یوم آزادی پر مودی کی لال قلعے پر تقریر، پتنگ بازوں سے مدد طلب

آوارہ پتنگوں کو وزیر اعظم کی تقریر کے دوران لال قلعے کے اندر گرنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس نے 231 پتنگ بازوں سے مدد مانگی ہے۔

2016 کو دہلی میں ایک دکان پر لگی پتنگیں جن پر نریندر مودی کی تصاویر لگی ہیں(اے ایف پی)

اس سال 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقعے پر دہلی کی پولیس امید کر رہی ہے کہ لال قلعے کا آسمان آوارہ پتنگوں سے آزاد ہوگا۔

بھارت کے دارالحکومت میں یوم آزادی کے موقعے پر وزیر اعظم کے قوم سے خطاب اور پرچم کشائی کی تقریب کے دوران لال قلعے کے اندر آوارہ پتنگوں کو گرنے سے روکنے کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے حفاظتی انتظامات میں پولیس نے 231 پتنگ بازوں سے تعاون طلب کیا ہے۔

بھارتی اخبار دا انڈین ایکسپریس کے مطابق اس کا مقصد شہر کے اس گنجان آباد علاقے کو اس صبح تقریباً تین گھنٹے تک صاف آسمان کو یقینی بنانا ہے۔

دہلی کے شمالی ضلع میں، جہاں لال قلعہ واقع ہے، پولیس نے چھتوں پر 350 مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ان کے اہلکار آوارہ پتنگوں کو چھیننے کے لیے بانس لے کر جائیں گے۔

ایک موقعے پر پولیس نے پتنگوں کی ڈوریں پکڑنے کے لیے ہنر مند پتنگ بازوں کی مدد حاصل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد کو روک دیا گیا۔

ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق نئی دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ کو اس اقدام کے بارے میں بتایا گیا جب انہوں نے پیر کو چارج سنبھالنے کے بعد یوم آزادی کے لیے فورس کی تیاریوں کے بارے میی تفصیل مانگی۔

’فوری طور پر، شمالی اور وسطی ضلع کے DCPs، اور DCP (سکیورٹی ڈویژن) سے کہا گیا کہ وہ اپنی پریزنٹیشنز کے ساتھ آئیں۔

انہوں نے پولیس چیف کو مطلع کیا کہ انہوں نے اپنے علاقے کے تمام ہنرمند پتنگ بازوں کی شناخت کر لی ہے اور وہ انہیں 15 اگست کو صبح چھ سے نو بجے تک استعمال میں لائیں گے۔‘

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یوم آزادی کی تقریب کے دوران لال قلعے کے قریب پتنگیں اڑانے پر آئی پی سی کی دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو دفعہ 188 (سرکاری احکامات کی نافرمانی) کے تحت کارروائی کا سامنا رہے گا۔

2018 میں ایک پتنگ وزیر اعظم نریندر مودی کے قریب ان کی تقریر کے دوران گر گئی اور پچھلے سال ایک اور پتنگ تقریب کے دوران لال قلعے کے اندر ایک درخت پر اٹکی۔ دونوں واقعات کو سکیورٹی لیپس سمجھا جاتا تھا۔

ڈی سی پی (شمالی ضلع) ساگر سنگھ کالسی نے کہا کہ وہ پتنگ بازی کرنے والوں کے ساتھ مصروف ہیں اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے رہائشی فلاحی انجمنوں اور مارکیٹ ویلفیئر گروپس کی مدد بھی لے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے ان پتنگ بازوں سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ان کے ساتھ ہم 15 اگست کو صبح چھ سے نو بجے تک پتنگ نہ اڑانے کے بارے میں بیداری پیدا کریں گے۔‘

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی ضلع میں 231 پتنگ بازی کرنے والوں کی شناخت کی گئی ہے۔ اس دوران مرکزی ضلعی پولیس اپنے دائرہ اختیار میں سروے مکمل کر رہی ہے۔

سینتیس سالہ محمد شارق نے، جو صدر بازار کے علاقے میں رہتے ہیں، انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’میرا چھوٹا بھائی باقاعدہ پتنگ بازی کرتا ہے لیکن ہم دونوں نے پولیس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’ہم نے اپنے علاقے کے دیگر باقاعدہ پتنگ بازوں کے ساتھ صدر بازار پولیس سٹیشن میں اجلاس میں شرکت کی۔ ہم نے 15 اگست کی صبح 11 بجے تک اپنے علاقے میں دوسروں کو پتنگ بازی سے روکنے کے لیے کئی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

’ابتدائی طور پر ہم اپنی پتنگوں کو دوسری پتنگیں کاٹنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کر رہے تھے لیکن سینیئر افسران نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔‘

ایک اور 45 سالہ پتنگ باز محمد صلاح الدین نے، جو فصیل والے شہر کے علاقے میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتے ہیں، کہا، ’ہم نے اپنے علاقوں میں اعلانات کرنا شروع کر دیے ہیں کہ 15 اگست کو پتنگ بازی میں حصہ نہ لیں۔ میں نے ایک آل انڈیا پتنگ بازی میں شرکت کی ہے۔ بھوپال میں پرواز… لیکن اب ہم پولیس کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا