا گیا تھا لیکن انٹرویو میں ان سے صرف ایک سوال پوچھا گیا اور اس کا تعلق بھی نرسنگ کے شعبے سے نہیں تھا۔

الطاف نے بتایا: ’مجھ سے صرف یہ پوچھا گیا کہ دل کے کتنے خانے ہوتے ہیں، جو بہت بچگانہ سوال تھا۔ میں نے اس کا جواب دیا اور اس کے بعد دوسرا سوال ہی نہیں کیا گیا لیکن بعد میں میری سلیکشن نہیں ہوئی۔ متعلقہ محکمے کی جانب سے امیدواروں کی مارکس شیٹ اور تعلیمی اہلیت کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں۔‘

پاکستان کے ضم شدہ اضلاع میں خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی جانب سے سینکڑوں نرسوں کی بھرتیوں پر ایک مرتبہ پھر قبائلی اضلاع کے لوگوں کی جانب سے اعتراض سامنے آیا ہے اور ان کے مطابق حکومت نے بھرتیوں میں قبائلی اضلاع کے امیدواروں کو نظر انداز کیا ہے۔

یہ بھرتیاں ایکسیلیریٹیڈ امپلی مینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت کی گئی ہیں اور ان نرسز کو قبائلی اضلاع کے مختلف مراکز صحت میں تعینات کیا گیا، جس کا نوٹیفیکشن (27جون) کو جاری کیا گیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے سرکاری دستاویزات کی مدد سے بھرتی ہونے امیدواروں کا شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں سے موازنہ کیا تاکہ اس کی شرح نکالی جاسکے۔

شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں میں سب سے زیادہ امیدوار سوات، لوئر دیر، شانگلہ، بونیر اور بنوں سے ہیں جس کی شرح 30 فیصد سے زائد ہے جبکہ قبائلی اضلاع میں کرم اور خیبر کے علاوہ کوئی بھی ایسا ضلع نہیں ہے جس میں شارٹ لسٹ امیدواروں میں سے سلیکٹ ہونے والوں کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہو۔

مجموعی طور پر 481 سیٹوں پر صرف 36 بھرتیاں قبائلی اضلاع کے امیدواروں سے جبکہ باقی ماندہ سارے امیدواران بندوبستی اضلاع سے بھرتی کیے گئے ہیں۔ ان بھرتیوں میں قبائلی اضلاع سے بھرتیوں کی شرح آٹھ فیصد (یعنی 100 میدواروں میں آٹھ قبائلی اضلاع سے) جبکہ بندوبستی اضلاع کی شرح 92 فیصد ہے یعنی ہر 100 میں سے 92 امیدوار بندوبستی اضلاع سے ہیں۔

ان بھرتیوں کے لیے سرکاری دستاویزات (جن کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) کے مطابق مجموعی طور پر دو ہزار 432 امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے ایک ہزار 738 افراد انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے تھے۔

قبائلی اضلائی سے مجموعی طور پر 464 جبکہ بندوبستی اضلاع سے مجموعی طور 1968 امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ قبائلی اضلاع سے 173 جبکہ بندوبستی اضلاع سے مجموعی طور 1565 امیدوار شارٹ لسٹ لسٹ کیے گئے تھے۔

شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کی شرح پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں بھی  آٹھ فیصد امیدوار یعنی ہر 100 میں سے آٹھ امیدوار قبائلی اضلاع سے جبکہ باقی 92 فیصد بندوبستی اضلاع سے شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں۔

کس ضلع سے کتنے امیدوار بھرتی کیے گئے؟

دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ درخواستیں سوات، لوئر دیر، بونیر، باجوڑ، چترال اور  شانگلہ سے موصول ہوئی تھیں۔

اگر بھرتی ہونے والے امیدواروں کی شرح کو دیکھا جائے تو شارٹ لسٹ امیدواروں میں بھی سب سے زیادہ بھرتیاں سوات، بونیر، لوئر دیر، ہنگو، شانگلہ اور سوات سے کی گئی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں قبائلی اضلاع کی شرح شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں میں بندوبستی اضلاع سے کم ہے۔

دستاویزات کے مطابق شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں میں سب سے زیادہ شرح شانگلہ کی ہے جو 34 فیصد ہے جس کے بعد سب سے زیادہ امیدوار سوات سے بھرتی کی گئے ہیں، جس کی شرح 33 فیصد ہے۔

اسی طرح لوئر دیر سے 32 فیصد، بونیر سے 33، ہنگو سے 33، کوہستان سے 28 فیصد، ملاکنڈ سے 29فیصد، ایف آر پشاور سے 28 فیصد جبکہ تورغر سے بھی شارٹ لسٹ امیدواروں میں سے بھرتی ہونے والوں کی شرح 33 فیصد ہے۔

اب اگر قبائلی اضلاع میں ان امیدواروں کے اعدادوشمار اور ان میں سے بھرتی ہونے والوں کی شرح پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ باجوڑ میں سے مجموعی طور پر 185 امیدواروں میں سے 87 شارٹ لسٹ ہوئے، جن میں سے صرف 20 امیدوار بھرتی کیے گئے ہیں او یہ تقریباً 23 فیصد بنتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح ضلع خیبر سے مجموعی طور پر 59 امیدواروں میں سے 20 امیدوار شارٹ لسٹ ہوئے اور اس میں سے صرف ایک امیدوار بھرتی کیا گیا ہے اور یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔

ضلع شمالی وزیرستان کی اگر بات کی جائے تو مجموعی طور 50 درخواستیں موصوئی ہوئی تھیں، جن میں سے 13 شارٹ لسٹ ہوئے اور اس میں صرف ایک امیدوار بھرتی کیا گیا ہے اور یہ شرح تقریباً سات فیصد بنتی ہے۔

جنوبی وزیرستان سے 28 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 10 امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے تھے، جن میں سے صرف تین بھرتی کیے گئے، جس کی شرح 30 فیصد بنتی ہے۔

ضلع اورکزئی سے مجموعی طور پر 14 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چھ شارٹ لسٹ ہوئے اور ان میں سے دو امیدوار سلیکٹ کیے گئے۔ یہ شرح 33 فیصد بنتی ہے۔

اسی طرح ضلع کرم سے مجموعی طور 110 امیدواروں میں سے 30 شارٹ لسٹ ہوئے، جن میں سے آٹھ امیدواروں کو سلیکٹ کیا گیا، جس کی شرح 26 فیصد بنتی ہے۔

ضلع مہمند سے مجموعی طور پر 18 درخواستیں موصول اور اس میں سے سات شارٹ لسٹ ہوئی تھیں اور اس میں سے دو امیدواروں کو سلیکٹ کیا گیا ہے اور یہ شرح 28 فیصد بنتی ہے۔ 

حکومت کا کیا موقف ہے؟

خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز شاہین آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے کہ شارٹ لسٹ امیدواروں میں سے بھرتی ہونے امیدواروں کی شرح میں بندوبستی اضلاع کے امیدوار زیادہ ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ان تمام بھرتیوں کے لیے خیبر پختونخوا کے ڈومیسائل رکھنے والے امیدوار اہل تھے اور بھرتیاں شفاف طریقے سے ہوئی تھیں۔ درخواستیں بندوبستی اضلاع سے زیادہ آئی تھیں تو بھرتیاں بھی ان ہی اضلاع سے زیادہ ہوئیں۔‘

شاہین آفریدی نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ شارٹ لسٹ امیدواروں میں قبائلی اضلاع کے امیدواروں سے بندوبستی اضلاع کے امیدار زیادہ اہل تھے، لہذا انہیں سلیکٹ کیا گیا۔

بھرتیوں کا یہ مسئلہ پچھلے دو سالوں سے سامنے آرہا ہے۔ دو سال قبل جب بھرتیوں کی لسٹ سامنے آئی تھی تو قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کی جانب سے اس پر اعتراض اٹھایا گیا تھا، جس پر حکومت نے ستمبر 2021 میں انکوائری کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی اور وزیر اعلیٰ نے اس رپورٹ کو تین ہفتوں میں مکمل اور پبلک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وہ رپورٹ پبلک نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے استفسار پر شاہین آفریدی نے جواب دیا کہ ’وہ رپورٹ تیار ہے لیکن ابھی تک پبلک نہیں ہوئی۔ ہم اسے پبلک کر دیں گے۔‘

شاہین سے جب پوچھا گیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ہے کیا؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ایک مسئلہ سامنے آیا تھا کہ 30، 40 امیدوار پہلی لسٹ میں تھے اور بعد میں بھرتی والی لسٹ میں موجود نہیں تھے، لیکن اب اسے حل کردیا گیا ہے۔‘

اسی طرح یہ بھی سامنے آیا تھا کہ بھرتی ہونے والے امیدواروں میں خواتین نرس بہت کم تھیں کیونکہ وہ مردوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکی تھیں۔ ان ہی تجاویز کی روشنی میں اب حکومت نے ایک پی سی ون تیار کیا ہے، جس پر عمل درآمد ہوگا۔

انہوں نے بتایا: ’اگلی مرتبہ اس طرح کی بھرتیوں میں پہلے قبائلی ضلع کے ڈومیسائل والے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی اور اگر وہاں سے کوئی نہیں ملا تو پھر کسی بھی قبائلی ضلع کے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی۔ ہم نے آئندہ کے لیے خواتین کا مخصوص کوٹہ بھی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

شاہین سے جب پوچھا گیا کہ شارٹ لسٹ امیدواروں میں سے قبائلی ضلع سے سلیکٹ ہونے والے امیدوار بہت کم ہیں تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس بھرتی کے عمل میں سارے مارکس تعلیمی اہلیت اور تجربے پر ملتے ہیں، جس کے 100 میں 92 مارکس ہیں جبکہ باقی آٹھ مارکس صرف انٹرویو کے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’سارا دارومدار تعلیمی اہلیت اور تجربے پر ہوتا ہے اور اس بھرتی میں بھی پراجیکٹ کے پی سی ون کے مطابق اور اہلیت کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ ہم نے بھرتی ہونے والے امیدواروں کو دفتر جوائن کرنے کا کا کہا ہے اور اب  سلیکٹ ہونے امیدواروں نے جوائننگ بھی شروع کردی ہے۔‘

اے آئی پی پروگرام کیا ہے؟

قبائلی اضلاع میں چار سو سے زائد نرسز  اے آئی پی کے پراجیکٹ کے تحت بھرتی کیے گئے ہیں۔ یہ پروگرام خیبر پختونخوا حکومت کی قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے اقدامات میں سے ایک ہے، جس میں یونائیٹڈ نیشن ڈولپمنٹ پروگرام تکنیکی سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کا پہلا فیز رواں سال یعنی 2022 تک ہے جبکہ دوسرا فیز رواں ماہ سے حکومت نے شروع کیا ہے جو آئندہ تین سال تک جاری رہے گا، جو صحت، انفرا سٹرکچر، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ہوگا۔

اس ملازمت کی اہلیت کیا تھی؟

قبائلی اضلاع میں اے آئی پی پروگرام کے تحت نرسوں کی بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا تھا، جس کے تحت باجوڑ میں مجموعی طور پر 100، مہمند میں پانچ، خیبر میں 96، کرم میں 105، اورکزئی میں چار، شمالی وزیرستان میں 68 اور جنوبی وزیرستان میں 103 خالی اسامیوں پر تعیناتی کی جائے گی۔

اشتہار کے مطابق ملازمت کے لیے اہلیت نرسنگ میں چار سالہ ڈگری یا جنرل نرسنگ میں ڈپلومہ سمیت ایک سال ڈگری لینے کے بعد سپیشلائزڈ نرسنگ کا تجربہ شامل تھا اور یہ بھرتی ایک سال کنٹریکٹ پر ہوگی، جس کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے اور سکیل 16کے برابر ہوگا۔

اسی طرح اہلیت کی شرائط میں لکھا گیا تھا کہ اس پوسٹ کے لیے خیبر پختونخوا سمیت قبائلی اضلاع کے ڈومیسائل ہولڈرز درخواست دے سکتے ہیں تاہم قبائلی اضلاع کے امیدواروں کی ترجیح دی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین