سری لنکا: دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی ہار، سیریز برابر

سری لنکا نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 246 رنز سے ہرا کر دو میچوں کی سیریز ڈرا کر دی۔

پاکستان کے کپتان بابر اعظم 28 جولائی، 2022 کو گال ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں آؤٹ ہونے کے بعد میدان سے باہر جا رہے ہیں (اے ایف پی)

ٹیسٹ کرکٹ میں رنز بنانے سے زیادہ اہم وکٹ پر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ جتنا ایک بلے باز صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے اتنا ہی اس کی اننگز مستحکم ہوتی ہے۔

اسی لیے ایسے بلے بازوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو توجہ، انہماک اور تحمل کے ساتھ کھیل سکیں۔ تاہم اگر کوئی ٹیم ٹیسٹ میچوں کے لیے اپنے کھلاڑیوں کا انتخاب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بنیاد پر کرے تو نتیجہ گال میں ختم ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ہار کی صورت میں نکلتا ہے۔

سری لنکا نے آج پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 246 رنز سے ہرا کر دو میچوں کی سیریز ڈرا کر دی۔

پاکستان نے اگرچہ گال میں پہلا ٹیسٹ میچ جیت لیا تھا لیکن شاید وہ بھول گئے کہ پہلے ٹیسٹ میں شکست کی بڑی وجہ ٹیم کے انتخاب میں غلطیاں تھیں اور یہی غلطیاں دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی سرزد ہوئیں۔

پاکستان نے اس ٹیسٹ میچ میں مستند بلے بازوں پر آل راؤنڈرز کو ترجیح دی، جس کا نقصان اٹھانا پڑا۔

گال کی پچ پر سپنرز کو مدد ملتی ہے اور گیند پچ پر پڑنے کے بعد اپنا رخ خود متعین کرتی ہے جس کو سمجھنے کے لیے اچھے مستند بلے باز کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

پاکستانی بیٹنگ نے، جس کی چوتھی اننگز میں ہدف کے تعاقب کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں، چند روز قبل ایک بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب کیا تھا۔

اس لیے توقع تھی کہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں 508 رنز کے تعاقب میں اگر فتح نہیں تو شکست بھی نہیں ہوگی لیکن بلے بازوں کی گھبراہٹ اور بدحواسی نے ابتدا سے عیاں کر دیا کہ نتیجہ ہار کی صورت میں آ سکتا ہے۔

پاکستان نے جمعرات کو سری لنکا کے خلاف آخری اننگز میں 508 رنز کے ہدف کے جواب میں آخری دن بیٹنگ شروع کی تو اس کی نو وکٹیں باقی تھیں۔

پہلے ٹیسٹ کے ہیرو عبداللہ شفیق گذشتہ روز ایک غیر ضروری اونچا شاٹ لگاتے ہوئے آؤٹ ہوگئے تھے۔ امام الحق ایک دفعہ پھر ناکام ہوگئے۔ آج سب سے پہلی وکٹ ان کی صورت میں گری۔ ان سے ایک بڑی اننگ کی توقع تھی۔

بابر اعظم جو ماضی میں کئی بار اکیلے ہی پوری اننگز کا بوجھ اٹھا چکے ہیں اس مرتبہ ٹیم کو منزل مقصود تک پہنچانے میں ناکام رہے۔

تاہم انھوں نے پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز کا سب سے بڑا انفرادی سکور 81 رنز بنائے۔ محمد رضوان نے بابر کا کسی حد تک ساتھ دیا اور 79 رنز کی شراکت بھی کی لیکن میچ نہیں بچا سکے۔

پاکستان کے بقیہ بیٹنگ سخت بدحواسی کا شکار رہی۔ فواد عالم ایک غیر ضروری رن لیتے ہوئے رن آؤٹ ہوگئے۔ وہ چند منٹ ہی کریز پر ٹھہر سکے۔

سلمان آغا نے اگرچہ پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ کی تھی لیکن بوقت ضرورت ناکام رہے۔ محمد نواز نے پوری سیریز غیر ذمہ داری سے کھیلی۔

پاکستان کی آخری پانچ وکٹیں صرف 80 رنز پر گر گئیں۔ سری لنکا کے 508 رنز کے ہدف کے جواب میں لنچ سے کچھ دیر بعد پوری ٹیم 261 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئ اور یوں پاکستان 246 رنز سے ہار گیا۔

سری لنکا کی طرف سے پربتھ جے سوریا اور رمیش مینڈس نے پوری ٹیم کا صفایا کردیا۔ دونوں نے بالترتیب پانچ اور چار وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کو سیریز 1-1 سے برابر کرنے کا موقع دیا۔

جے سوریا نے سیریز میں 17 وکٹیں لے کر بہترین بولر کا اعزاز حاصل کیا جبکہ چندی مل اور بابر اعظم 271 رنز کے ساتھ بہترین بلے باز ٹھہرے۔

غلطی کہاں ہوئی

پاکستان نے ٹیم سلیکشن میں غلطی کرتے ہوئے اظہر علی جیسے تجربہ کار بلے باز کو ڈراپ کیا اور ان کی جگہ اس بلے باز کو شامل کیا جن کو خراب کارکردگی پر پہلے ٹیسٹ میں نہیں کھلایا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شان مسعود، جو بہترین فارم میں ہیں، اگر کھلائے جاتے تو نتیجہ بدل سکتا تھا۔ پاکستانی ٹیم مینیجمنٹ نے انہیں یکسر نظر انداز کیا۔ 

مستند بلے بازوں پر آل رؤنڈرز کو ترجیح دینا غلطی تھی۔  اگر نعمان علی کی جگہ سعود شکیل کو کھلایا جاتا تو بہتر ہوتا۔

حسن علی یکسر ناکام رہے، ان کی بولنگ اب بوجھ بننے لگی ہے البتہ نسیم شاہ نے متاثر کیا۔ شاہین شاہ آفریدی کی کمی نے بھی ٹیم کی بولنگ کو متاثر کیا۔

سیریز میں پاکستانی بیٹنگ نشیب وفراز کا شکار رہی۔ بابر اعظم کے علاوہ کوئی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔ زیادہ تر بلے باز کسی منصوبہ بندی کے بغیر کھیلتے نظر آئے۔

سری لنکا کا ذمہ دارانہ کھیل

میزبان ٹیم نے ایک ٹیسٹ ہارنے کے بعد ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں دھنجایا ڈی سلوا کی ذمہ دارانہ سنچری نے موقع دیا کہ ایک بڑا سکور کھڑا ہو سکے۔ انہوں نے کورونارتنے کی غیر موجودگی میں عمدہ کپتانی کی۔

بولنگ میں میزبان بولرز نے زیادہ تجربے کرنے کی بجائے ایک ہی جگہ بولنگ کی اور پاکستانی بلے بازوں کو قابو میں رکھا۔

پاکستان کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ غیر معیاری رہی۔ پہلی اننگز کی خراب بیٹنگ نے دوسری اننگز میں پہاڑ جیسا ہدف سامنے رکھ دیا۔ بابر اعظم پر ضرورت سے زیادہ بیٹنگ کا بوجھ ڈالنا بھی شکست کا باعث بنا۔

پاکستان کی تنزلی

گال ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستان 56 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر آگیا جبکہ سری لنکا نے تیسری پوزیشن کو مستحکم کیا۔

پاکستان کے پاس اب فائنل تک پہنچنے کے لیے صرف دو سیریز رہ گئی ہیں جو انہیں جیتنا ہوں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ